سندھ میں پلاسٹک بیگز پر تیسری بار پابندی: کیا عمل درآمد ہو پائے گا؟

پلاسٹک بیگ فروخت کرنے والے بیوپاری کہتے ہیں کہ مکمل پابندی لگانا حکومت کے لیے ممکن نہیں بلکہ اس اعلان سے کچھ دیر کے لیے صرف پلاسٹک کے تھیلوں کی قیمتوں میں ہی اضافہ ہوگا۔

کراچی میں 14 مئی 2018 کو ایک شخص کچرے کے ڈھیر سے ری سائیکل کرنے والی اشیا جن رہا ہے (اے ایف پی)

سندھ حکومت نے صوبے بھر میں پلاسٹک کی تھیلیوں پر تین سال میں تیسری بار مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے بیرون ملک سے پلاسٹک بیگ بنانے کا خام مال درآمد کرنے والوں اور پلاسٹک بیگ بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف مہم چلانے کا اعلان کیا ہے۔

تاہم پلاسٹک بیگ فروخت کرنے والے بیوپاری کہتے ہیں کہ مکمل پابندی لگانا حکومت کے لیے ممکن نہیں بلکہ اس اعلان سے کچھ دیر کے لیے صرف پلاسٹک کی تھیلیوں کی قیمتوں میں اضافہ ہی ہوگا۔

اگست 2019 میں اس وقت کے مشیر ماحولیات سندھ اور حکومتی ترجمان بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے اعلان کیا تھا کہ صوبے بھر میں پلاسٹک کی تھیلیوں کی تیاری، فروخت اور استعمال پر مکمل پابندی ہوگی۔ اس اعلان پر مکمل عمل درآمد اکتوبر 2019 میں ہونا تھا۔ مگر ایسا ہو نہیں سکا۔

اس وقت محکمہ ماحولیات سندھ کی جانب سے پلاسٹک کی تھیلیوں پر پابندی سے متعلق آگاہی مہم کا آغاز وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ایک تصویر جاری کرکے کیا گیا جس میں وہ وزیراعلیٰ ہاؤس کے لان میں کپڑے کا تھیلا پکٹرے کھڑے ہیں۔

پلاسٹک پر پابندی کا دوسرا اعلان ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حیثیت سے مرتضیٰ وہاب  نے مئی 2022 میں کیا تھا جب بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے پلاسٹک پر بابندی کے متعلق پیش کی گئی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے انہوں نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی اس قراداد پر عمل درآمد کیا جائے۔ تاہم پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال جوں کا توں ہی رہا۔

ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب نے چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت کے ساتھ ایک اجلاس میں تین اگست کو ایک بار پھر  پلاسٹک بیگ پر پابندی کے حوالے سے اعلان کیا۔

 انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کی تھیلیاں ماحولیاتی آلودگی کا سبب ہیں اور ان تھیلیوں کے باعث برساتی نالے بند ہو جاتے ہیں۔

چیف سیکریٹری سندھ ڈاکٹر محمد سہیل راجپوت نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ، پولیس اور کے ایم سی پلاسٹک بیگ بنانے اور فروخت کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے گی اور ممنوعہ پلاسٹک کی تھیلیاں بنانے والی فیکٹریوں کو سیل کیا جائے گا۔

