’خود دار خیبرپختونخوا‘ بجٹ: تنخواہوں میں 15 فیصد اضافہ

خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار 332 ارب  کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

اس فائل فوٹو میں لوگوں کی بڑی تعداد پشاور کے ایک سپر سٹور سے خریداری کر رہی ہے (ا ے ایف پی)

خیبر پختونخوا حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے ایک ہزار 332 ارب  کا بجٹ پیش کر دیا ہے جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے پیر کو صوبائی اسمبلی میں آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیا جسے ’خود دار خیبرپختونخوا‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق 93 ارب روپے کی غیرملکی امداد بھی بجٹ میں شامل ہے۔

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

تنخواہوں کے لیے 447 ارب 90 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ سرکاری ملازمین کی پنشن کے لیے 107 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سرکاری ملازمین کے لیے 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس بھی بجٹ میں شامل ہے۔ ایڈہاک ریلیف الاؤنس ڈی آر اے کے علاوہ ہے۔

بجٹ دستاویز کے مطابق گریڈ سات سے 16 تک کے پولیس اہلکاروں کے رسک الاؤنس میں ڈی آر اے کے برابر اضافہ کیا گیا ہے۔

تنخواہوں اور پنشن میں اصافے کے علاوہ تقریباً 63 ہزار ملازمین کو مستقل کیے جانے کا بھی کہا گیا ہے۔

خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی ٹیکسوں کی مد میں 85 ارب روپے وصول ہوں گے جبکہ دیگر محاصل کا تخمینہ 212 ارب روپے لگایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بجٹ میں جمعے کو گھر سے کام کرنے یعنی (ورک فرام ہوم) کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

صحت کی بات کی جائے تو گذشتہ سال کے مقابلے میں آئندہ مالی سال کے لیے صحت کے بجٹ میں 55 ارب کا اضافہ کیا گیا ہے جبکہ ابتدائی و ثانونی تعلیم کے بجٹ میں 47 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔

دستاویز کے مطابق پولیس شہدا پیکج میں بھی اضافہ کیا گیا اور  پولیس کے بجٹ میں 14 ارب کا اضافہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ انرجی اینڈ پاور میں بھی 11 ارب روپے کے اضافے کی تجویز ہے۔

بندوبستی اضلاع کے اخراجات کا تخمینہ 1109 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ ضم اضلاع کے اخراجات 223 ارب ہوں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی معیشت