علاقائی سطح پر ایک اور تبدیلی پاکستان کی حیثیت میں اضافہ ہے۔ اب اسے صرف ایک فریق کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسی ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو خطے میں استحکام کے لیے کردار ادا کر سکتی ہے۔
ماضی میں قومی مباحثہ زیادہ تر زمینی معاملات پر مرکوز رہا، لیکن اب بندرگاہوں، تجارتی راستوں اور سمندری وسائل کی اہمیت نے بحری سوچ کو ناگزیر بنا دیا ہے۔