پلاسٹک بیگز پر پابندی پر عمل کیوں نہیں ہوسکا؟

پلاسٹ بیگ کے حوالے سے تین بار اعلانات پر جب ہم نے ایڈمنسٹریٹر کراچی مرتضیٰ وہاب سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ پہلے اعلانات پر عمل درآمد نہ ہو سکا لیکن حکومت نے ہار نہیں مانی ہے۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’اس بار چیف سیکریٹری کے ساتھ اجلاس اس لیے بھی بلایا گیا تاکہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے تمام محکمے، تمام اسسٹنٹ کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز، ڈسٹرکٹ میونسیپل کارپوریشنز، پولیس اور تمام محکمے مل کر سندھ حکومت کے اس اعلان پر عمل درآمد کرا سکیں۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’اس کے علاوہ پلاسٹک بنانے کے لیے خام مال ایران سے بذریعہ بلوچستان سندھ میں لایا جاتا ہے، اس کو بھی روکنا ضروری ہے۔ اس پر بھی کام ہوگا اور جلد ہی صوبے میں پلاسٹک بیگ پر مکمل پابندی لگائی جائے گی۔‘ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جب ان سے پوچھا گیا کہ پلاسٹک بیگ پر مکمل پابندی کے بعد روزمرہ کی زندگی میں پلاسٹک بیگ کی متبادل کے طور پر سندھ حکومت نے کیا سوچا ہے؟ تو انہوں نے کہا: ’جب پلاسٹک بیگ پر مکمل پابندی لگے گی تو مارکیٹ میں متبادل کی بھی ڈمانڈ ہوگی تو کوئی نہ کوئی متبادل تو آئے گا۔‘ 

قیمت میں اضافے کا خدشہ

کراچی کے علاقے لیاری میں کام کرنے والے پلاسٹک بیگز کے ہول سیل کے ایک بیوپاری نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کراچی میں نہ صرف پلاسٹک کی تھیلیاں بلکہ کئی دیگر اقسام کی اشیا بھی بنتی ہیں اور یہ اشیا اور پلاسٹک بیگ کراچی سے پورے پاکستان میں بھیجے جاتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: ’پلاسٹک کی اشیا خاص طور پر پلاسٹک کی تھیلیوں کا استعمال معمولات زندگی میں عام ہے، جب تک اس کا کوئی متبادل نہیں آتا ان پر پابندی لگانا ممکن نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ حکومتی اعلان کے بعد حکام اور پولیس کچھ دن کے لیے پکڑ دھکڑ کرتے ہیں، جس سے تھیلیوں کی پیدوار اور فروخت کچھ دن کے لیے بند ہوجاتی ہے۔ اس سے تھیلیوں کی قیمت میں کچھ اضافہ ہوجاتا ہے۔ مگر کچھ دن بعد یہ کام دوبارہ شروع ہوجاتا ہے۔

کراچی کے کچرے میں روزانہ کتنا پلاسٹک ہوتا ہے؟ 

حکومت سندھ کی جانب سے کراچی شہر میں کچرا اٹھانے اور اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے قائم کردہ سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ کے اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں روزانہ پلاسٹک کی تھیلیوں سمیت ایسے پلاسٹک جس کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا کی مقدار 1800 سے 2000 ٹن ہے۔ 

سندھ سالڈ ویسٹ مینیجمنٹ بورڈ ایگزیکٹو ڈائریکٹر طارق علی نظامانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’کراچی کے تمام اضلاع بشمول ضلع جنوبی، ملیر، ضلع، کورنگی، کراچی شرقی اور ضلع کراچی غربی میں روزان 11 سے 12 ہزار ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، جس میں سے 50 فیصد بورچی خانے کا کچرا ہوتا ہے، جیسے سبزیوں اور پھلوں کے چھلکے، چائے کی پتی، سوکھی روٹی، چاول، ہڈیاں وغیرہ شامل ہیں۔‘

ان کے مطابق 35 فیصد ایسا کچرا ہوتا ہے جس کو دوبارہ سے استعمال کیا جاسکتا ہے، جیسے گتہ، کاغذ، شیشا، لوہا وغیرہ، جبکہ تقریباً 15 فیصد (2000 ٹن تک) پلاسٹک کی تھیلیاں یا ایسا پلاسٹک ہوتا ہے، جس کو دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ 

سندھ میں پلاسٹک کے بے جا استعمال کو روکنے یا اس پر پابندی عائد کرنے لیے مجاز سرکاری شعبہ سندھ انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی یا سیپا ہے۔ مگر سیپا کی جانب سے پلاسٹک کے متعلق اب تک کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔

اس سلسلے میں سیپا حکام کا موقف جاننے کے لیے ڈائریکٹر جنرل سیپا نعیم احمد مغل سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات کرنے سے انکار کردیا کہ ’سندھ حکومت نے ہمیں سختی سے میڈیا سے بات کرنے سے منع کردیا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات