پلاسٹک کے یہ ننھے ذرات اب دنیا کے تقریباً ہر خطے کی فضا، مٹی اور حیاتیاتی نظاموں میں دریافت ہو چکے ہیں جن میں آرکٹک اور انٹارکٹک جیسے انتہائی دور دراز علاقے بھی شامل ہیں۔
پلاسٹک
محققین کا کہنا ہے کہ فولاد یا شیشے کی بوتلیں اور بی پی اے سے پاک کین استعمال کرتے ہوئے جسم میں جانے والی بی پی اے کی مقدار کم کر کے ذیابیطس کے خطرے میں کمی لائی جا سکتی ہے۔