’دہشت گرد ثابت کرنے میں وہ ناکام رہے‘: گلالئی اسماعیل کے والدین بری

پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے غداری، ریاست کے خلاف سازش اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کے الزام پر 2018 میں درج کیے گئے مقدمے میں پروفیسر اسماعیل اور ان کی اہلیہ کو عدم ثبوتوں کی بنا پر بری کردیا۔

گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر اسماعیل اور والدہ پشاور میں انسداد دہشت گردی کی عدالت میں سماعت کے موقعے پر (تصویر: نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ ٹوئٹر اکاؤنٹ)

پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بدھ کو خود ساختہ جلاوطن پاکستانی سماجی کارکن گلالئی اسماعیل کے والدین کو دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مقدمے میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کردیا۔

پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر ایک میں آج گلالئی اسماعیل کے والد پروفیسر اسماعیل اور والدہ کے خلاف درج مقدمے کی سماعت ہوئی۔

 گلالئی اسماعیل خود ساختہ جلاوطنی سے پہلے پشاور میں ’اویئر گرلز‘ (Aware Girls) کے نام سے ایک غیر سرکاری تنظیم چلا رہی تھیں اور ان کے والدین پر یہ الزام لگایا گیا تھا کہ اس تنظیم کی آڑ میں بیرون ملک سے فنڈ کی صورت میں دہشت گردوں کی مالی معاونت کی گئی ہے۔

2018 میں درج کیے گئے اس مقدمے میں دونوں پر غداری، ریاست کے خلاف سازش اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کا الزام بھی لگایا گیا تھا۔

اگرچہ گلالئی اسماعیل کے والدین کو عدالت کی جانب سے ضمانت پر رہائی دے دی گئی تاہم مقدمے کی سماعت باقاعدگی سے ہوتی رہی۔

 مقدمے کی تفصیل کیا ہے؟

 پروفیسر اسماعیل خان اور ان کی اہلیہ کے وکیل شبیر حسین گگیانی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کے موکلوں پر 2018 میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جس کی بنیاد یہ بنائی گئی کہ2013  میں پشاور چرچ حملے کے دوران خود کش حملہ آور سے برآمد ہونے والی پستول دونوں ملزمان نے خریدی تھی۔

انہوں نے بتایا: ’درہ آدم خیل سے جعلی رسید بنا کر اس پستول کی رسید بنائی گئی تھی، لیکن بعد میں جب تفتیش ہوئی تو اس دکان کا وجود ہی نہیں تھا۔‘

اسی طرح شبیر گگیانی نے بتایا کہ دوسرا الزام یہ تھا کہ 2015 میں حیات آباد کی امامیہ مسجد میں خود کش حملہ آور نے جو گاڑی خریدی تھی، وہ گاڑی ملزمان کے نام پر تھی اور انہوں نے خریدی تھی۔

وکیل کے مطابق: ’عدالت میں ایک موٹر بارگین کی رسید پیش کی گئی تھی لیکن وہ رسید جعلی نکلی کیونکہ اس بارگین کا بھی کوئی وجود نہیں تھا اور جعلی رسید بنا کر عدالت میں پیش کی گئی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

 شبیر گیگیانی نے بتایا کہ یہ مقدمہ اصل میں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسلام آباد میں درج کیا تھا اور اس کے بعد اسے پشاور میں سی ٹی ڈی کو دے دیا گیا تھا اور ان کی جانب سے پشاور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت میں درخواست دی گئی تھی۔

الزامات میں ریاست کے خلاف غداری کی دفعات بھی لگائی گئی تھیں، جن کے مطابق ملزمان سوشل میڈیا پر کچھ آڈیو اور ویڈیو بیانات دے کر غداری کے مرتکب ہوئے، لیکن اس الزام سے بھی دونوں ملزمان کو بری کردیا گیا۔

شبیر گگیانی نے بتایا: ’2019 میں اس وقت انسداد دہشت گردی کی عدالت نمبر تین کے ایک جج نے دونوں ملزمان کو ضمانت دی تھی اور پراسیکیوٹر کو بتایا تھا کہ جو فائل عدالت میں پیش کی گئی، اس میں کوئی ثبوت موجود نہیں اور جب ثبوت ملیں تب ہی ملزمان پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔‘

شبیر گگیانی کے مطابق: ’صرف پستول اور گاڑی کی جعلی رسید عدالت میں پیش کی گی تھی اور اس کے علاوہ پراسیکیوٹر کی جانب سے عدالت میں کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا تھا، لہذا اسی بنا پر دونوں ملزمان کو آج عدالت نے بری کردیا۔‘

 انہوں نے مزید بتایا کہ ’تفصیلی فیصلہ آنا باقی ہے اور اس میں تمام تر تفصیلات موجود ہوں گی کہ کیسے عدم ثبوتوں کی بنیاد پر ملزمان کو بری کردیا گیا۔‘

عدالت سے بری ہونے والے پروفیسر محمد اسماعیل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پچھلی حکومت کی طرف سے بنائے گئے بے بنیاد مقدمے کا آج خاتمہ ہوگیا اور مجھے باعزت طریقے سے بری کردیا گیا۔‘

انہوں نے بتایا: ’میرے خلاف جھوٹے گواہان، جعلی رسیدیں اور جعلی ثبوت بنا کر عدالت میں پیش کیا گیا تاکہ مجھے دہشت گرد ثابت کر سکیں، لیکن وہ مجھے دہشت گرد ثابت کرنے میں وہ ناکام رہے۔‘ 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان