داریل اور کوہ سلیمان کے جنگلات آگ کی لپیٹ میں، تین افراد ہلاک

چلغوزے کے جنگل میں آگ گذشتہ نو روز سے لگی ہوئی ہے اور اسے بجھانے میں مصروف چار افراد لاپتہ بھی ہیں۔

شیرانی کے مقامی نوجوان خالد خان شیرانی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دوافراد کی لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں اور شناخت کے قابل نہیں ہیں (تصویر:رفیع اللہ مندوخیل)

بلوچستان اور خیبرپختونخوا صوبوں کے سنگم پر واقع کوہ سلیمان میں گذشتہ ایک ہفتے سے لگی ہوئی آگ پر تاحال قابو نہیں پایا جاسکا ہے جبکہ جمعرات کو آگ بجھانے میں مصروف مقامی افراد میں سے تین جھلس کر ہلاک ہوگئے ہیں۔

چلغوزے کے جنگل میں آگ گذشتہ نو روز سے لگی ہوئی ہے اور اسے بجھانے میں مصروف چار افراد لاپتہ بھی ہیں۔

شیرانی کے مقامی نوجوان خالد خان شیرانی نے انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دوافراد کی لاشیں بری طرح جھلس چکی ہیں اور شناخت کے قابل نہیں ہیں جبکہ چار لاپتہ افراد کو بچانے کے لیے مقامی افراد اور حکومتی اداروں کی کوششیں جاری ہیں۔ اب بھی مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت آگ بجھانے کی کوشش کررہے ہیں۔

خالد شیرانی نے مزید بتایا کہ پہلے آگ ڈیرہ اسماعیل خان اور شیرانی کے درمیان واقع تورغر کے علاقے میں لگی جبکہ کوہ سلیمان کے چلغوزے کے جنگل میں کل سے آگ لگی ہوئی ہے۔

محکمہ صحت شیرانی کے ڈی ایچ او ڈاکٹر دولت شاہ حریفال کے مطابق محکمہ صحت کے اہلکاروں اور ایمبولینسز کو جائے وقوعہ کی جانب روانہ کردیا گیا ہے تاکہ زخمی ہونے والوں کو بروقت ابتدائی طبی امداد دی جاسکے اور انہیں ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کیا جاسکے۔

اسی دوران ڈی ایچ او ژوب ڈاکٹر مظفرشاہ نے بھی سول اسپتال میں ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کو تیار رہنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

سیکریٹری جنگلات دوستین جمالدینی کا کہنا ہے، کہ آگ آسمانی بجلی کے باعث لگی ہے جبکہ شیرانی فارسٹ آفیسرعتیق الرحمن کا کہنا ہے کہ آگ بظاہر مقامی لوگوں کی آپس میں تنازعات کے باعث جان بوجھ کر لگائی گئی ہے۔

آگ کے باعث چلغوزہ اور پلوسہ کے ہزاروں درختوں کے راکھ ہوجانے کے ساتھ ساتھ جنگلی حیات کے ہلاک ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

کمشنر ژوب ڈویژن یاسرخان بازئی کے مطابق ہیلی کاپٹرمیں سبکزئی ڈیم سے ساڑھے تین ہزار لیڑ پانی بھر کر آگ پر پھینکا گیا ہے۔

دوسری جانب گلگت بلتستان کے انتہائی پسماندہ علاقے دیامیر کے جنگلات میں اچانک آگ لگنے کا  سلسلہ جاری ہے۔

گذشتہ چار سالوں کی طرح آج بھی دیامیر کے نواحی علاقے داریل کے جنگلات میں اچانک آگ بھڑک اٹھی ہے۔

گذشتہ سال ضلع دیامیر کے مختلف علاقوں میں یکے بعد دیگرے جنگلات میں آگ بھڑک اٹھی تھی جس کے روک تھام کے لیے محکمے سے زیادہ مقامی برادری نے آگ بجھانے میں کردار ادا کیا تھا۔

اجتماعی طور پر مقامی آبادی نے جنگلات کا رخ کرکے 10 سے 12 دنوں کی طویل محنت کے بعد آگ پر قابو پایا تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ماحولیات