وانا اور نواحی علاقوں میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد بننے والے قومی لشکر نے مختلف مقامات پر مورچے سنبھال لیے۔
ابھیجیت دپکے اس واقعے پر واضح طور پر چونک گئے، تاہم انہوں نے اپنے حامیوں کو جوابی کارروائی سے روک دیا۔