چین آگے بڑھ چکا، یورپ ابھی پیچھے ہے

چین نے یورپ کو ایک غیر اعلانیہ پیشکش دی: ایک کثیر القطبی دنیا میں حقیقی تیسرا مرکز بنیں، اپنے مفادات کو واشنگٹن سے الگ پہچان دیں اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں۔

فنکار 17 فروری 2026 کو مکاؤ میں نئے سال کے پہلے دن کی تقریبات کے دوران سرکاری محل کے سامنے 238 میٹر لمبے ڈریگن ڈانس میں حصہ لیے رہے ہیں (ایڈوارڈو لیال/ اے ایف پی)

جب حال ہی میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکروں نے یورپی رہنماؤں کے سامنے کھڑے ہو کر موجودہ دور کو ’منفرد‘ قرار دیا- ایسا وقت جس میں امریکہ، روس اور چین اپنی اپنی صورتوں میں یورپی مفادات کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں—تو برسلز کے مخصوص سنجیدہ انداز میں سر ہلانے کا منظر دیکھنے کو ملا۔

مگر میکروں کی یہ تشریح، چاہے کتنی ہی پرخلوص کیوں نہ ہو، ایک زیادہ تکلیف دہ حقیقت کو نظر انداز کرتی ہے: یورپ کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ اسے ویسا ہی دیکھا گیا جیسا وہ حقیقت میں ہے۔ ایک خوشحال اور باصلاحیت تہذیب، جس نے تین دہائیوں تک اپنی سٹریٹجک سوچ دوسروں کے سپرد کیے رکھی، اور اب حیران ہے کہ دنیا نے اس کا انتظار نہیں کیا۔

یہ یورپ کے خلاف کسی منظم جارحیت کا لمحہ نہیں۔ بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جب یورپ کو احساس ہو رہا ہے کہ وہ کبھی بھی کسی اور کی حکمت عملی کا مرکز نہیں تھا—نہ امریکہ کے لیے، نہ چین کے لیے، نہ روس کے لیے۔ شاید اپنے لیے بھی نہیں۔

اشارے سمجھنا کبھی بھی مشکل نہیں رہا۔ برسوں تک یورپی قیادت نے امریکی شائستگی کو حقیقی شراکت داری سمجھ لیا۔ نیٹو کے نعروں کو دفاعی سرمایہ کاری کا متبادل بنایا گیا اور یہ فرض کر لیا گیا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی کے ساتھ ہم آہنگی انہیں وہ اخلاقی وزن دے گی جسے وہ جغرافیائی طاقت سمجھ بیٹھے تھے۔ جب ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پہلے دور میں آئے—یورپی مصنوعات پر ٹیرف لگائے، اتحادیوں کو کھلے عام کمتر جانا، اور بحرِ اوقیانوس کے پار تعلقات کو جائیداد کے سودے کی طرح برتا—تو یورپی دارالحکومتوں میں صدمہ واضح تھا۔ یہ احتساب کا ایک لمحہ ہونا چاہیے تھا۔

مگر ایسا نہ ہوا۔ جو بائیڈن آئے، اتحادیوں اور اقدار کی بات کی اور یورپ نے سکون کا سانس لیا۔ زبان نرم ہو گئی، مگر بنیادی منطق وہی رہی۔ امریکہ نے اپنی حکمت عملی نہیں بدلی، صرف انداز بدلا۔ یورپ نے وقتی شائستگی کو مستقل تحفظ سمجھ لیا اور دوبارہ آسودگی میں چلا گیا۔ اب جب واشنگٹن کا رخ ایک بار پھر بدل رہا ہے تو حیرت بھی نئی لگ رہی ہے، گویا سبق کبھی سیکھا ہی نہیں گیا۔

توانائی کا مسئلہ بھی سبق آموز ہے۔ دہائیوں تک یورپ نے اپنی معیشت کو سستی روسی گیس پر استوار رکھا۔ جب یوکرین پر روسی حملے کے بعد یہ بندوبست سیاسی طور پر ناقابلِ قبول ہو گیا تو یورپ نے اسے ختم کر دیا—تیزی سے، بھاری قیمت پر اور واشنگٹن کی حوصلہ افزائی سے۔ اس فیصلے کو اقدار کی زبان میں بیان کیا گیا۔ اخلاقی پہلو اپنی جگہ، مگر معاشی نتائج سخت تھے: توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، صنعت کا سکڑاؤ اور مسابقتی کمزوری جس سے یورپی صنعت کار آج تک نبرد آزما ہیں۔ بعض اوقات اقدار کو ترجیح دینا ضروری ہوتا ہے، مگر اسے حکمت عملی کہنا ایک الگ بات ہے۔

چین کے ساتھ تعلقات میں یورپ کی الجھن اور ابہام سب سے زیادہ نمایاں رہا ہے۔ گذشتہ دہائی میں چین نے یورپ کو ایک غیر اعلانیہ پیشکش دی: ایک کثیر القطبی دنیا میں حقیقی تیسرا مرکز بنیں، اپنے مفادات کو واشنگٹن سے الگ پہچان دیں اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعلقات استوار کریں۔ یورپ نے اس پیشکش کو مسترد کر دیا، کسی واضح حکمت عملی کے تحت نہیں بلکہ ردِعمل پر مبنی فیصلوں کے ذریعے۔ امریکی دباؤ پر ہواوے کے آلات پر پابندی لگائی، چینی شمسی پینلز اور برقی گاڑیوں پر تجارتی تنازعات بڑھائے اور خود کو امریکی روک تھام کی پالیسی کے ایک ثانوی نفاذ کنندہ کے طور پر پیش کیا۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ یورپ کی صنعتوں کو نقصان صرف چینی مسابقت سے نہیں ہوا بلکہ امریکی سبسڈی پالیسی، ٹیرف کے دباؤ اور دہائیوں کی صنعتی غفلت کے امتزاج سے ہوا۔ بائیڈن کے انفلیشن ریڈکشن ایکٹ نے یورپی سرمایہ کاری کو امریکہ منتقل کیا، ٹرمپ کے ٹیرف نے برآمدات کو متاثر کیا اور توانائی کے اخراجات بڑھے۔ اس کے باوجود یورپی سیاسی بیانیے میں اکثر چینی پیداوار کو بنیادی مسئلہ قرار دیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ زاویہ قابلِ غور ہے۔ بیسویں صدی کے آخری عشروں میں یورپی کار ساز ادارے، ادویہ ساز کمپنیاں اور لگژری اشیا بنانے والے چین کی منڈی میں کامیابی سے داخل ہوئے۔ اس وقت اسے ’زیادہ پیداوار‘ نہیں کہا گیا بلکہ ’مسابقت‘ قرار دیا گیا۔ اب جب چین نے برقی گاڑیاں، شمسی پینلز اور بیٹریاں زیادہ مؤثر انداز میں بنانا سیکھ لیا ہے تو زبان بدل گئی ہے۔ جو پہلے مارکیٹ کامیابی تھی، اب ’غیر منصفانہ برتری‘ بن گئی ہے۔ یہ تضاد بیجنگ، گوبل ساؤتھ اور خود یورپ میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ یورپ کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ تجارتی عدم توازن، منڈی تک رسائی اور چینی صنعتی پالیسی کے حوالے سے کئی تحفظات جائز ہیں۔ مگر جائز خدشات کے لیے حکمت عملی درکار ہوتی ہے، محض بیانیہ نہیں۔ اور حکمت عملی کے لیے اپنے مقام کا دیانت دارانہ جائزہ ضروری ہے—جو یورپی پالیسی میں طویل عرصے سے مفقود ہے۔

گہرا مسئلہ ادارہ جاتی اور نفسیاتی ہے۔ یورپ نے ایک ایسی سیاسی ثقافت پیدا کر لی ہے جس میں عمل کو مقصد سمجھ لیا جاتا ہے اور اخلاقی زبان کو اخلاقی وضاحت۔ یورپی یونین، اپنی حقیقی کامیابیوں کے باوجود، اکثر فیصلوں کے بجائے بیانات پیدا کرتی ہے۔ جہاں دیگر طاقتیں اقدامات کرتی ہیں، وہاں یہ مذمت کرتی ہے؛ جہاں دیگر حد بندی کرتی ہیں، وہاں یہ مکالمہ کھولتی ہے۔ کچھ حالات میں اس کی افادیت ہے، مگر ایک ایسی دنیا میں جو بڑی طاقتوں کی مسابقت سے تشکیل پا رہی ہے، اس کی قیمت بھی ہے۔

اس کا یہ مطلب نہیں کہ یورپ ختم ہو چکا ہے۔ یہ اب بھی ایک بڑا معاشی بلاک ہے، تکنیکی گہرائی رکھتا ہے، ادارہ جاتی تجربہ رکھتا ہے اور—احتیاط کے پردے کے نیچے—سیاسی عزم کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کی قیادت اس صلاحیت کو ایک واضح اور خود مختار سٹریٹجک شناخت میں ڈھال سکتی ہے، جو دوستوں اور حریفوں دونوں کے لیے قابلِ اعتبار ہو۔

اس کے لیے کڑوی سچائی درکار ہوگی: دفاعی اخراجات کے بارے میں، صنعتی پالیسی کے بارے میں، بحرِ اوقیانوس پار تعلقات کی اصل نوعیت کے بارے میں اور چین و دنیا کے ساتھ تعلقات کے حقیقی مقاصد کے بارے میں۔ اس کے لیے اقدار اور ترجیحات میں فرق کرنا ہوگا—اقدار وہ اصول ہیں جن پر قائم رہا جاتا ہے، جبکہ ترجیحات وہ چیزیں ہیں جن سے نمٹنے سے گریز کیا جاتا ہے۔

یورپ کو سزا نہیں دی جا رہی بلکہ اسے اپنے ہی فیصلوں کے نتائج سے روشناس کرایا جا رہا ہے—ایسے فیصلے جو برسوں تک خاموشی سے کیے گئے، اس یقین کے ساتھ کہ بعد از جنگ عالمی نظام ہمیشہ قائم رہے گا اور مشکل کام کوئی اور سنبھالتا رہے گا۔ یہ مفروضہ اب ختم ہو چکا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ یورپ کا جواب حکمت عملی پر مبنی ہوگا یا محض بیانیے تک محدود رہے گا۔

حالیہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے اس کا جواب یقینی نہیں۔ مگر کم از کم اب یہ سوال پوچھا جا رہا ہے۔

نسیم خان اچکزئی سینٹر فار ریجنل سٹریٹجی اینڈ گلوبل افیئرز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں۔ وہ حکومتِ بلوچستان اور پاکستان کی سینیٹ کے سابق مشیر رہ چکے ہیں۔

نوٹ: یہ تحریر مصنف کی رائے پر مبنی ہے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر