قبائلی اضلاع کی خواتین کی ووٹنگ میں غیرمعمولی شرکت

اس انتخاب سے قبل سنجیدہ طبقوں، سیاسی ایوانوں اور میڈیا پر یہ بحث زیرِ موضوع رہی کہ کیا قبائلی اضلاع کی خواتین ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انتخاب کے دن ووٹ ڈالنے نکلیں گی؟

 الیکشن کمیشن نے خبردار کر رکھا  تھا کہ جن پولنگ سٹیشنوں پر خواتین کے ووٹ کا تناسب 10 فی صد سے کم ہوگا،  وہاں کے نتائج کالعدم تصور ہوں گے (فائل: اے ایف پی)

قبائلی اضلاع کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہونے والے صوبائی الیکشن میں خواتین کا ٹرن آؤٹ مردوں کے مقابلے میں اکثر پولنگ سٹیشنز پر زیادہ رہا۔ جبکہ باقی پولنگ سٹیشنوں پر یہ تعداد مرد ووٹرز کے تناسب کے قریب رہی۔

اس انتخاب سے قبل سنجیدہ طبقوں، سیاسی ایوانوں اور میڈیا پر یہ بحث زیر موضوع رہی کہ کیا قبائلی اضلاع کی خواتین ووٹ کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے انتخاب کے دن ووٹ ڈالنے نکلیں گی؟

اس حوالے سے سب سے زیادہ تشویش ضم شدہ اضلاع کے سیاسی امیدواروں میں پائی جا رہی تھی کیونکہ الیکشن کمیشن نے خبردار کر رکھا تھا کہ جن پولنگ سٹیشنوں پر خواتین کے ووٹ کا تناسب 10 فیصد سے کم ہوگا، وہاں کے نتائج کالعدم تصور ہوں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

الیکشن کمیشن کے مرکزی ترجمان الطاف خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’دراصل یہ الیکشن کمیشن کے ان اقدامات اور محنت کا نتیجہ ہے جس کے تحت انتخابات سے قبل بارہا سیمینارز منعقد کرائے گئے اور مختلف مکاتب فکر اور اداروں کے لوگوں کو جمع کرکے ان کی مدد حاصل کی گئی تاکہ قبائلی اضلاع میں خواتین کا ٹرن آؤٹ بڑھانے میں سب یکساں کردار ادا کر سکیں۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’پولنگ سٹیشنز میں 10 فیصد خواتین ووٹرز لازمی قرار دینے کی شرط رکھنا بھی نہایت کارگر ثابت ہوا۔‘

تجزیہ نگاروں کے مطابق: ’اگرچہ قبائلی اضلاع سے الیکشن لڑنے والے امیدواروں نے بھی اپنے اپنے حلقوں کی خواتین میں ووٹ کی اہمیت اجاگر کرنے میں کچھ کم محنت نہیں کی لیکن پھر بھی قبائلی خواتین داد کی مستحق ہیں، جو باوجود  کچھ علاقوں میں خراب سیکورٹی صورتحال کے دور دراز قصبوں سے تمام مصائب جھیل کر ووٹ ڈالنے گئیں۔ اس الیکشن نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ قبائلی اضلاع کی خواتین کے حوالے سے پاکستان کے دیگر حصوں کے لوگوں میں ایک غیر حقیقی تصور پایا جاتا ہے، جبکہ حقیقت میں یہ خواتین باشعور بھی ہیں اور پُر اعتماد بھی۔ اگر منطق سے موجودہ الیکشن میں خواتین کی ووٹنگ پر بات کی جائے تو ہر پولنگ سٹیشن سے دس فیصد کے لگ بھگ نتائج آنے چاہیے تھے یعنی کہیں پر کم اور کہیں زیادہ۔ لیکن معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ خواتین کی جتنی بڑی تعداد ووٹ ڈالنے اس دفعہ نکلی ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ خیبر پختونخوا کے دیگر علاقوں کے مقابلے میں ضم شدہ اضلاع میں بھی خواتین کے کردار سے متعلق قابل ذکر شعور آگیا ہے-‘

خواتین کا ٹرن آؤٹ کن حلقوں میں زیادہ رہا؟

الیکشن کمیشن کے نتائج کے مطابق، سابقہ فرنٹیر ریجنز کے علاوہ تین حلقے ایسے ہیں جہاں پر خواتین کا ٹرن آؤٹ مردوں سے زیادہ رہا۔ ان میں ضلع کرم کے 2 حلقوں کے علاوہ اورکزئی کا حلقہ بھی  شامل ہے۔

کرم (ا) کے حلقے پی کے 108 میں مرد ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 65 فیصد جب کہ خواتین کا 35 فیصد رہا۔

حلقہ کُرم (2) کے پی 109 میں مرد ووٹرز کا ٹرن آوٹ 55.4 فیصد جب کہ خواتین کا 44.5 فیصد رہا۔

حلقہ پی کے 110 ضلع اورکزئی میں مرد ووٹرز کا ٹرن آوٹ 65 فیصد جب کہ خواتین ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 35 فیصد رہا۔

سابقہ فرنٹیئر ریجنز میں مرد ووٹرز کا ٹرن آؤٹ 76 فیصد جب کہ خواتین ووٹرز کا ٹرن آوٹ 33.4 فیصد رہا۔

واضح رہے کہ ضم شدہ اضلاع کے کُل 16 لاکھ 71 ہزار 314 رجسٹرڈ مرد ووٹرز کا مجموعی ٹرن آوٹ 31.42 فیصد جب کہ کُل 11 لاکھ 30 ہزار 517 رجسٹرڈ خواتین ووٹرز میں سے خواتین کا مجموعی ٹرن آوٹ 18.63 فیصد رہا۔

کن علاقوں میں ٹرن آؤٹ کم رہا اور وجوہات کیا ہیں؟

ضم شدہ اضلاع کے تمام 16 حلقوں میں شمالی وزیرستان کا حلقے 112 (2) میں خواتین کا ٹرن آوٹ سب سے کم یعنی صرف 12.30 فیصد رہا۔

وزیرستان کے اس حلقے میں شمال، رزمک، دتہ خیل اورغلام خان کے علاقے شامل ہیں۔ شمالی وزیرستان وہ علاقہ ہے جہاں آپریشن ضرب عضب کے بعد لاکھوں لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

شمالی وزیرستان کے رہائشی خان بہادر اس حلقے میں خواتین کے کم ٹرن آؤٹ کی وجہ بیان کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ ’دراصل اب بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد کی اپنے علاقوں میں واپسی نہیں ہوئی ہے۔ لیکن شمالی وزیرستان سے خواتین کے کم ووٹ پڑنے کی وجہ یہاں پردے کا رواج ہے۔ خواتین کا گھروں سے نکلنا اور وہ بھی ووٹ ڈالنے کے لیے نکلنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ میری رائے میں 12 فی صد ٹرن آوٹ بھی ایک بڑی کامیابی ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین