کین فلم فیسٹیول میں پاکستانی فلم ’جوائے لینڈ‘ کے نام ایوارڈ

کین فلم فیسٹیول میں پاکستان کی پہلی فلم ’جوائے لینڈ‘ نے ’کوئیر پام‘ ایوارڈ اپنے نام کر لیا۔

فرانس میں جاری 75ویں کین فلم فیسٹیول میں 22 مئی  2022 کو پاکستانی فلم ’جوائے لینڈ‘ کے پروڈیوسر، ہدایت کار اور اداکار پرئمیئر کے ریڈ کارپٹ پر (اے ایف پی)

کین فلم فیسٹیول میں پاکستان کی پہلی ہی انٹری ’جوائے لینڈ‘ نے میلے میں ناظرین کے دل جیتنے کے بعد ایک ایوارڈ بھی اپنے نام کر لیا ہے۔

فیسٹیول میں جوری کے سربراہ کے مطابق ایک ٹرانس جینڈر (خواجہ سرا) رقاصہ کی جرات مندانہ تصویر پیش کرنے والی ’جوائے لینڈ‘ کو بہترین ایل جی بی ٹی، ’کوئیر‘ یا فیمنسٹ تھیم پر مبنی فلم کے طور پر ’کوئیر پام‘ انعام دیا گیا ہے۔

خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہدایت کار صائم صادق کی فلم ’جوائے لینڈ‘ ایک پدرسری خاندان کے سب سے چھوٹے بیٹے کی کہانی ہے، جس سے توقع کی جاتی ہے کہ تین بیٹیوں کے بعد اس کے ہاں بیٹا پیدا ہو۔ 

تاہم اس کے برعکس وہ ایک تھیٹر ٹروپ کا حصہ بن جاتا ہے اور گروپ کی ہدایت کار خواجہ سرا خاتون کی محبت میں گرفتار ہو جاتا ہے۔

’کوئیر پام‘ کے علاوہ فلم نے جمعے کو ’ان سرٹین ریگارڈ‘ مقابلے میں جیوری انعام بھی جیتا، جو نوجوان ٹیلنٹ اور سینیما میں جدت کو سراہتا ہے۔ 

’کوئیر پام‘ کی جیوری کی سربراہ فرانسیسی ہدایت کار کیتھرین کورسنی نے اے ایف پی کو بتایا: ’یہ ایک بہت اچھی فلم ہے جو ہر وہ چیز دکھاتی ہے جس کی ہم حمایت کرتے ہیں۔‘

کورسنی کو بھی گذشتہ سال ڈراما فلم ’لا فریکچر‘ کے لیے ایوارڈ دیا گیا تھا جس میں فرانس میں ’یلو ویسٹ‘ تحریک کے پس منظر میں ایک ہم جنس پرست جوڑے کے تعلقات دکھائے گئے ہیں۔

کورسنی نے کہا: ’جوائے لینڈ‘ فلم کی بازگشت دنیا بھر میں گونجے گی۔ اس میں مضبوط کردار ہیں جو پیچیدہ بھی ہیں اور حقیقی بھی۔ کچھ بھی مبہم نہیں ہے۔ ہم اس فلم سے بہت زیادہ متاثر ہوئے تھے۔‘

ماضی میں بڑے نامور ہدایت کاروں نے ’کوئیر پام‘ ایوارڈ جیتا ہے اور اس کی جیوری کے سامنے بہت ٹیلنٹ آیا ہے، لیکن دنیا کے ٹاپ فلم فیسٹیول میں اس کو باضابطہ جگہ نہیں دی گئی ہے۔

ایل جی بی ٹی اور کوئیر موضوع پر مواد والی فلموں کے ایوارڈز پہلے ہی برلن سمیت دیگر بڑے فلمی اجتماعات کا لازمی حصہ ہیں۔

برلن انٹرنیشنل فلم فیسٹیول نے ایل جی بی ٹی فلموں کے لیے 1987 میں ’ٹیڈی ایوارڈ‘ دیا اور اسے اپنے پروگرام کا باضابطہ حصہ بنایا۔

کورسنی نے کین کے حوالے سے کہا :’مجھے افسوس ہے کہ یہ تقریب ابھی بھی کوئیر پام کو نظر انداز کر رہا ہے۔‘

2010 میں فرینک فنانس میڈوریرا کی طرف سے تخلیق کردہ یہ انعام ماضی میں ٹوڈ ہینز کو ’کیرول‘ اور زیویر ڈولن کو فلم ’ لارنس اینی ویز‘ بنانے کے لیے دیا گیا۔

’جوائے لینڈ‘ نے کئی دیگر اچھے حریفوں کو شکست دی جن میں بیلجیئم کے ڈائریکٹر لوکاس دھونٹ کی فلم ’کلوز‘ اور کیریل سیریبرینیکوف کی فلم ’چائکوفسکیز وائف‘ شامل ہیں۔

’جوائے لینڈ‘ نے کین شرکا کو حیران کردیا اور وہ  تعریف کرنے پر مجبور ہوگئے۔ فلم کی پہلی ہی نمائش پر ہجوم نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں۔

کین میں اکثر لوگوں کو اس وقت بھی بہت حیرت ہوئی جب انہیں معلوم ہوا کہ پاکستان وہ پہلا ملک ہے جس نے خواجہ سراؤں کو امتیازی سلوک کے خلاف قانونی تحفظ دیا ہے۔

2009 میں پاکستان نے قانونی طور پر تیسری جنس کو تسلیم کیا اور 2018 میں پہلا ٹرانسجینڈر پاسپورٹ جاری کیا گیا۔

ڈائریکٹر صائم صادق نے اے ایف پی کو ایک انٹرویو میں بتایا: ’پاکستان بہت شیزوفرینک، تقریباً بائی پولر ہے۔ ایک طرف تو آپ کو کسی خاص برادری کے خلاف تعصب اور تشدد ملتا ہے لیکن دوسری آپ کو یہ انتہائی ترقی پسند قانون بھی ملتا ہے جو بنیادی طور پر ہر ایک کو اپنی صنف کی شناخت کرنے کی اجازت دیتا ہے اور تیسری صنف کی شناخت بھی کرتا ہے۔‘

ایوارڈ کے بعد پاکستانی سیلیبریٹیز نے بھی  مبارک باد کے پیغام بھیجے۔

ہدایت کار ارشد خان نے ٹوئٹر پر لکھا: ’پاکستان کی کین فیسٹیول میں پہلی بار شمولیت ’جوائے لینڈ‘ نے دو ایوارڈز جیت لیے! یہ ضروری ہے، بہادر، ایماندار، فوری فلم سازی! سکرپٹ بذات خود آرٹ کا کام ہے۔‘

ہدایت کار نبیل قریشی نے لکھا: ’جوائے لینڈ‘ نے کین فلم فیسٹیول میں جیوری ایوارڈ حاصل کیا۔ بہت بڑی کامیابی ہے۔ ٹیم اور بنانے والوں کو مبارک ہو! ناقابل یقین ابتدا۔

اداکار عثمان خالد بٹ نے بھی مبارک باد کا پیغام شیئر کیا۔

پاکستانی فلم ساز اور دو بار آسکر ایوارڈ جیتنے والی شرمین عبید چنائے نے الجزیرہ کو بتایا: ’جوائے لینڈ پاکستان کے لیے باعث مسرت ہے ... پاکستانی سینیما کی تاریخ میں بہت کم لمحات ایسے ہیں جن پر ہم سب فخر کرسکتے ہیں۔‘

جوائے لینڈ میں اداکاری کرنے والی معروف پاکستانی اداکارہ ثروت گیلانی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا: ’پاکستانی سینیما جو کئی دہائیوں سے سیاسی مداخلت، مذہبی احکامات اور افسر شاہی کی بےحسی سے متاثر ہے، اس کا بالآخر عالمی سطح پر آنا ایک  شاندار جادوئی لمحہ تھا۔‘

انہوں نے کہا کہ پریمیئر کے دوران جب کھڑے ہوکر جو داد دی جا رہی تھی وہ پاکستان میں فنکاروں کو درپیش جدوجہد کا اعتراف بھی تھا۔

انہوں نے کہا: ’ہم نے اپنے خوابوں میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ہم یہاں ہوں گے اور پہلی فلم کے ساتھ پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا