خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے جدہ میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں خطے میں بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے علاقائی صورت حال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
اجلاس کے بعد جاری بیان میں جی سی سی اور اردن پر ایرانی حملوں کی مذمت کی گئی ہے۔
جی سی سی کا یہ اجلاس سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی صدارت میں منگل کو جدہ میں ہوا جس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے رہنماؤں اور وفود کے سربراہان نے شرکت کی۔
اجلاس کے بعد جی سی سی کی جانب سے جاری بیان میں سیکریٹری جنرل جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ سربراہان مملکت نے موجودہ علاقائی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، خصوصاً خطے میں کشیدگی، کونسل ممالک اور اردن پر ایران کے کھلے حملوں، اور ایسے سفارتی راستے قائم کرنے کے طریقوں پر جو بحران کا خاتمہ کریں۔
جاسم محمد البدیوی نے کہا کہ اجلاس میں ایران کے آبنائے ہرمز بند کرنے، جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے، اس کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے، یا وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر کسی بھی نام سے فیس عائد کرنے جیسے غیر قانونی اقدامات کو مکمل طور پر مسترد کیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز میں سلامتی اور آزاد جہاز رانی بحال کی جائے اور صورتحال کو 28 فروری 2026 سے پہلے والی حالت میں واپس لایا جائے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی رہنماؤں نے سعودی عرب کی قیادت کی جانب سے اجلاس بلانے کی دعوت کو سراہا، جو کونسل ممالک کے درمیان اتحاد مضبوط کرنے اور خطے کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
جاسم محمد البدیوی نے واضح کیا کہ ’خلیجی رہنماؤں نے کونسل رکن ممالک اور اردن پر ایران کے کھلے حملوں کی شدید مذمت کی، جن میں شہری تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا اور جانی و مالی نقصان بھی ہوا۔‘
ان حملوں کو انہوں نے کونسل ممالک کی ’خودمختاری، اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی‘ قرار دیا۔