ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے متنازع بیان پر معذرت کرلی

ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ان کے اس متنازع بیان پر کڑی تنقید کا سامنا ہے، جس میں انہوں نے ملائیشیا میں صدیوں سے آباد بھارتیوں کی ملائیشیا کے وزیراعظم سے ’وفاداری‘ پر سوال اٹھانے کے علاوہ وہیں آباد چینیوں کو بھی ’پرانے مہمان‘ قرار دیا تھا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے متعدد الزامات کا سامنا کرنے والے ذاکر نائیک نے 2016 میں ملائیشیا میں پناہ حاصل کی تھی، جن کو اس مسلم اکثریتی ملک نے مستقل سکونت کی اجازت دی تھی (اے ایف پی)

بھارت سے تعلق رکھنے والے متنازع اسلامی مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے منگل کو اپنے اُس نسل پرستانہ بیان پر معافی مانگ لی ہے جس نے کثیر الثقافت ملک ملائیشیا میں غصے کی لہر دوڑا دی تھی۔ مقامی برادریوں کے بارے میں ان کے متنازع بیان پر پولیس نے ڈاکٹر ذاکر نائیک سے ایک روز قبل پوچھ گچھ بھی کی تھی جبکہ ان کی ملک بدری کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا تھا۔

بھارتی حکومت کی جانب سے متعدد الزامات کا سامنا کرنے والے ذاکر نائیک نے 2016 میں ملائیشیا میں پناہ حاصل کی تھی، جن کو اس مسلم اکثریتی ملک نے مستقل سکونت کی اجازت دی تھی۔

بھارت میں ان پر منی لانڈرنگ اور انتہا پسندی پھیلانے کا الزام ہے جس سے وہ انکار کرتے ہیں جبکہ نئی دہلی نے گذشتہ برس ملائیشیا کی حکومت سے ان کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا تھا جیسے ملائیشیا نے مسترد کر دیا تھا۔

ڈاکٹر ذاکر نائیک کو ان کے اس متنازع بیان پر کڑی تنقید کا سامنا ہے، جس میں انہوں نے ملائیشیا میں صدیوں سے آباد بھارتیوں کی ملائیشیا کے وزیراعظم سے ’وفاداری‘ پر سوال اٹھانے کے علاوہ وہیں آباد چینیوں کو بھی ’پرانے مہمان‘ قرار دیا تھا۔

پولیس نے پیر کو ٹیلی ویژن پر تبلیغ کرنے والے ذاکر نائیک سے سات گھنٹوں سے زائد وقت تک سوالات کیے تھے، ان پر جان بوجھ کر اقلیتی برادریوں کی توہین اور باہمی امن اور بھائی چارے کی فضا کو متاثر کرنے کا الزام تھا۔

ذاکر نائیک نے منگل کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ ان کے خیالات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس عمل کو ’حیران کن جعل سازی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا کسی فرد یا برادری کو ٹھیس پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔

ذاکر نائیک نے کہا: ’یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے اور میں دل کی گہرائی سے اس غلط فہمی پر معذرت خواہ ہوں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا پر فوری اور شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس نے وزیراعظم مہاتر محمد کو بھی اس معاملے پر بولنے پر مجبور کر دیا تھا۔

ملائیشیا کی سرکاری نیوز ایجنسی ’بیرناما‘ کے مطابق وزیراعظم مہاتر محمد کا ذاکر نائیک کے اس بیان کے حوالے سے کہنا تھا کہ انہوں نے ’حد عبور کی ہے۔‘

مہاتر کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر نائیک کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ملائیشیا کی نسلی سیاست میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا: ’وہ (نائیک) تبلیغ کا کام کرسکتے ہیں لیکن وہ ایسا نہیں کر رہے تھے۔ وہ چینی نژاد ملائیشینز کو چین جب کہ ہندوستانی برادری کو واپس بھارت بھیجنے کی بات کر رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ ایک سیاسی قدم ہے۔‘

علاوہ ازیں کابینہ کے کئی ارکان نے بھی ڈاکٹر ذاکر نائیک کی ملک بدری کا مطالبہ کیا تھا۔

اس دوران پولیس نے ان پر ملک کے کسی بھی حصے میں تقریر یا عوامی بیان دینے پر پابندی لگا دی ہے۔

مسلم آبادی میں بے چینی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے ممکنہ ردعمل کے خوف سے ملائیشیا کی حکمران جماعت ماضی میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف کوئی بھی اقدام اٹھانے سے گریزاں تھی۔

ملائیشیا کی کُل آبادی تین کروڑ 20 لاکھ ہے جن میں 60 فیصد مسلمان ہیں اور باقی بھارت اور چین سے تعلق رکھنے والی برادریاں شامل ہیں۔

پیس ٹی وی کے بانی ڈاکٹر ذاکر نائیک کا یہ پہلا اور واحد متنازع بیان نہیں تھا۔ اس سے قبل انہوں نے جولائی 2008 میں کہا تھا کہ نائن الیون حملوں میں القاعدہ ملوث نہیں تھی بلکہ یہ خود امریکیوں کا کام تھا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا