42 ہزار سال پہلے پائے جانے والے کینگرو کے دیوقامت فوسل دریافت

فلینڈرز یونیورسٹی کے محققین نے بتایا کہ ان جانوروں کی آخری نسل آسٹریلیا میں جدید دور کے مشرقی سرمئی اور سرخ کینگرو کی کزن تھی۔

26 اکتوبر 2018 کو آسٹریلیا میں لی گئی تصویر میں موٹو گرینڈ پری کے ٹریک پر ایک کینگرو (اے ایف پی)

ماہرین حیاتیات نے جدید دور کے آسٹریلوی کینگروز کے آباؤ اجداد کا ایک بہت بڑا فوسل دریافت کیا ہے جو تقریباً 42 ہزار سال قبل معدوم ہو گیا تھا۔

اس فوسل سے اس ممالیہ جانور کے ارتقا کی مزید وضاحت ہوگی۔

دیو قامت فوسل کینگرو کی نئی نسل وسطی پاپوا نیو گنی کے پہاڑوں سے ملی ہے۔

فلینڈرز یونیورسٹی کے محققین نے بتایا کہ ان جانوروں کی آخری نسل آسٹریلیا میں جدید دور کے مشرقی سرمئی اور سرخ کینگرو کی کزن تھی۔

رائل سوسائٹی آف ساؤتھ آسٹریلیا کے رائل سوسائٹی کے جریدے کے مطابق ان کا قریبی تعلق جدید دور کی آسٹریلوی نسلوں کی بجائے زیادہ قدیم کینگرو کی ایک منفرد نسل سے تھا جو صرف پاپوا نیو گنی میں تھے۔

سائنسدانوں نے پاپوا نیو گنی کے صوبہ چیمبو میں ایک آثارقدیمہ اور پیلیونٹولوجیکل سائٹ نومبے راک شیلٹر کے نام پر اس جانور کا نام نومبے نومبے رکھ دیا ہے جہاں یہ فوسل دریافت ہوا تھا۔


یہ موٹا تازہ نومبے ایک متنوع گھنے برساتی جنگل میں رہتا تھا جہاں موٹے جبڑے کی ہڈی اور چبانے والے مضبوط پٹھوں کا استعمال کرتے ہوئے اس نے درختوں اور جھاڑیوں سے سخت پتے کھانے تک کا ارتقا مکمل کیا۔

فلینڈرز سے پیلیونٹولوجی کے پی ایچ ڈی امیدوار آئزک کیر نے ایک بیان میں کہا کہ نیو گنی کے حیوانات دلچسپ ہیں لیکن اس بات کا درست اندازہ بہت کم آسٹریلویوں کو ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ بڑی، لمبی ناک والی، کیڑا کھانے والی ایچیڈنا کی کئی اقسام ہیں جو آج بھی موجود ہیں، بہت سی مختلف انواع ہیں جو ہمیں آسٹریلیا میں نہیں ملتی ہیں اور مزید اب بھی فوسل ریکارڈ میں ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس تحقیق کی بنیاد پر سائنسدانوں کو شبہ ہے کہ تقریباً 50 سے80 لاکھ سال قبل میوسین دور کے آخر میں نیو گنی میں واقع کینگرو کی ایک قدیم شکل سے بہت سی اقسام تیار ہوئی ہوں گی۔

نیو گنی اور مین لینڈ آسٹریلیا کے جزائر اس وقت سمندر کی سطح کم ہونے کی وجہ سے ایک ’زمینی پل‘ کے ذریعے جڑے ہوئے تھے۔

سائنسدانوں نے بتایا کہ اس پل کی وجہ سے ابتدائی مختلف بڑے جانوروں سمیت معدوم آسٹریلوی ممالیہ جانور بھی نیو گنی کے برساتی جنگلات میں منتقل ہوئے۔

تاہم جب آبنائے ٹورس دوبارہ بھر گیا یہ جانور اپنے آسٹریلوی رشتہ داروں سے کٹ گئے اور ان میں اپنے نئے ٹراپیکل پہاڑی مسکن کے مطابق تبدیلیاں پیدا ہوئیں۔

فلینڈرز یونیورسٹی کے پروفیسر اور اس مطالعے کے شریک مصنف گیون پرائیڈوکس نے کہا کہ ہم اگلے تین سالوں کے دوران مشرقی اور وسطی پی این جی [پاپوا نیو گنی] میں دو مختلف مقامات پر تین پیلیونٹولوجیکل(ارتھ سائنسز) کھدائیاں کرنے کے لیے بہت پرجوش ہیں۔

ڈاکٹر پرائیڈوکس نے مزید کہا کہ پاپوا نیو گنی میوزیم اور آرٹ گیلری کے کیوریٹرز اور وہاں دیگر جاننے والوں کے ساتھ کام کریں گے، ہمیں امید ہے کہ نیو گنی کی پیلیونٹولوجی میں کچھ مقامی دلچسپی پیدا ہوگی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی تحقیق