سیاہ فاموں کےاستحصال سےبیوٹی انڈسٹری ’اخلاقی‘ نہیں ہوسکتی

ہم اس بارے میں تو زیادہ جانتے ہیں کہ کاسمیٹکس کی تیاری میں جانوروں کو نقصان پہنچایا جاتا ہے لیکن اس صنعت سے وابستہ گندمی اور سیاہ فام کارکنوں سے متعلق ہماری معلومات کم ہیں۔ اس کی وجہ دہرا معیار ہے۔

کاسمیٹکس کے بہت سے برانڈز جانوروں پر ظلم سے پاک، سبزیاں کھانے والوں کے لیے موزوں اور ماحول دوست مصنوعات کی تیاری اور اخلاقی حدود کی پابندی پر زور دے رہے ہیں (بشکریہ آور گلاس)

گذشتہ برس میں نے زندگی کے روزمرہ کے معاملات میں زیادہ ثابت قدم رہنے کی شعوری کوشش کی۔ میں نے زیادہ باقاعدگی کے ساتھ استعمال شدہ کپڑے خریدے۔ میں نے پودوں سے حاصل کردہ خوراک کو طرزِ زندگی کا حصہ بنایا اور اس کے بعد میں نے اس بارے میں زیادہ سے زیادہ سوچا کہ کون سی کاسمیٹکس خریدی جائیں۔

کاسمیٹکس کے بہت سے برانڈز جانوروں پر ظلم سے پاک، سبزیاں کھانے والوں کے لیے موزوں اور ماحول دوست مصنوعات کی تیاری اور اخلاقی حدود کی پابندی پر زور دے رہے ہیں۔ ایسی صورت حال میں پہلے کے مقابلے میں اس وقت اپنے آپ کو جاذب نظر بنانے والی مصنوعات کا استعمال بظاہر آسان دکھائی دیتا ہے۔ جب کوئی بیوٹی مصنوعات کے اخلاقی معیار کے حوالے سے بات کرتا ہے تو بظاہر صرف یہی وہ پہلو ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

تاہم بدقسمتی سے کسی بھی مکالمے میں کم ہی ایسا ذکر ہوتا ہے کہ کاسمیٹکس کی صنعت دنیا بھر میں سیاہ فام اور گندمی رنگت والے افراد کو سماجی اور سیاسی اعتبار سے کس طرح متاثر کر رہی ہے؟

’قدرتی‘، ’مصنوعی اجزا سے پاک‘، ’نباتات پر مشتمل‘ اور ’ظلم سے پاک‘ وہ الفاظ ہیں جو ہم صارف کے طور پر  کاسمیٹکس کے ساتھ جوڑتے ہیں، جو نہ صرف ہمارے لیے اچھی ہیں بلکہ ہم ان کی تیاری میں اخلاقی پہلو سے بھی کسی حد تک آگاہ ہیں۔

ہمارے میک اپ کے سامان یا لوشن میں قدرتی اجزا ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی تیاری کا عمل بھی مسائل سے پاک ہے۔ جوں جوں قدرتی اجزا کی طلب بڑھتی ہے اسی طرح ان کی پیداوار اور کاشت میں اضافہ ہوتا ہے۔ اس صورت حال میں اکثر سستی اور کبھی کبھار غیر قانونی افرادی قوت فراہم کرنی پڑتی ہے۔ یہ کام سیاہ فام اور گندمی رنگت والے افراد انجام دیتے ہیں۔

زمین سے نکلنے والا ’میکا‘ نامی معدن لپ سٹک، آئی شیڈز اور کچھ ٹوتھ پیسٹوں کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ معدن قدرتی ہو سکتا ہے لیکن اخلاقی سطح پر اس کا حصول ڈراؤنا خواب ہے کیونکہ بھارت کے غریب ترین علاقوں میں واقع کانوں سے اس معدن کو حاصل کرنے کے لیے بچوں سے غیرقانونی کان کنی کرائی جاتی ہے۔

بچوں کی فلاح وبہبود سے متعلق تنظیم ’ورلڈ ویژن کینیڈا‘ کے مطابق دنیا بھر میں میکا کا ایک چوتھائی حصہ بھارت میں ہونے والی غیرقانونی کان کنی سے حاصل ہوتا ہے۔ بچوں کے حقوق کی تنظیم ’تیردے ہومز‘ کے اندازے کے مطابق بھارتی ریاست جھاڑکھنڈ اور بہار میں 22 ہزار بچے کانوں سے میکا نکالنے میں مصروف ہیں۔ اس عمل میں لاحق خطرات اور صحت کے مسائل جان لیوا ثابت ہوسکتے ہیں۔ ان مسائل میں بیماری اور کان کی چھت کا گرنا شامل ہے۔ اس صورت حال کی بنیاد پر کاسمیٹکس کے بڑے برانڈ ’لش‘ نے اپنی مصنوعات سے میکا نکال دیا ہے۔

کوکا بھی ایک قدرتی جزو ہے جو اکثر ہماری کاسمیٹکس میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مغربی افریقہ میں اس کی کاشت بدنامی کی حد تک بچوں سے مشقت سے جڑی ہوئی ہے۔ گھانا میں ’شی‘ کے درخت کے بیج سے روغن نکالنے کے لیے خواتین سے بے حد کم اجرت پر مزدوری کروائی جاتی ہے۔ شی کے درخت سے حاصل ہونے والے روغن کو اکثر’قدرتی‘ اجزا والے کاسمیٹکس سے جوڑا جاتا ہے۔

خوش قسمتی سے امداد باہمی کے ایسے غیر معتبر ادارے موجود ہیں جو دنیا کے جنوبی حصے میں کاسمیٹکس کی صنعت کے لیے خام مال فراہم کرنے والوں کی فلاح وبہبود کو ذہن میں رکھتے ہیں۔ ’یونین آف کو آپریٹوز آف ویمن آرگن‘ (یو سی ایف اے) دنیا بھر میں کاسمیٹکس بنانے والی کمپنیوں کو آرگن کا تیل فراہم کرنے والا ادارہ ہے ۔ یہ ادارہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ خواتین اپنی پراڈکٹ اور محنت کا جائز معاوضہ حاصل کریں۔ ادارہ اس طرح ان خواتین اور ان کے خاندان کی مدد کرتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس برانڈ کے ساتھ اشتراک کرنے والے برانڈز میں سے ایک کوکون تھراپیز ہے، جو آرگن آئل پر مشتمل مصنوعات تیار کرتا ہے۔ اس کے بانی کرسٹین سیلیئر کلارک اس عمل میں اپنی شمولیت کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں: ’سچ یہ ہے کہ شروع میں، میں نے  اخلاقی پہلو کے بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ میں بہترین معیار کے  آرگن آئل کی تلاش میں تھا، جب میری ان خواتین سے ملاقات ہوئی، جس کے بعد میں نے اس سارے عمل کے انسانی اور ماحولیات کے حوالے سے پہلوؤں کو جانا اور پھر میں پیچھے مڑ کر نہیں دیکھ سکا۔‘

کرسٹین سیلیئر کلارک کا کہنا تھا: ’میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ بہت کم کمپنیاں  ایسی ہیں جو شفاف کام کرتی ہیں۔ بدقسمتی سے بہت سی کمپنیاں ’ایتھیکل‘ (اخلاقی) ہونے کا لفظ مارکیٹنگ کے آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، لیکن اس پر عمل نہیں کرتیں۔‘

ماحول کے تحفظ کے حوالے سے اخلاقی ذمہ داریوں پر تو بہت باتیں ہوتی ہیں، لیکن سماج کے حوالے سے اخلاقی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ایک میک اپ برانڈ کس طرح اخلاقی طور پر درست ہوسکتا ہے، اگر وہ صرف گورے رنگ کے لوگوں کے لیے ہو؟ ایک سیاہ فام صارف کے طور پر مجھے اپنی جلد کی رنگت سے مطابقت رکھنے والا میک اپ خریدنے میں ہمیشہ مشکلات پیش آتی ہیں۔

ڈیزیاک کی بانی لوریٹا ڈی فیو کے مطابق ایسی مصنوعات بنانا، جو نہ صرف اخلاقی معیارات پر پورا اتریں بلکہ ہر طرح کے بالوں کے لیے مناسب ہوں، ان کی برانڈ کی بنیاد تھا۔ ’میرے لیے یہ صرف پیسے کمانے کے لیے ایک کاروبار کا آغاز نہیں تھا۔ میرا مقصد یہ تھا کہ مجھے اس پروڈکٹ کی ضرورت ہے اور یقیناً دیگر لوگوں کو بھی ہوگی۔‘

مختلف خواتین اب ان بیوٹی پروڈکٹس کی طرف جارہی ہیں، جو ان کی جلد کے رنگ سے مطابقت رکھے اور ان کی تیاری میں اخلاقی معیار کو بھی مدنظر رکھا گیا ہو۔

گال-ڈیم  میگزین کی لائف سٹائل سے متعلق اسسٹنٹ ایڈیٹر ایما بلیک مورسی گھر میں بنائی گئی (ہوم میڈ) مصنوعات کو ترجیح دیتی ہیں۔ ’میں جتنا ممکن ہو قدرتی اجزا  کا استعمال کرتی ہوں اور اس حوالے سے ریسرچ کرتی ہوں کہ میری جلد کی ساخت کے لیے کیا چیز بہتر رہے گی۔ کیا آپ کو پرائمر کی ضرورت ہے یا آپ گلیسرین کے قطرے کی مدد سے اپنا عرق گلاب بنا سکتے ہیں۔‘

بلیک مورسی کچن میں موجود اجزا جیسے کہ زیتون کے تیل، شہد اور مایونیز کی مدد سے ڈیپ کنڈشنر بنا سکتی ہیں۔ بقول ان کے: ’آج کل میں ایواکاڈو کا استعمال کر رہی ہوں، جبکہ مایو اور ناریل کا دودد بھی پروٹین کی فراہمی کے اہم ذرائع ہیں۔‘

مغرب میں اخلاقی طور پر درست ہونے کے حوالے سے دوہرا معیار پایا جاتا ہے، افسوس کی بات ہے کہ ہم جانوروں کو پہنچنے والے نقصان کے حوالے سے تو بات کرتے ہیں، لیکن ہم سیاہ فام اور گندمی رنگت کے حامل افراد کے استحصال پر غور نہیں کرتے۔ تاہم خوش قسمتی سے اب زیادہ سے زیادہ کمپنیاں اس حوالے سے سوچ رہی ہیں۔ بلش، باڈی شاپ، سنیتا کاسمیٹکس، فلتھی کاسمیٹکس اور ایل آئی ایچ اے بیوٹی ایتھیکل کاسمیٹکس فراہم کر رہی ہیں جبکہ آن لائن مارکیٹ کی ویب سائٹس جیسے کہ بب کم (Bibcim) ایسی مصنوعات کی ریسرچ کے حوالے سے اچھی جگہ ہے۔ برانڈز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی مصنوعات کی فروخت کے سلسلے میں شفاف اور ایماندار ہوں، جبکہ ہمیں بھی سمارٹ اور مکمل آگاہی کے ساتھ فیصلے کرنے چاہییں۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین