'ریاست خیرپور کے جناح سے معاہدے کی لاج نہیں رکھی گئی '

سابقہ ریاست کے تالپور حکمرانوں کے وارث میر مہدی رضا تالپور کا کہنا ہے کہ صدیوں سے قائم خودمختار خیرپور ریاست کو جبری طور پر پاکستان میں شامل کیا گیا تھا اور بعد میں معاہدوں پر عمل بھی نہیں کیا گیا۔

قیامِ پاکستان کے کئی سالوں بعد تک خود مختار رہنے والی شاہی یا نوابی ریاستوں میں سے ایک سندھ کی خیرپور ریاست کے تالپور حکمرانوں کے وارث میر مہدی رضا تالپور کا کہنا ہے کہ صدیوں سے قائم خود مختار خیرپور ریاست کو جبری طور پر پاکستان میں شامل کیا گیا اور الحاق کے وقت قائداعظم اور پاکستان کی دیگر قیادت نے جو معاہدے کیے ان پر بعد میں عمل نہیں کیا گیا۔

انڈپینڈنٹ اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں میر مہدی رضا تالپور نے بتایا: ’ریاست خیرپور سے پاکستان کے الحاق کے وقت ہم نے کہا کہ آپ ریفرنڈم کروائیں، اگر ریاست کے لوگ پاکستان میں شامل ہونا چاہتے ہیں تو ہم راضی ہیں، مگر ہمیں فوج کشی کی دھمکی دی گئی اور کہا گیا کہ حملہ ہو گا اور ریاست کے ہر گھر میں گھس جائیں گے اور باہر نہیں نکلیں گے۔ اب ایک غریب آدمی کے گھر میں آبرو کے علاوہ ہوتا ہی کیا ہے، وہ بنگلہ دیش والا حال تو نہیں کرنا تھا اپنے عوام کا، اس لیے مجبوری میں ہمیں ماننا پڑا۔' 

اس وقت خیرپور شمالی سندھ میں ایک ضلع ہے۔ یہ خود مختار ریاست 1947 میں قیامِ پاکستان کے سات سال بعد تک قائم رہی جسے 1954 میں ایک معاہدے کے تحت پاکستان میں شامل کیا گیا تھا۔

میر مہدی رضا کے مطابق: ’معاہدہ یہ تھا کہ پاکستان خیرپور ریاست کی کچھ چیزیں استعمال کرے گا۔ مگر خیرپور ریاست تھی، ریاست ہے اور ریاست رہے گی۔ یہ معاہدے میں شامل تھا۔ تاہم بعد میں پاکستان نے اس معاہدے کو توڑ دیا۔ جب ہم نے احتجاج کیا تو ہمیں کہا گیا کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں رہ سکتی۔ یہ بات ٹھیک ہے مگر اس سے بھی غلط بات یہ تھی ریاست کے اوپر ریاست بنانا ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا: ’ریاست خیرپور کے پاکستان سے الحاق سے متعلق ہونے والے معاہدے مشروط تھے، جیسے کہ پاکستان کی روڈ ٹرانسپورٹ کے لیے راستہ ایک گزرگاہ کے طور پر دیا تھا اور اس کی بھی شرائط تھیں کہ پاکستان ریاست کو گزرگاہ استعمال کرنے کے پیسے بھی ادا کرے گا، مگر ہم نے پاکستان سے پیسے نہیں لیے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’معاہدے کے مطابق پاکستان اور ریاست خیرپور کا دفاع مشترکہ ہوگا اور اس شرط کے بعد اب پاکستان پابند تھا کہ وہ خیرپور کی حفاظت کرے، مگر حفاظت کرنے کی بجائے خیرپور ریاست پر چڑھائی کردی گئی۔‘

ان کے مطابق: ’پاکستان نے خیرپور ریاست کے ساتھ محمد علی جناح کے کیے ہوئے معاہدے کی لاج نہیں رکھی۔ اب مجھے اگر یہ لکھ کر دیں کہ انہوں نے خیرپور ریاست کے ساتھ جو کچھ کیا وہ حق پر تھا، درست تھا تو میرے لیے وہی کافی ہو گا۔‘

اسی بارے میں پڑھیے: کیا ریاست جوناگڑھ آج بھی پاکستان کا حصہ ہے؟

خیبرپور کی تاریخ

میر مہدی رضا نے خیرپور ریاست کا حدود اربعہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ جنوب میں سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز، شمال میں پنجاب کے مٹھن کوٹ، مشرق میں موجودہ بھارتی ریاست راجھستان کے شہر جیسلمیر اور مغرب میں بلوچستان کے گندھاوا تک پھیلی ہوئی تھی۔

بقول ان کے، خیرپور ریاست کے تین قلعے پاکستانی سرحد کے اس پار بھارتی صحرا میں آج بھی موجود ہیں۔

سندھ حکومت کی سرکاری دستاویز ’تاریخ سندھ‘ کے مطابق سندھ پر سماں، سومرا اور کلہوڑا خاندانوں نے بڑے عرصے تک حکمرانی کی۔ اس کے بعد تالپور خاندان نے سندھ پر تین صدیوں تک حکمرانی کی۔ 

کلہوڑا حکمرانوں کی فوج میں سپاہ رہنے والے تالپوروں نے اپنے سرداروں کی ہلاکت کے بعد کلہوڑا حکمرانوں کے خلاف اعلان جنگ کیا اور سندھ کے موجودہ ضلع نوشہرو فیروز میں واقع ہالانی کے مقام پر ہونے والی جنگ میں کلہوڑا حکمرانوں کو شکست دی۔ بعد میں تالپوروں نے سندھ میں تین ریاستوں بشمول میرپور خاص ریاست، حیدرآباد ریاست (موجودہ کراچی اس وقت ریاست حیدرآباد میں شامل تھا) اور خیرپور ریاست قائم کی۔

برطانوی حکومت نے تقسیم ہند سے پہلے ہی میرپور خاص اور حیدرآباد ریاستوں کو ختم کردیا تھا۔ 

قیامِ پاکستان کے بعد موجودہ پاکستان میں کئی بڑی خود مختار ریاستیں موجود تھیں، جن میں بلوچستان کی قلات ریاست، خیبرپختونخوا کی سوات ریاست اور چترال ریاست، پنجاب کی بہاولپور ریاست اور سندھ کی خیرپور ریاست شامل تھیں۔ یہ سب ریاستیں شاہی طرز کی تھیں جن کے اپنے نواب، پرنس یا ولی عہد تھے۔

خیرپور ریاست کے حکمرانوں کے دربار کے طور پر استعمال ہونے والی شاہی عمارت فیض محل آج بھی سندھ کے شہر خیرپور میں موجود ہے، جو میر مہدی رضا تالپور کی رہائش گاہ ہے۔

مغل آرکیٹیکچرل سٹائل میں بنا فیض محل خیرپور ریاست کے تالپور حکمرانوں کے شاہی دبدبے کی گواہی دیتا ہے۔ دومنزلہ فیض محل ریاست خیرپور کے پیلس کمپلیکس کی کئی عمارتوں میں سے ایک ہے۔ ان عمارتوں میں سے کچہری بنگلہ، گیراج، لانڈھی، اصطبل وغیرہ فیض محل کی حدود سے اب باہر رہ گئی ہیں۔

مرمت نہ ہونے کے باعث ماضی کی اس خوبصورت شاہی عمارت کی باہر سے حالت خستہ ہے مگر عمارت کے اندر رکھی ہوئی اشیا بہت بہتر حالت میں ہیں ۔ فیض محل کا مرکزی ہال اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی خیرپور ریاست کے عروج کے دور میں سجائے گئے قالین، سنہرے رنگ کی کرسیوں، فانوس اور دیگر اشیا سے سجا ہے۔

 دیواروں پر اس وقت کے تالپور حکمرانوں کی تصاویر اور شیشے کی الماریوں میں پاکستان سے کیے گئے معاہدوں کی نقول، نقشہ اور ریاست کے دور میں استعمال ہونے والی اشیا رکھی ہوئی ہیں۔ مرکزی ہال سے متصل ڈائننگ ہال کی چھت تانبے کی بنی ہوئی ہے جبکہ اس ہال میں بڑی کھانے کی ٹیبل کے ساتھ فانوس اور اخروٹ کی لکڑی کے بنے شوکیس رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ڈائننگ ہال بھی کافی بہتر حالت میں ہے۔

مہدی رضا نے فیض محل کے مرکزی ہال میں رکھی خیرپور ریاست کی کئی نوادرات، جن میں خیرپور ریاست کا اپنا سکہ بھی شامل ہے، دکھاتے ہوئے بتایا کہ خیرپور ریاست کے ایک روپے کی مالیت چاندی کے ایک تولے کے برابر ہے۔  

ان کا کہنا تھا: ’خیرپور ریاست میں تعلیم کا نظام بہت بہتر تھا اور بہت ہی کم ٹیکسوں کے باعث ریاست میں بہت سی صنعتیں تھیں جہاں لاہور اور فیصل آباد سے لوگ مزدوری کرنے آتے تھے۔ خیرپور کے پاس آج بھی اتنی معدنیات ہے کہ اگر اسے استعمال کیا جائے تو خیرپور دس سالوں میں یورپ کے کسی ملک جیسا بن سکتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان