بنیادی سوال یہ ہے کہ قومی اثاثوں کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے اسے پارلیمان میں زیر بحث کیوں نہیں لایا جاتا ؟ یہ سارا معاملہ چند معاشی ماہرین کی جنبش ابرو کا ہی محتاج کیوں ہے؟
کسی بھی دوسری ریاست کے ساتھ بات چیت پاکستان کی ریاست کرے گی۔ جسے قبول ہے کر لے جسے قبول نہیں نہ کرے۔ امور خارجہ میں نجکاری کی کوئی گنجائش نہیں۔