پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی بدھ کو بھی جاری ہے، جہاں حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے ہونے والی جارحیت کے ردعمل میں آپریشن غضب للحق کے تحت چمن سیکٹر میں افغان طالبان کی چوکیوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔
پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے مطابق: ’پاکستان افغان سرحد پر افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے بلااشتعال جارحیت کے جواب میں پاکستان آرمی نے آپریشن غضب للحق کے تحت مؤثر کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مزید کہا گیا: ’چمن سیکٹر میں کارروائی کے دوران افغان طالبان کی متعدد چوکیاں اور گاڑیاں درست نشانہ لگا کر تباہ کی گئیں، جبکہ مؤثر جوابی کارروائی کے باعث افغان طالبان اور فتنہ الخوارج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔‘
پاکستانی حکام فتنہ الخوارج کی اصطلاح کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے استعمال کرتے ہوئے الزام عائد کرتے ہیں کہ اس تنظیم کے جنگجو افغان طالبان کی سرپرستی میں پاکستان کے خلاف شدت پسند کارروائیاں کرتے ہیں، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
سکیورٹی ذرائع نے مزید کہا کہ ’ملکی دفاع اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے سکیورٹی فورسز کا عزم غیر متزلزل ہے اور یہ کارروائیاں مقررہ اہداف کے حصول تک جاری رہیں گی۔‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ کئی ماہ سے سرحدی جھڑپیں جاری ہیں، جن میں فروری کے آخر سے اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔
یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب افغانستان نے پاکستان کے اندر فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار حملہ کیا۔ اسلام آباد نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان کے ساتھ کھلی جنگ کی حالت میں ہے، جس سے بین الاقوامی برادری میں تشویش پیدا ہوئی۔
پاکستان نے آپریشن غضب للحق کے تحت اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
27 اپریل کو بھی رات گئے پاکستان اور افغانستان کے حکام نے افغانستان میں ایک جان لیوا حملے سے متعلق متضاد دعوے کیے، جہاں افغان حکام نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے مبینہ طور پر داغے گئے مارٹر گولوں اور میزائلوں نے کنڑ میں ایک یونیورسٹی اور شہری مکانات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سات افراد جان سے گئے اور اور کم از کم 85 زخمی ہوئے، تاہم پاکستان نے یونیورسٹی کو نشانہ بنانے کے الزام کی تردید کی ہے۔
یہ حملے اس ماہ کے اوائل میں چین کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات کے بعد پہلا پُرتشدد واقعہ تھا۔
اس واقعے کے بعد افغان وزارت خارجہ نے گذشتہ روز کابل میں پاکستانی سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے ایک احتجاجی مراسلہ حوالے کیا جس میں کہا گیا کہ پاکستانی فورسز کی جانب سے ڈیورنڈ لائن کے قریب صوبہ کنڑ میں شہری اہداف اور عوامی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
دوسری جانب باختر نیوز ایجنسی کے مطابق افغان وزیراعظم آفس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ملا عبدالواسع نے آج برطانیہ کے خصوصی نمائندے برائے افغانستان رچرڈ لیندزی سے ملاقات میں کہا ہے کہ افغانستان ہمیشہ پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے اور دوستانہ تعلقات کے استحکام کی خواہاں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’افغانستان کسی پر حملہ نہیں کر رہا اور نہ ہی تشدد کا حامی ہے، تاہم ملک کی خودمختاری اور شہریوں کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔‘