مردوں میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت کم کیوں ہو رہی ہے؟

موٹاپے سے لے کر ہارمونز کے عدم توازن اور جینیاتی امراض تک کثیر عناصر افزائش نسل کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

سال 1992 کے ایک جائزے کے مطابق گذشتہ 60 برس کے دوران مردوں کے سپرم کی تعداد میں عالمی سطح پر 50 فیصد کمی آئی ہے(پکسابے)

سپرم کی تعداد میں کمی پر تحقیق کرنے والے ابتدائی محققین میں سے ایک ڈاکٹر نیلز سکاکیبائک نے مردانہ افزائش نسل کی صلاحیت میں کمی کو ’ہم سب کے لیے خطرے کی گھنٹی‘ قرار دیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میرے مریضوں نے مجھے ایک راستہ دکھایا ہے، میرے لیے گھنٹی بجائی کہ عالمی سطح پر آج اور کل افزائش نسل کی صحت برقرار رکھنے کے لیے عوام میں آگاہی پھیلانا اور اس کے حق میں بات کرتا ضروری ہے۔ میں علم سموم کا ماہر نہیں اور تولیدی صلاحیتوں میں کمی کے جو رجحانات دیکھ رہا ہوں ان کا سبب شناخت نہیں کر سکتا لیکن بطور معالج مجھے تشویش ہے کہ انسانی جسم اور وہ افراد جو میرے مریض بنتے ہیں وہ سب اس نقصان کی زد میں آ رہے ہیں۔‘

ان کے مطابق امریکہ میں کم و بیش ہر آٹھ میں سے ایک جوڑا بانجھ پن سے نجات حاصل کرنے کے لیے تگ و دو کرتا ہے۔ بدقسمتی سے میرے جیسے افزائش نسل کے شعبے کے ماہر معالجین تقریباً 30 فیصد سے 50 فیصد تک کے مواقع پر مردانہ تولیدی صلاحیت کی کمی کا سبب متعین کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔

شاید اس سے زیادہ دل شکن بات کوئی دوسری نہیں کہ آپ کو کسی جوڑے سے کہنا پڑے کہ ’میں نہیں جانتا‘ یا ’میں آپ کی کسی طرح کی کوئی مدد نہیں کر سکتا۔‘

یہ خبر ملتے ہی ایک کے بعد دوسرا جوڑا مجھ سے جو سوالات کرتا ہے وہ تمام ملتی جلتی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں۔ ’اس کے کام، اس کے موبائل، ہمارے لیپ ٹاپ، ان سب پلاسٹک کی اشیا کے متعلق کیا خیال ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان کا اس معاملے میں کردار ہو سکتا ہے؟‘

میرے مریض مجھ سے جو سوال پوچھ رہے ہیں وہ مردوں کی افزائش نسل کی صلاحیت سے متعلق ایک بڑا سوال ہے: کیا ماحولیاتی زہریلا پن مردوں کی افزائش نسل کی صلاحیت پر اثر انداز ہوتا ہے؟

مردوں کی افزائش نسل کی صلاحیت میں کمی

جوڑوں کے مسلسل ایک سال تک مباشرت کے باوجود حاملہ نہ ہو سکنے کی عدم اہلیت کو بانجھ پن کہا جاتا ہے۔ جب یہ صورت حال ہو تو ڈاکٹر صاحبان دونوں جوڑوں کی صلاحیت کا اندازہ لگاتے ہیں تاکہ وجہ کا تعین کیا جا سکے۔

مردوں کی جنسی زرخیزی جانچنے کا بنیادی ترین ذریعہ مادہ منویہ کا تجزیہ ہے اور سپرم کا جائزہ لینے کے کئی طریقے ہیں۔ سپرم کاؤنٹ، مرد کے سپرم کی مجموعی تعداد اور سپرم کنسنٹریشن، سیمن میں فی ملی لیٹر سپرم کی تعداد زیادہ عام ہیں لیکن یہ زرخیزی کے بہترین آئینہ دار نہیں۔ ایسا لگتا ہے تمام متحرک سپرم کو شمار کرنا زیادہ بہتر پیمانہ ہے جس سے سپرم کے ان چند اجزاء کا اندازہ ہوتا ہے جو تیرنے اور آگے پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

موٹاپے سے لے کر ہارمونز کے عدم توازن اور جینیاتی امراض تک کثیر عناصر افزائش نسل کی صلاحیت پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ بہت سے مردوں کے لیے ایسے علاج موجود ہیں جو ان کی خامیاں دور کرتے ہیں۔ لیکن محقیقین نے 1990 کی دہائی سے ایک تشویش ناک رجحان دیکھا ہے۔ خطرے کے معلوم عوامل میں سے اکثریت پر قابو پانے کے باوجود مردوں کی افزائش نسل کی صلاحیت کئی دہائیوں سے زوال کا شکار ہے۔

سال 1992 کے ایک جائزے کے مطابق گذشتہ 60 برس کے دوران مردوں کے سپرم کی تعداد میں عالمی سطح پر 50 فیصد کمی آئی ہے۔ آئندہ برسوں میں مختلف جائزوں نے اس ابتدائی نتیجے کی تصدیق کی جن میں 2017 کا ایک تحقیقی مضمون بھی شامل تھا جس کے مطابق 1973 اور 2011 کے دوران دنیا بھر کے مردوں کے سپرم کے گھنے پن میں پچاس سے ساٹھ فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے۔

اگرچہ یہ جائزے اہم تھے لیکن انہوں نے ساری توجہ سپرم کے گھنے پن یا سپرم کی مجموعی تعداد جاننے پر مرکوز رکھی۔ سو 2019 میں محققین کی ایک ٹیم نے زیادہ قابل اعتماد طریقے متحرک سپرم کی مجموعی تعداد جاننے کا فیصلہ کیا۔ وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ گذشتہ 16 برسوں کے دوران مردوں میں متحرک سپرم کی مجموعی تعداد کے عمومی تناسب میں تقریباً 10 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔

سائنسی نتائج یکساں نکل رہے ہیں کہ آج مردوں کے سپرم ماضی کی نسبت تعداد میں کم اور صحت میں کمزور ہیں۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بانجھ پن کا سبب کیا چیز ہوگی۔

ماحولیاتی زہریلا پن اور افزائش نسل

 کم از کم جانوروں پر کیے گئے تجربات کی حد تک سائنس دانوں کے علم میں یہ بات کئی برسوں سے ہے کہ ماحولیاتی زہریلا پن ہارمونز کے عدم توازن کا باعث بن سکتا ہے اور افزائش نسل کی صلاحیت کا خاتمہ کر سکتا ہے۔ محقیقین ارادتاً بیمار انسانوں کو نقصان دہ احاطوں میں نہیں جھونک سکتے اور اس طرح برآمد ہونے والے نتائج کا مشاہدہ نہیں کر سکتے مگر ہم باہمی تعلق کو جاننے کی کوشش تو کر سکتے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جیسے ہی مردانہ جنسی زرخیزی میں زوال کا رجحان شروع ہوا میں نے اور دیگر محقیقین نے جواب کی تلاش کے لیے ماحول میں کیمیائی مادوں کی موجودگی کا مزید توجہ سے مشاہدہ شروع کر دیا۔ اس طریقہ کار نے ہمیں یقینی طور پر یہ تعین کرنے کی آزادی تو نہیں دی کہ کونسے کیمیائی مادے مردانہ افزائش نسل کی صلاحیت کو متاثر کر رہے ہیں لیکن شواہد کی تعداد میں اضافہ ضرور ہوا ہے۔

اس تحقیق کا زیادہ تر حصہ اینڈوکرائن نظام میں ہونے والی مداخلت پر مبنی تھا، مالیکیولز جو جسمانی ہارمونز میں بدلتے ہوئے افزائش نسل کے نازک ہارمونز کے توازن کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ ان میں پلاسٹسائزرز کے نام سے معروف کیڑے مار ادویات، نباتات کش ادویات، بھاری دھاتیں، زہریلی گیسیں اور دیگر کیمیاوی طور پر تیار کردہ مواد شامل ہیں۔

زیادہ تر پلاسٹک کی اشیا میں پلاسٹسائزر پایا جاتا ہے جیسا کہ پانی کی بوتلیں اور خوراک کے ڈبے اور ان کی موجودگی ٹیسٹوسٹیرون اور سیمن کی صحت پر منفی اثرات کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ نبات کش اور کیڑے مار ادویات خوراک کی ذخیرہ اندوزی اور دیگر چیزوں میں بکثرت استعمال کی جاتی ہیں، خاص طور پر مصنوعی نامیاتی مرکبات جن کے ساتھ فاسفورس بھی شامل ہو وہ افزائش نسل کی صلاحیت پر منفی اثرات کا باعث تصور کیے جاتے ہیں۔

