الوداع کشمیریو، ہم مصروف تھے

سب کچھ تو کر دکھایا لیکن انہیں اب بھی ترس نہ آیا۔ کشمیر کی حیثیت بدل دی۔ ہم اتنے بےتوقیر تو کبھی نہ تھے؟ انڈیا کو یہ سب کرنے کی ہمت کیوں ہوئی؟

کشمیر سے متعلق  بھارتی اعلان پر اسلام آباد میں سوموار کو ہونے والے احتجاج کی جھلک۔ (اے ایف پی)

گذشتہ دور حکومت میں بھارتی وزیر اعظم مودی کے پاس بھاری اکثریت نہیں تھی اس لیے وہ خواہش کے باوجود کشمیر پر کوئی بڑا ایڈونچر نہیں کر سکے۔ پاکستان میں حکومت کی تبدیلی اور بھارت الیکشن کے بعد کشمیر کے حوالے سے پاکستانی پالیسی کیا رہی اور کیا ہوتا رہا، اس کا جائزہ لینے سے آپ کو سمجھ آ جائے گی کہ بھارت کو کشمیر کے بارے میں اتنا بڑا فیصلہ کرنے کی جرات کیوں ہوئی۔ بھارتی پالیسی سازوں نے کیونکر یہ سمجھ لیا کہ اب پاکستان مسئلہ کشمیر سے کافی حد تک پیچھے ہٹ چکا ہے؟ بھارت کے ساتھ تعلقات اس کی مجبوری ہیں اور اب پاکستان کشمیر کے حوالے سے کچھ بھی کرنے سے باز رہے گا؟ ذرا جائزہ لیتے ہیں۔

عمران خان نے وزیر اعظم  بنتے ہی مودی کو خط لکھا جس پر سرد مہری کا اظہار کیا گیا۔ اس کے باوجود مذاکرات کی بات کر دی گئی جس کی بھارتیوں کی جانب سے باقاعدہ تردید بھی کی گئی۔ الیکشن میں مودی کی جیت کی خواہش کا اظہار کیا گیا۔ مودی کی جیت کو مسئلہ کشمیر کا حل قرار دیا گیا۔ بھارتی کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارک باد دی۔ کرکٹر سدھو کو حلف برداری کی تقریب میں بلا کر آرمی چیف کے قریب ہونے، پیار کی جپھی ڈلوائی گئی۔ رنجیت سنگھ کا مجسمہ نصب کیا گیا جس کا مقصد بھارت میں پاکستان کا مثبت تاثر پیدا کرنا قرار دیا گیا۔ کرتارپور کوریڈور کے لیے ترلے کیے گئے۔ پوری پاکستانی قیادت اس تقریب میں شریک ہوئی جسے بھارت نے اپنی خوشامد سمجھ لیا۔

بار بار مذاکرات ملتوی کرنے کے باوجود پاکستان کی جانب سے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔ وزیر اعظم کی جانب سے یہ بات کی گئی کہ وہ بار بار بھارتی وزیر اعظم کو فون کر رہے ہیں لیکن رابطہ نہیں ہو پا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ملکی تاریخ میں شدت پسند تنظیموں کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن کیا گیا۔ حافظ سعید اور دیگر کو  نظر بند کرنے کی بجائے پہلی مرتبہ باقاعدہ دہشت گردی کے مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ علی امین گنڈاپور جیسے شخص کو امورِ کشمیر کا وزیر بنا کر غیرسنجیدگی کا ثبوت دیا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کی بات کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی اور یوں تاثر دیا گیا کہ  جیسے اب مسئلہ کشمیر حل ہونے کو ہے اور ہماری ساری امید امریکی صدر سے وابستہ ہے۔ ہم نے تو یہ سب کر دکھایا لیکن بھارت ہمارے ہر اقدام کو کمزوری سمجھتا رہا۔

سب کچھ تو کر دکھایا لیکن انہیں اب بھی انہیں ترس نہ آیا۔ کشمیر کی حیثیت بدل دی۔ ہم اتنے بےتوقیر تو کبھی نہ تھے؟ انڈیا کو یہ سب کرنے کی ہمت کیوں ہوئی؟

دراصل ہم سیاست میں اتنے مصروف تھے، اندرونی سیاست میں، گرفتاریوں، جلسوں، گرما گرم بیانات اور الزام تراشیوں میں کہ کشمیر یاد نہ رہا۔ کشمیر کے حالات پر اور کنٹرول لائن پر نظر رکھنے کی بجائے سائبر ٹیمیں بنا کر سیاسی  ٹرینڈز چلوائے جا رہے تھے۔ انہیں یقین ہو گیا کہ اب پاکستانی صرف ٹوئٹر پر جنگ لڑ سکتے ہیں۔ ان کی توجہ اب دفاع پر نہیں صرف آپس کی لڑائیوں پر ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ ہم کسی کو مورد الزام ٹھہرا دیں۔ کسی کی حب وطنی پر شک کریں۔ ایک ایسا ملک جس حکومت اور اپوزیشن باہم دست و گریبان ہو، ہر کوئی ایک دوسرے پر الزام تراشی کر رہا ہو، ادارے ویڈیوز جاری کر رہے ہوں یا کسی ویڈیوز کی وضاحت میں لگے ہوں، معیشت اس حد تک گر چکی ہو کہ سٹاک مارکیٹ 20 ہزار پوائنٹس کی تنزلی کا شکار ہو جائے، اہل اقتدار کے اقدامات سے ایسا لگے کہ ان کی اب ساری امید کسی بیرونی ریاست کے صدر کی ثالثی کی پیشکش ہے اور ہم ہر صورت اپنا مثبت تاثر پیش کرنے کے چکر میں سب کچھ بھول جائیں۔

اب پچھتانا کیا؟

ٹرمپ سے امیدیں لگانے والوں کو 71 یاد رکھنا چاہیے۔

الوداع کشمیریو، ہم مصروف تھے، ہم مصروف ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