شہروں کے تعلیم یافتہ لوگوں کو یہ سماجی پیش رفت عام محسوس ہو۔ تاہم ان پسماندہ علاقوں میں جہاں خواتین فرسودہ روایتوں کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی ہوں ان کے لیے کاروبار کرنا تو کجا گھروں سے نکلنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔
مقامی لوگوں کے مطابق 70 سال پہلے محمد رمضان ملاح نے ماوا بنانے کی شروعات کی تھی اور اسے اپنے گاؤں کا نام دیا تھا، جو آج بھی ’موسانی کا ماوا‘ کے نام سے مشہور ہے۔