کراچی 10 ارب ڈالر کا خرچہ مانگتا ہے!

ورلڈ بینک سے جاری ہونے والی 2018 کی رپورٹ کے مطابق کراچی کو زندگی گزارنے کے قابل شہر بنانے کے لیے 10 ارب ڈالرز کا خرچہ آئے گا۔

کچرے سے اٹے کراچی کے ساحل۔ (اے ایف پی)

پیارے بچو

جی ماسٹر صاحب

پاکستان کا سب سے بڑا شہر کون سا ہے؟

پیارے بچے یک زبان بولے ’کچراچی‘

بدتمیز نالائقو! شرم نہیں آتی۔ ماسٹر جی آگ بگولا ہوگئے۔ پھر پچکار کر کہا بری بات بچو، پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ہے۔ لیکن ماسٹر صاحب کراچی تو کہیں دکھتا ہی نہیں۔ ہر جگہ کچرا ہی نظر آتا ہے۔ گھر کے دروازے پہ کچرا، گلی میں کچرا، گلی کے نکڑ پہ کچرا دان خالی اور نکڑ پہ کچرا ہی کچرا، سڑک پہ کچرا، پل کے اوپر کچرا، پل کے نیچے کچرا، ندی میں کچرا، نالے میں کچرا، پولیس کے ناکے میں کچرا، بازار میں کچرا، سرکاری سکول میں کچرا۔ تو ماسٹر صاحب یہ کچراچی ہی ہوا ناں، کراچی تو کبھی تھا پچاس ساٹھ سال پہلے۔

بچوں کے منہ سے ایسی بات سن کر ماسٹر صاحب ٹھنڈی آہ بھر کر رہ گئے۔ بچوں نے ایسا کچھ غلط بھی نہیں کہا تھا۔ کراچی جس کے بارے میں بچپن میں سنا کرتے تھے کہ رات کو اس کی سڑکیں پانی سے دھلا کرتی ہیں اب تو پانی صرف ٹینکر مافیا تک ہی محدود ہوگیا ہے۔ نلکوں سے تو صرف ہوا ہی نکلتی ہے۔

اس کراچی میں اب روزانہ بارہ ہزار ٹن، جی ہاں بارہ ہزار ٹن، کچرا نکلتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف چھ ہزار ٹن کو ٹھکانے لگایا جاتا ہے باقی چھ ہزار ٹن کہیں پہنچایا نہیں جاتا بس پڑے پڑے سڑتا رہتا ہے اور شہریوں کے اعصاب چٹخانے کے ساتھ ساتھ ان کے نتھنے سڑانے کا فریضہ بھی انجام دیتا رہتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی کچرے اور آلودگی کی وجہ سے کراچی کا شمار جنوبی ایشیا کے پانچویں گندے ترین اور آلودہ شہر میں ہونے لگا ہے۔ 2018 میں ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ نے یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی تھی کہ کراچی کو ٹرانسپورٹ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں، پانی کی فراہمی اور نکاسی، کچرے، تجاوزات، بڑھتی آبادی اور آلودگی کے مسائل کا سامنا ہے۔ کراچی کو زندگی گزارنے کے قابل شہر بنانے کے لیے 10 ارب ڈالرز کا خرچہ آئے گا جس کی تکمیل میں 10 سال کا عرصہ لگے گا۔

اس بارے میں حکومت کو بعد میں روئیں گے، پہلے ہم ذرا اپنے گریبان میں جھانک لیتے ہیں۔ ہم عوام جنہوں نے پورے شہر کو اگلدان بنا رکھا ہے۔ پان، گٹکا، ماوا اور مین پوری کے شوقین کراچی والے پہلے منہ میں کچرا بھرتے ہیں پھر آخ تھو کرکے وہی کچرا سڑک پہ پھینک دیتے ہیں۔ یوں لگتا ہے شہر کی ساری تہذیب جگالی کرنے سے لے کر پیک تھوکنے کی حد تک ہی رہ گئی ہے۔ وہ تہذیب جو شہر کے کونے کھدروں، دیواروں اور سڑکوں پر پیک کی گلکاریوں سے سرخ نظر آتی ہے۔

گھروں سے نکلنے والے کچرے کو رات کو پلاسٹک کی تھیلی میں سینت سینت کر جمع کیا جاتا ہے اور وہ تھیلی مکان کے باہر پھینک کر دی جاتی ہے۔ اس تھیلی کو پھاڑ کر کتے بلی دعوت اڑاتے ہیں، بچی کچھی ہڈیاں بھنبھوڑتے ہیں، باقی نشان عظمت پوری گلی میں تھیلی کے ساتھ اُڑتے پھرتے ہیں۔ خوشبویات کے جھونکے سارا دن فضا کو مہکائے رکھتے ہیں۔

اب بڑی عید کی آمد آمد ہے تو گائے بکرے دنبوں کے گوبر اور مینگنیوں سے رستے سنے ہوئے ہیں۔ جانوروں کے گلے میں پھولوں کی مالا ہیں۔ پانی کی پائپ لگا کر نہلایا دھلایا بھی جارہا ہے۔ ’کاو اور گوٹ واک‘ کے نظارے عام ہیں لیکن ساتھ ساتھ فن گوبری کے فن پارے بھی گلی کوچوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ بقول شاعر اسی گوبر پہ چل کے آ سکو تو آو میرے گھر کے راستے میں صفائی نہیں ہے۔

گلی محلے سے باہر نکل کر دیکھیں تو چوکوں چوراہوں پر بھی کچرے کی کٹی پہاڑیاں دیکھنے والوں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں۔ کوئی دل جلا سوٹا مار کے جلتی سگریٹ اسی پہاڑی پہ پھینک دے تو وہ بھی جلے دل کی طرح دھیرے دھیرے سلگتی رہتی ہے اور پہلے سے صاف شفاف ماحول کو مزید معطر بنا دیتی ہے۔ پارک اور باغات کا حال اپنے ہاتھوں ہی برباد کر چکے ہیں۔ اول تو اس نام کی کوئی شے شہر قائد میں بچی نہیں اگر کہیں موجود بھی ہے تو دودھ کے ڈبے، برگر فرنچ فرائز کے پیکٹ، ٹافیوں کے ریپر، جلے تڑے مڑے سگریٹوں کے ٹوٹے، سڑی ہوئی جرابوں کے جوڑے مستانی ہواؤں کے ساتھ لہک لہک کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’آو ناں کبھی خشبو لگا کے، ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں۔‘

یہ سب کارنامے ہمارے اپنے ہی ہیں۔ ہم کراچی والے، ہم پڑھے لکھے، ہم تمیز اور تہذیب رکھنے کے دعوے دار، ہم نام نہاد باشعور، ہم خود ساختہ عالم و فاضل، اپنے ہی ہاتھوں سے ہم نے کراچی کو کچراچی بنانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ حالت یہ ہے کہ کسی کو بتانے کی کوشش کی جائے کہ یہ درست عمل نہیں تو وہ جوتوں سمیت آنکھوں میں ہی گھسا چلا آتا ہے کہ اب تم بتاؤ گے کہ کیا غلط ہے اور کیا صحیح۔

اب ذکر ذرا ان سیاسی پنڈتوں کا جن کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ وہ کچرے کی سیاست کرتے ہیں یا سیاست کا کچرا بنا کر اسے وعدوں اور دعووں کے ڈسٹ بن میں پھینکتے ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے گذشتہ 10 برسوں میں اقتدار کا پاندان تو اپنے ہاتھوں میں رکھا، لیکن عوام کو بیانات کا چونا اور سیاسی کچرے اور گندگی کا کتھا لگانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ نالوں کی چائنا کٹنگ کرکے ان پہ بستیوں کی بستیاں آباد کر دی گئیں، گندے پانی کو نکاسی کا رستہ نہ ملا تو ابلتی گٹر لائنوں کے دہانے پھٹنے لگے۔ سیاسی مخالفتوں کے تعفن کا نتیجہ بدبودار ریلوں کی صورت سڑکوں پہ بہتا رہا لیکن ان کی بند ناک نہ کھلی۔ شہر کے اپنے ہونے کے دعوے دار جب تک ’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے‘ گاتے رہے تب تک وہ بھی مست ملنگ بنے رہے۔ جہاں اقتدار کی رولر کوسٹر ہاتھ سے نکلی انہیں بھی درد فنڈ ہونے لگا۔ ایک دوسرے پہ الزامات کی کیچڑ اچھلنے لگی، ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی ناقدری اور مخالف کی نااہلی کے نوحے پڑھے جانے لگے۔ دس برسوں میں یہ طے نہ ہو سکا کہ کچرا کون اٹھائے گا، کیسے اٹھائے گا، کہاں ٹھکانے لگائے گا اور گندے نالوں کا بگڑا حلیہ کون ٹھیک کرے گا؟ یہی رونا ختم ہونے میں نہیں آ رہا کہ بلدیہ کس کے ماتحت کام کرے گی، صوبائی حکومت کا اختیار کیا ہوگا، شہری حکومت کن اداروں سے جواب طلبی کرے گی؟ ان دونوں کی دھما چوکڑی چل ہی رہی تھی کہ اب وفاق کی بھی اینٹری ہوگئی۔

یکم اگست کو علی زیدی نے سوشل میڈیا پر 14 اگست تک کراچی کو شیشے کی طرح چمکانے کا نعرہ مستانہ بلند کیا تو چار اطراف سے بھئی واہ واہ، کیا کہنے، انشااللہ، ماشاللہ کہنے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ انجمن ستائش باہمی کا حصہ بن کر تعریفوں اور زبانی کلامی حمایتوں کے بازار گرم کر دیے۔ سوشل اور الیکٹرونک میڈیا پہ پیغامات کی بھرمار کر کے سمجھ لیا کہ کراچی صاف ہوگیا۔

جب مبارک سلامت کا خمار کچھ اترا تو شہر کی صفائی کے نعرے نالوں کی صفائی کے دعووں میں بدل گئے۔ جب نالوں کی صفائی کا مرحلہ شروع کرنے کا وقت آیا تو کراچی والوں سے ہی 175 کروڑ روپے مانگ لیے، یعنی گھوم پھر کے معاملہ صفائی مہم سے جیب کی صفائی تک پہنچ گیا۔ اب نالے صاف کرانے ہیں تو چندہ دینا ہے اسی طرح جیسے ڈیم فنڈ کی بھرپور مہم میں دیا تھا وہ 10 ارب روپیہ کہاں گیا؟ اس کا تو آج تک کچھ پتہ نہ چل سکا لیکن پبلک صرف ڈیم فُول بن گئی۔ اب کراچی کی صفائی کے لیے بھی اللہ کے نام پہ دے دے بابا، جو دے اس کا بھلا، جو نہ دے اس کا منہ کالا۔ سندھ حکومت نے تو کہہ دیا کہ معاف کرو بابا۔ رہ گئے کچراچی والے تو ان کے لیے اخلاق احمد کا ایک غمگین گانا ہو جائے۔ 

کبھی خواہشوں نے لوٹا

کبھی بےبسی نے مارا 

گلہ موت سے نہیں ہے

ہمیں زندگی نے مارا

 

----------

نوٹ: مندرجہ بالا تحریر منصف کی ذاتی آرا پر مبنی ہے اور ادارے کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ 

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