گورنر پنجاب کی برطرفی: آئین کیا کہتا ہے؟

’آئین کے دو آرٹیکل ایسے ہیں جو اس معاملے سے متعلق ہیں اور جہاں سے ہمیں رہنمائی مل سکتی ہے۔ ایک ہے آرٹیکل 48 اور دوسرا ہے 101۔

تصویر: کریٹیو کامن

صدر نے گورنر پنجاب کو ہٹانے کے لیے وزیر اعظم کی سمری مسترد کر دی ہے اور وفاقی حکومت نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے گورنر کو برطرف کرنے کا نوٹی فیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس بحران کے موقعے پر سوال یہ ہے آئین کیا کہتا ہے اور آئین کی روشنی میں کس کا موقف درست ہے: صدر کا یا وزیر اعظم کا؟

معروف آئینی اور قانونی ماہر اور تجزیہ کار ایڈووکیٹ آصف محمود نے اس بارے میں انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہمارے ہاں ہر معاملے کا حل سیاسی عصبیت سے تلاش کیا جاتا ہے، چنانچہ فطری رجحان یہی ہے کہ تحریک انصاف کے ہمدردوں کے نزدیک صدر پاکستان کا موقف درست ہے اور تحریک انصاف کے ناقدین کے خیال میں وزیر اعظم کا موقف ٹھیک ہے۔ معاملے کی درست تفہیم کے لیے لازم ہے کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر معاملے کا آئین کی روشنی میں جائزہ لیا جائے۔

آئین کے دو آرٹیکل ایسے ہیں جو اس معاملے سے متعلق ہیں اور جہاں سے ہمیں رہنمائی مل سکتی ہے۔ ایک ہے آرٹیکل 48 اور دوسرا ہے 101۔ ان دونوں میں دو مختلف اصول بیان کیے گئے ہیں۔ صدارتی کیمپ کا انحصار ایک اصول پر ہے جب کہ وفاقی حکومت دوسرے اصول پر انحصار کر رہی ہے۔ ہم جب تک فریقین کے موقف کو اس کے دلائل کے ساتھ نہ سمجھ لیں جب تک رائے قائم کرنا مناسب نہیں ہو گا۔

’صدارتی کیمپ کا موقف یہ ہے کہ گورنر کو ہٹانے کے حتمی اختیارات صدر کے پاس ہیں اور وہ کسی کی مشاورت پر عمل کر تو سکتا ہے لیکن وہ لازمی طور پرایسا کرنے کا پابند نہیں ہے۔ اس موقف کے حق میں دلیل کے طور پر آرٹیکل 101 کی ذیلی دفعہ 3 کو پیش کیا جا رہا ہے جس میں لکھا ہے کہ:

The governor shall hold office during the pleasure of the President

‘یعنی جب تک صدر کی خوشنودی حاصل رہے گی، تب تک گورنر اپنے عہدے پر فائز رہے گا۔ چنانچہ صدارتی کیمپ یہ سمجھتا ہے کہ چوں کہ صدر مملکت گورنر پنجاب سے خوش ہیں اور ان کی خوشنودی گورنر کو حاصل ہے تو اس صورت میں آرٹیکل 101 کے تحت گورنر اپنے منصب پر کام کرتے رہیں گے۔

’وزیراعظم کیمپ اپنے موقف کے حق میں آرٹیکل 48 کی ذیلی دفعہ 1 کو پیش کر رہا ہے، جس میں لکھا ہے کہ:

In excerise of his functions, the President shall act [on and] in accordance with the advice of the Cabinet or Prime Minister

’یعنی صدر اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس پر عمل کرے گا۔ یہاں May کی بجائے Shall کا لفظ استعمال ہوا ہے جو بتا رہا ہے کہ صدر اس ایڈوائس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔ اور وہ اس ایڈوائس کو رد نہیں کر سکتے۔

’ذیلی دفعہ 2 صدر کو صرف اتنا سا اختیار دیتی ہے کہ صدر چاہے تو 15 دن کے اندر اندر یہ ایڈوائس واپس بھیج سکتے ہیں کہ اس پر نظر ثانی کی جائے، اور اس نظر ثانی کے بعد بھی اگر کابینہ یا وزیر اعظم وہی ایڈوائس دوبارہ بھیج دیں تو صدر 10 دن کے اندر اندر اس پر عمل کرنے کے پابند ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’اب معاملہ یہ ہے کہ صدر نے ایڈوائس نظر ثانی کے لیے بھیجنے کی بجائے رد کر دی ہے۔ اس سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ اختیار انہیں کہاں سے حاصل ہوا؟ ذیلی دفعہ ۱یک کے تحت تو صدر اس ایڈوائس پر عمل کرنے کے پابند تھے۔ زیادہ سے زیادہ وہ نظر ثانی کا کہہ سکتے تھے۔ صدارتی کیمپ کے نزدیک اس کا جواب آرٹیکل 48 کی ذیلی دفعہ 2 میں موجود ہے جہاں لکھا ہے کہ:

‘دفعہ 1 میں دیے گئے اصول کے باوجود، اپنے آئینی اختیارات کے استعمال میں صدر اپنی صوابدید پر فیصلہ کرے گا اور صدر کے ایسے کسی بھی فیصلے کو کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

’دلچسپ بات اب یہ ہے کہ آرٹیکل 48 کی ذیلی دفعہ 1 میں صدر کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ ایڈوائس کے مطابق کام کرے اور اسی آرٹیکل کی ذیلی دفعہ 2 میں اسے اپنی صوابدید کے مطابق کام کرنے کا کہا گیا ہے اور دونوں جگہ May کی بجائے Shall کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

’بظاہر یہ تضاد ہے اور آئین کی تشریح کے معاملے جب متضاد باتیں سامنے آ جائیں تو عدالت اس کی تشریح کرتی ہے۔ لیکن آرٹیکل 48 کی ذیلی دفعہ 2 کے تحت کم از کم یہ معاملہ تو عدالت میں بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

اب اس تضاد کے حل کا طریقہ کیا ہے؟

اس بارے میں آصف محمود کا کہنا تھا کہ ’جب فریقین سیاسی عصبیت کی بنیاد پر آئین کی شرح بیان کریں گے تو ظاہر ہے وہاں مقصود آئین فہمی نہیں ہوتا بلکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ آئین میں سے اپنے مفاد کی چیز برآمد کرلی جائے۔ آئین کی شرح کا اصول جب یہ ہو تو تضادات بڑھ تو سکتے ہیں حل نہیں ہو سکتے۔

’ایک شہری کے طور پر البتہ ہمیں یہ سوچنا ہے کہ آئین کی پوری سکیم کے اندر رہتے ہوئے کیا آرٹیکل 101 کی ذیلی دفعہ 3 کے وہی معنی ہیں جو صدارتی کیمپ بیان کر رہا ہے؟

میرے خیال میں اس کا جواب اثبات میں دینا آسان نہیں ہے۔ کیوں کہ اگر اس اصول کو مان لیا جائے کہ گورنر اس وقت تک منصب پر رہے گا جب تک اسے صدر کی خوشنودی حاصل رہے گی تو اس طرح تو عمران خان بھی اب تک وزیر اعظم ہوتے۔ کیوں کہ آرٹیکل 91 کی ذیلی دفعہ 7میں یہی اصول وزیر اعظم کے لیے بھی موجود ہے کہ جب تک انہیں صدر کی خوشنودی حاصل رہے گی وہ وزیر اعظم رہیں گے۔ حقیقت مگر یہ ہے کہ وزیر اعظم کے منصب پر رہنے یا ہٹ جانے کا صدر کی خوشنودی سے عملی طور پر کوئی تعلق نہیں ہے۔‘

یہاں اب ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر صدر کی خوشنودی کا مطلب کیا ہے؟ اور یہ بات آئین میں کیوں لکھی ہے؟

آصف محمود کے مطابق ’اس کا تعلق صدر کی صوابدید سے نہیں بلکہ ان کے منصب کے آئینی طریقہ کار سے جڑا ہے۔ یعنی صدر کی خوشنودی یہ نہیں ہو گی کہ وہ ذاتی طور پر کیا چاہتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہو گا کہ مروجہ طریقہ کار کے تحت صدر کیا چایتے ہیں۔

’یہ مروجہ طریقہ کار کیا ہے؟ اس کے دو حصے ہیں۔ ایک کا ہم اوپر ذکر کر چکے ہیں کہ صدر اپنے ’فنکشنز‘ (کارہائے منصبی) میں وزیر اعظم اور کابینہ کی ایڈوائس پر عمل کرے گا۔ دوسرا حصہ آئین میں وہاں بیان ہوا ہے جہاں کابینہ کا ذکر ہے۔ آرٹیکل 91کی ذیلی دفعہ ایک میں لکھا گیا ہے کہ ایک کابینہ ہو گی جس کا سربراہ وزیر اعظم ہو گا اور جس کا کام صدر کو اس کے ’فنکشنز‘ (کارہائے منصبی) میں مدد کرنا ااور مشاورت دینا ہوگا۔ گویا صدر کے کارہائے منصبی کابینہ کے فیصلوں کے ماتحت ہوں گے۔

تو پھر صدر کی صوابدید کا کیا ہوا؟

بعض ماہرین قانون کا خیال ہے کہ اس کا تعلق صدر کے اختیارات سے ہے اس کے فنکشنز سے نہیں۔ لیکن یہاں یہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ صدر کے اختیارات کو اس کے کارہائے منصبی سے الگ کر کے دیکھا جا سکے اور کیا آئین میں کہیں لکھا ہے کہ ان دونون میں کیا فرق ہو گا اور اس کا دائرہ کار کیا ہو گا؟ یعنی یہ کہ گورنر کی برطرفی کا تعلق صدر کے اختیارات سے ہو گا یا اس کے ’فنکشنز‘ سے؟

’ہمارے آئین کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ وہ اقوال زریں کی صورت موجود تو ہے لیکن ان پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوا۔ جب عمل ہو گا تو اس کی شرح بھی ہوتی جائے گی اور ابہام بھی دور ہوتے جائیں گے۔ جب کوئی دستاویز عمل درآمد کے مرحلے سے گزرتی ہے تب ہی معلوم ہوتا ہے اس کی خوبیاں کیا ہیں اور کہاں اصلاح کی ضرورت ہے۔‘

ہم شاید ایسے ہی دور سے گزر رہے ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان