بلوچستان کو ’نوگو ایریا ‘ کے تاثر سے نکالنے والے فوٹوگرافر

بلوچ نوجوان اپنی تصاویر کے ذریعے پاکستان اور دنیا بھر میں بلوچستان کو ’نوگو ایریا‘ کے خیالی مقام سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

4

بلوچستان میں بدترین حالات، کشیدہ صورتحال اور پسماندگی کی وجہ سے کئی شعبے زبوں حالی کا شکار ہیں، البتہ چند ایسے بھی ہیں جو نوجوانوں میں دلچسپی کا سبب بن رہے ہیں۔ ایسا ہی ایک شعبہ فوٹوگرافی کا ہے جس کو مقامی نوجوان فروغ دے رہے ہیں۔

زاہد شاہ بینکنگ کے پیشے سے وابستہ ہیں مگر وہ اسے صرف روزگار کا ذریعہ سمجھتے ہیں، ان کا اصل شوق فوٹوگرافی ہے۔ وہ فوٹوگرافی سے اپنے علاقے، یہاں کی زندگی اور نظاروں کو نہ صرف دنیا تک پہنچانا چاہتے ہیں بلکہ اپنے لوگوں کو بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ ان کے اطراف اور علاقے کس قدر خوبصورت ہیں۔

زاہد کہتے ہیں ’فوٹوگرافی میری زندگی کا اہم مقصد ہے۔ میں اپنے شہر، یہاں کی زندگی اور خوبصورتی کو کیمرے کی آنکھ سے دنیا تک پہنچانا چاہتا ہوں، مگر اس سلسلے میں بلوچستان میں کوئی ادارہ نہیں جو اس شعبے کو پروموٹ کرے یا ہمیں تربیت دے۔‘

وہ حال ہی میں وائس آف بلوچستان کی فوٹو واک اور فوٹوگرافی کے مقابلے میں شامل ہوئے۔ وائس آف بلوچستان حکومتِ بلوچستان کے تعاون سے نوجوانوں کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ہے جس نے گوادر میں فوٹوگرافی کو فروغ دینے کے لیے ایک واک کا انعقاد کیا تھا۔

واک میں گوادر، سربندر، پسنی، تربت اور مکران سے تقریباً 45 فوٹوگرافرز نے حصہ لیا، جن میں حمل سالار بھی شامل تھے۔ وہ اس واک کو فوٹوگرافی کے فروغ کے لیے ایک قدم ضرور سمجھتے ہیں لیکن اس سے پوری طرح مطمئن نہیں۔

حمل کہتے ہیں بلوچستان کی نمائندگی کرنے کے لیے انہیں اس سے زیادہ کی ضرورت ہے تاکہ فوٹوگرافی کو اس کا مقام مل سکے۔ وہ پرامید ہیں کہ محدود وسائل کے باوجود ان کی فوٹوگرافی جاری رہے گی تاکہ وہ اپنے گاؤں، دیہات کو دوسری علاقوں میں بسنے والے لوگوں کو دکھا سکیں۔

فوٹوگرافی کے اس مقابلے میں گوادر کے نوجوان فوٹوگرافر شاہد مجید نے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں شاہد نے کہا کہ انھوں نے جو کچھ بھی سیکھا، وہ اپنے تجربات سے سیکھا ہے۔

’بچپن سے ایک احساس خدشے کی صورت اندر ہی اندر موجود تھا کہ یہ سمندر، کشتیاں اور مناظر جو آج ہیں شاید کل نہ ہوں۔ انہیں دنیا کو دکھانا ہے اور بلوچستان سے باہر لوگوں کو بتانا ہے کہ یہ صوبہ کس قدر خوبصورت ہے۔‘

فوٹوگرافی میں اپنے ابتدائی دنوں کے متعلق شاہد نے بتایا جب انھوں نے فوٹوگرافی کے لیے پہلی بار کیمرے والا موبائل لیا تو گھر میں ان کو ڈانٹ اور مار پڑنے لگی کہ یہ بچہ ابھی خراب ہونے جارہا ہے۔