فضائی آلودگی نے شہروں کو گھیر رکھا ہے جس کی وجہ سے رہائش پذیر افراد سلفر ڈائی آکسائیڈ، نائٹروجن آکسائیڈ اور دیگر مرکبات کا نشانہ بن رہے ہیں جو ممکنہ طور پر غیر متوازن سپرم کوالٹی کا سبب بنتے ہیں۔ لیپ ٹاپ، موبائل فون اور موڈیم سے خارج ہونے والی تابکار شعاعیں بھی سپرم کی تعداد میں کمی، سپرم کی حرکت میں کمزوری اور سپرم کی معمول سے ہٹ کر شکل اختیار کرنے کا سبب شمار کی جاتی ہیں۔ کیڈمیئم، سیسہ اور سنکھیا جیسی بھاری دھاتیں بھی خوراک، پانی اور کاسمیٹکس میں موجود ہیں اور سپرم کمزور کرنے کا باعث گردانی جاتی ہیں۔


اینڈوکرائن نظام میں مداخلت کرنے والے مرکبات اور بانجھ پن کے جن مسائل کا وہ سبب بن رہے ہیں وہ انسان کی جسمانی اور جذباتی صحت پر نہایت منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اور ان نقصانات کا علاج بہت مہنگا ہے۔

بے ضابطہ کیمیکلز کے اثرات

بے شمار کیمیکلز آج کل زیر استعمال ہیں اور ان سب کا کھوج لگانا نہایت مشکل ہے۔ امریکہ میں اندراج شدہ کیمیکلز کی تعداد اسی ہزار سے زائد ہے اور ہر سال تقریباً دو ہزار نئے کیمیکلز متعارف ہو رہے ہیں۔ بہت سے سائنس دانوں کا خیال ہے کہ صحت اور ماحول کو درپیش خطرات کو جانچنے کا عمل زیادہ سخت نہیں اور نئے کیمیکلز کی مسلسل ترقی اور رونمائی کے سبب اداروں کی انسانی صحت پر مرتب ہونے والے طویل مدتی اثرات کا جائزہ لینے کی صلاحیتیں بھی سوالات کی زد میں ہیں۔

امریکہ کے موجودہ قوانین جب تک جرم ثابت نہ ہو تب تک بے گناہی کے اصول پر کاربند ہیں اور اس طرح کے قوانین جیسا کہ یورپ میں ہیں اس کے مقابلے میں کم جامع اور نرم ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت نے حالیہ عرصے میں محض معمولی مقدار میں ایسے مرکبات کا جائزہ لینے کے بعد نشاندہی کی کہ ان میں سے آٹھ سو مرکبات ہارمونز تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایک تجارتی گروپ دی امریکن کیمسٹری کونسل اپنی ویب سائٹ پر کہتا ہے کہ انہیں تیار کرنے والے (مینوفیکچررز) ’اختراع، ترقی، ملازمتوں کی گنجائش اور اور عالمی منڈی میں ظفریاب ہونے کے لیے درکار قانونی یقین دہانی اور اس کے ساتھ ساتھ صحت عامہ اور ماحولیاتی فوائد کے نہایت موثر حفاظتی اقدامات رکھتے ہیں۔‘

لیکن حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے موجودہ انضباطی نظام (ریگولیٹری سسٹم) میں کیمیکلز انتہائی معمولی جائزوں کے بعد متعارف کروا دئیے جاتے ہیں اور مارکیٹ سے اسی صورت میں اٹھائے جاتے ہیں جب نقصان ثابت ہو چکا ہو۔ اور اس میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔

مصنف رائن پی سمتھ یونیورسٹی آف ورجینیا میں اسسٹنٹ پروفیسر آف یورالاجی ہیں

یہ تحریر پہلے  دا کنورسیشن میں شائع ہوئی۔ مضمون کو  امریکہ کے کیمیکل ریگولیٹری سسٹم کی زیادہ درست نمائندگی کرتے ہوئے اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی صحت