ایک برے میچ کی اتنی بڑی سزا؟

پاکستان نے ٹورنامنٹ کے آخری ہاف میں دلیرانہ کھیل پیش کر کے خود کو پہلی چار ٹیموں میں شامل ہونے کا حقدار بنا لیا تھا جو اس سے چھین لیا گیا۔

پاکستانی بلے بازوں نے ورلڈ کپ میں اپنی وکٹیں ایسے وقت میں گنوائیں جب انہیں اپنی اننگز بنانا چاہیے تھی(روئٹرز)

یہ تحریر میں اداس اور بوجھل دل کے ساتھ لکھ رہی ہوں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ پاکستان سیمی فائنل میں نہیں پہنچ سکا بلکہ اس اداسی کا باعث میرا یہ احساس ہے کہ ہمارے لڑکوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے اور انہیں ٹورنامنٹ کی ٹاپ چار ٹیموں میں ان کی جگہ سے محروم رکھا گیا ہے۔

میری نظر میں پاکستان ٹیم نے ٹورنامنٹ کے آخری ہاف میں دلیرانہ کھیل پیش کر کے خود کو پہلی چار ٹیموں میں شامل ہونے کاحق دار بنا لیا تھا جو اس سے چھین لیا گیا۔

پاکستان نے ٹورنامنٹ کا آغاز بہت برے طریقے سے کیا اور ویسٹ انڈیز کے خلاف میچ میں گھاس والی وکٹ پر اوورکاسٹ موسم میں صرف 105 سکور پر آؤٹ ہو گئی۔ ویسٹ انڈیز کے بولرز نے بلے بازوں پر شارٹ پچ گیندوں کی بوچھاڑ کر دی اور پاکستانی بلے باز اس اچانک حملے سے بدحال ہو گئے۔

ایک موقعے پر آدھی ٹیم ویسٹ انڈیز کے بولروں کی باقاعدہ منصوبہ بندی سے کی گئی شاٹ پچ گیندوں پر صرف 50 کے معمولی سکور پر پویلین واپس جا چکی تھی۔ تاہم ٹیل اینڈرز نے سکور کو بہت مشکل سے 105 تک پہنچایا، جسے ویسٹ انڈیز نے بہت جلد پورا کر لیا۔

اس طرح پاکستان کا نیٹ رن ریٹ بہت منفی ہو گیا اور یہی وجہ بنی کہ پاکستان پہلی چار ٹیموں میں شامل ہونے سے محروم ہو گیا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایک بری گیم کی اس قدر قیمت ہونی چاہیے جو پاکستان کو چکانی پڑی؟

میں یہ نہیں کہتی کہ پاکستان نے ورلڈ کپ میں بہت اچھا کھیل پیش کیا۔ وہ آسٹریلیا کے خلاف میچ جیت سکتے تھے مگر ہار گئے۔ بلے بازوں نے اپنی وکٹیں ایسے وقت میں گنوائیں جب انہیں اپنی اننگز بنانا چاہیے تھی۔

محمد حفیظ جیسے سینئر کھلاڑی محنت کر کے ایسے وقت میں مثال نہ بن سکے جب وہ کریز پر سیٹل ہو چکے تھے۔ اس طرح انہوں نے ساری محنت ضائع کر دی۔

فخر زمان، امام الحق اور بابر اعظم نے بھی ایسی ہی غلطی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے مختلف میچوں میں اپنی وکٹیں اس غلط وقت پر گنوائیں جب پاکستان کو ان کی شدید ضرورت تھی۔ بھارت اور آسٹریلیا کے خلاف میچ اس کی مثالیں ہیں۔ افغانستان کے خلاف رن ریٹ نہ بڑھایا جا سکا۔

سب کچھ ایک طرف رکھتے ہوئے، اگر پاکستانی بلے باز اپنی وکٹیں نہ گنواتے تو رن ریٹ سے کوئی فرق نہ پڑتا اور پاکستان آسٹریلیا اور بھارت کی طرح سیمی فائنل میں ہوتا۔

پاکستانی بلے بازوں نے غیر ذمہ داری سے نہ صرف خود کو مصیبت میں ڈال لیا بلکہ فتح کو شکست میں بدل کر اپنے ملک اور شائقین کو بھی مایوس کیا۔ مجھےمحمد حفیظ کی ’ویلوٹ ٹچ‘ اور عمدہ ٹائمنگ والی بلے بازی سے محبت ہے، مگرانہوں نے ٹیم کی رہنمائی کے بجائے انہیں بھٹکا دیا۔

اگر آپ نمبر تین یا چار پر بیٹنگ کرتے ہیں تو آپ کین ولیم سن، ویراٹ کوہلی، سمتھ، جو روٹ اور شکیب الحسن کی طرح بیٹنگ کا بنیادی ستون ہوتے ہیں۔ آپ اس پوزیشن پر پاور ہٹر یا ناقابل اعتبار بیٹسمین جیسی حرکتیں نہیں کر سکتے۔

میری رائے میں پاکستان کو مستقبل میں حارث سہیل کو چوتھے نمبر پر کھیلانا چاہیے اور اگر محمد حفیظ نے پاکستان کے لیے مزید کھیلنا ہے تو انہیں نمبر چھ پر پاور ہٹر کے طور پر رکھا جانا چاہیے۔

اگر بولنگ کی بات کی جائے تو بولرز نے اپنا کردار خوب نبھایا۔ محمد عامراور وہاب ریاض  دونوں تجربہ کار بولرز نے پاکستان کے لیے اچھا کھیل پیش کیا لیکن شاہین آفریدی کو دیکھ کر میرا دل خوشی سے نہال ہو جاتا ہے۔

اس نوجوان نےٹورنامنٹ کا آغاز اچھا نہیں کیا تھا۔ شروع کی گیم میں مخالف بلے بازوں نے ان کی اس وقت خوب پٹائی کی جب وہ نئی گیند سے بولنگ کر رہے تھے، لیکن انہیں کریڈٹ جاتا ہے کہ اگلے میچ میں انہوں نے بہت بہتر انداز میں فل لینتھ پر بولنگ کی۔

وہ نیوزی لینڈ اور افغانستان کے خلاف آغاز میں ہی وکٹیں حاصل کر کے ہیرو بنے۔ انہوں نے نئی اور پرانی گیند سے کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور اس طرح وہ پہلے دس اوورز میں نئی گیند کے ساتھ وکٹیں لینے میں محمد عامر کے سب سے قابل پارٹنر بنے اور پاکستان کو اہم میچ جیتنے میں مدد دی۔ وہ پاکستان کا مستقبل ہیں اور آئندہ سالوں میں ان کی طرف سے بہترین سپیل دیکھنے کو ملیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 شاداب خان اور عماد وسیم نے بھی کہیں کہیں اچھے کھیل کی جھلکیاں دکھائیں جو پاکستان کے لیے اچھا ہے۔ افغانستان کے خلاف عماد کسی ایکشن ہیرو سے کم نہ دکھائی دیے، وہ ایک بڑے پلیئر کے طور پر ابھر کر سامنے آئے تاہم  حسن علی اپنے رنگ میں نظر نہیں آئے۔ انہوں نے اگر پاکستان کے لیے مزید کھیلنا ہے تو سخت محنت کی ضرورت ہے، کیونکہ اب ٹیم میں رہنے کے لیے مقابلہ سخت ہے۔

سرفراز احمد کو اپنی بیٹنگ پوزیشن پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ میری نظر میں ان کا نمبر پانچواں بنتا ہے۔ وہ ابھی تک اپنے نمبر کا تعین نہیں کر سکے۔ انہیں مڈل آرڈر میں بیٹنگ کرنا چاہیے۔

فیلڈنگ کا شعبہ ایسا ہے جہاں پاکستان کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ گراؤنڈ فیلڈنگ کے ساتھ ساتھ کیچ کرنے کی تربیت پر سخت محنت کی ضرورت ہے۔ میری خواہش ہے کہ پاکستان جونٹی روڈز یا ہرشل گبز جیسے ماہرین میں سے کسی ایک کی طویل مدت کے لیے خدمات حاصل کر سکے۔ اور ہاں، چیف سلیکٹر کوجتنا جلدی ممکن ہو باہر کا راستہ دکھانا چاہیے ورنہ کرکٹ کی تباہی کو آنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

آج پاکستان کا بنگلہ دیش کے خلاف میچ ہے اور مجھے اس بات کا پورا احساس ہے کہ لڑکے دل شکستہ ہیں لیکن انہیں یہ بات ذہن میں رکھنا چاہیے کہ انہیں قومی تفاخرکے لیے آج اچھا کھیل پیش کرنا چاہیے۔ انہیں جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے خلاف میچوں جیسی کارکردگی دکھانا ہوگی جو دنیا کی چوٹی کی ٹیموں کے خلاف شاندار پرفارمنس تھی۔

ان ٹیموں کے خلاف پاکستانی کھلاڑیوں کی کارکردگی شاندار تھی۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو اس پر فخر ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے میں غمگین ہوں کہ پاکستانی ٹیم سیمی فائنل میں نہیں پہنچی اور نیوزی لینڈ کسی بڑی ٹیم کے خلاف میچ جیتے بغیر ٹاپ فور میں شامل ہو گیا۔ یہ معاملہ میرے نزدیک کافی مضحکہ خیز ہے۔

بنگلہ دیش نے بھی بہت اچھی کرکٹ کھیلی۔ وہ بھارت اور نیوزی لینڈ کو شکست دینے کے قریب پہنچ گئے تھے اور انہوں نے ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ جیسی دو بڑی ٹیموں کو ہرایا۔ پاکستان سیمی فائنل میں پہنچتا ہے کہ نہیں؟ حساب کتاب کے اعتبار سے ابھی پاکستان کے سیمی فائنل میں جانے کا امکان ہے لیکن عملی طور پر یہ ناممکن ہے کہ پاکستان اب اگلے مرحلے میں جائے۔

اب بنگلہ دیش کے خلاف میچ میں پاکستانیوں کو دنیا کو دکھانا ہو گا کہ وہ ذہنی طور پر پختہ ٹیم ہیں۔

میرے خیال میں محمد حسنین اور آصف علی کو ایک میچ کھیلنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ محمد حفیظ  اور وہاب ریاض کو آرام دیا جا سکتا ہے۔ محمد حسنین نے ابھی تک کوئی میچ نہیں کھیلا اور موقع ملنے پر ان کا اعتماد بڑھے گا اور وہ بھی ورلڈ کپ کا ذائقہ چکھ لیں گے۔ انہیں بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا۔ محمد آصف کو ایک اور موقع ملنا چاہیے کیونکہ پاکستان کے پاس اب کھونے کو کچھ بھی نہیں رہا۔

بنگلہ دیش ہمیشہ سخت حریف رہا ہے۔ اس طرح اچھی کرکٹ دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جنہیں فائنل فور میں جانے کے لیے فلیٹ ٹریک دیے گئے، ان سے زیادہ  پاکستان اور بنگلہ دیش سیمی فائنل میں پہنچنے کے حق دار تھے۔

 مجھے امید ہے کہ آج پاکستانی ٹیم اپنے ملک کے اندر اور انگلینڈ میں موجود شائقین کے لیے بنگلہ دیش کے خلاف پرفیکٹ گیم کھیلے گی۔

زیادہ پڑھی جانے والی کرکٹ