اپنے شوق کی خاطر شاہد نے ایک سال تک بلا معاوضہ ایک دکان میں کام کیا کیونکہ انہیں فوٹوگرافی کرنے کے لیے کیمرا چاہیے تھا۔

 شاہد سمجھتے ہیں اگر اس شعبے کو سرکاری سطح پر مدد حاصل ہو تو بلوچستان میں سیاحت اور بلوچستان کے حوالے سے باقی پاکستان کو بہترین معلومات مل سکتی ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

بلوچستان کے اور قابل نوجوان اور فوٹوگرافی کی دنیا میں ’کمانچر‘ کے نام سے مشہور سرور بلوچ بھی ہیں، جن کا تعلق بلوچستان کے انتہائی شورش زدہ سرحدی علاقے مند سے ہے۔

ان کی فوٹو گرافی بلوچستان کے کھیتوں، مشکیزوں، جھونپڑیوں، کھجور کے درختوں اور اسی طرح کی دوسرے کئی اشیا اور زندگی کے نایاب کلکشنز پر مبنی ہے جنہیں پہلے کبھی نہیں دکھایا گیا تھا۔

سرور بلوچ کی فوٹوگرافی کے بارے میں بلوچی زبان کے ادیب اسحاق خاموش کہتے ہیں۔ ’کمانچر اور اس جیسے فوٹوگرافر بلوچستان کی خوبصورتی کو محفوظ کرنے کے لیے کام کررہے ہیں۔ انہوں نےکم وقت میں پانچ ہزار تک نایاب کلکشنز جمع کر لی ہیں۔ بلوچستان اور بیرون بلوچستان فن سے محبت رکھنے والے لوگوں کو ان کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔‘

بلوچستان کے بارے میں دوسرے صوبوں کے لوگوں سے بات کر کے یہ تاثر ملتا ہے جیسے ان کی نظر میں بلوچستان میں بس خشک پہاڑ اور غیر تعلیم یافتہ لوگ رہتے ہیں، لیکن ایسا نہیں ہے۔

مہین خان کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ایک وائلڈ لائف فوٹوگرافر ہیں۔ انہوں نے کہا: ’ہم نے فوٹوگرافی کی مدد سے ثابت کیا کہ بلوچستان کے پہاڑ جہالت کی علامت نہیں، بلکہ یہ خوبصورتی کا دلکش نظارہ ہیں۔‘

مہین فخر سے کہتے ہیں انہوں نے بلوچستان کے پہاڑوں پر ایسے نایاب قسم کے جانداروں کی تصاویر لی ہیں جو دنیا میں کہیں بھی نہیں پائے جاتے۔ ’بلوچستان میں خضدار اور لسبیلہ کے پہاڑ ایسے نایاب قسم کے جانداروں کے مسکن ہیں جن کی نسل دنیا بھر میں یا تو ختم ہوچکی ہے یا ختم ہونے کے انتہائی قریب ہے، مگر خوش قسمتی سے ہمارے ہاں اب بھی ایسے جاندار پائےجاتے ہیں جو ہمیں دنیا بھر میں اعزاز دلا رہے ہیں۔‘

مہین خان نے فوٹوگرافی کی مدد سے محکمہ جنگلات اور  کچھ  این جی اوز کے ساتھ مل کر آگاہی پھیلائی ہے کہ جنگلی حیات کا تحفظ ہمارا قومی فریضہ ہے۔ ’ہمیں خوشی ہوتی ہے آج بلوچستان میں یہ شعور عام ہوچکا ہے کہ وائلڈ لائف شکار کے لیے نہیں۔‘

مہین خان نے بتایا انہوں نے بلوچستان یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی اینڈ مینجمنٹ سائنسز کی طرف سے ایک کیلنڈر شائع کیا تھا جس پر تمام تصاویر بلوچستان کی وائلڈلائف کے متعلق تھیں۔

ان کیلنڈرز کو ملک بھر کی جامعات میں تقسیم کیا گیا، جس سے بلوچستان کی جنگلی حیات اور فوٹوگرافی کے بارے میں ملک بھر میں معلومات پھیلیں اور یہ ان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

