پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکہ خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور مرنے والوں میں ٹریفک پولیس کے دو اہلکار بھی شامل ہیں۔
صوابی پولیس کے ضلعی پولیس آفیسر وقاص رفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جمعرات اور جمعے کے دوران مختلف علاقوں سے آٹھ ٹک ٹاکرز کو گرفتار کیا گیا۔