انور شاہ ایک کیمرہ مین اور ایڈیٹر ہونے ساتھ ساتھ ایک فوٹوگرافر بھی ہیں اور صبح سویرے کی تصاویر کی بڑی کلکشن رکھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا: ’مجھے نہیں پتہ فوٹوگرافی کی اقسام میں مارننگ لائف فوٹوگرافی کی کوئی ٹرم ہے یہ نہیں، مگر چونکہ فوٹوگرافی میرا فن ہے اور گُڈ مارننگ ایک روایت، لہذا میں صبح صبح کچھ کہنے یا کسی اور سے آئی ہوئی کوئی چیز شیئر کرنے کے بجائے اپنی لی گئی صبح کی زندگی کی تصاویر کو صبح بخیر کے ساتھ شیئر کرتا ہوں۔‘

عبدالحئی بھی فوٹوگرافی کا شوق رکھتے ہیں۔ وہ بھی سمجھتے ہیں بلوچستان اور یہاں کے خوبصورت مناظر کو دکھانا اہم ذمہ داری ہے، ورنہ بلوچستان ایک خیالی دنیا کی صورت میں ایک الگ دنیا ہی سمجھا جائے گا۔

’یہ ایک وسیع شعبہ ہے جس طرح بلوچستان ایک وسیع سرزمین ہے، ہم جتنی زیادہ محنت کریں گے اتنی ہی بہترین تصاویر دکھا سکیں گے، لیکن ہاں تربیت اپنی مثال آپ ہے کیونکہ وہ پیشہ وارانہ طریقہ کار ہے۔‘

فوٹوگرافی میں اتنی بڑی تعداد میں نوجوانوں کی دلچسپی سے یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ شعبہ کسی کو کما کر کچھ دے سکتا ہے؟

پسنی سے تعلق رکھنے والے نوجوان فوٹوگرافر شہزاد محمد علی کہتے ہیں: ’بالکل۔ میں خود کئی کمپنیوں کے ساتھ کراچی میں پراڈکٹ اور فیشن فوٹوگرافر کے طورپر کام کر رہا ہوں اور الحمداللہ اچھا کما بھی رہا ہوں۔‘

شہزاد مانتے ہیں اس شعبے سے جڑنے کے لیے تکلیف برداشت کرنا پڑے گی اور بلوچستان سے نکل کر باقاعدہ تربیت حاصل کرنا ضروری ہے کیونکہ بلوچستان میں ادارے نہیں ہیں جو نوجوانوں کو سیکھا سکیں۔

شہزاد بلوچستان میں رات کو فوٹوگرافی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے بلوچستان کے ساحلی علاقوں کی آسامانی فوٹوگرافی پورے ملک میں بے حد مشہور ہے کیونکہ ایسے منظر آپ کو کہیں اورنہیں ملیں گے۔

ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق صوبہ پنجاب کے سب سے بڑے شہر کے اکثر نوجوان بلوچستان کے دو شہروں کے نام تک نہیں جانتے اور یہاں کی ثقافت، سیاحتی مقامات اور روزمرہ کی زندگی کے بارے میں ناواقف ہیں۔

اس کی بڑی وجہ شاید بلوچستان کا ملکی میڈیا میں اکثر غائب رہنا ہے۔ ایسے میں مقامی نوجوان فوٹوگرافی کی مدد سے بلوچستان کے حسین نظارے، یہاں کی زندگی اور جنگلات میں پائے جانے والی نایاب قسم کے جنگلی حیات کو دنیا بھر میں سوشل میڈیا کی مدد سے دکھا رہے ہیں۔

 یہ نوجوان فوٹوگرافر اپنی مدد آپ کے تحت اپنی تصاویر سے پاکستان اور دنیا بھر میں بلوچستان کو ’نوگو ایریا ‘ کے خیالی مقام سے نکال کر اس کی سیاحتی خوبصورتی اور ثقافت کو سوشل میڈیا پر عام کرہے ہیں۔ اگر انہیں اس شعبے سے متعلق باقاعدہ تربیت دی جائے تو وہ بہتر طریقے سے یہ کام سرانجام دے سکیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی نئی نسل