اسامہ بن لادن سے ایک ملاقات، وہ انسان جس نے دنیا ہلا کر رکھ دی

یہاں رابرٹ فسک کی القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن سے ملاقات کا احوال شائع کیا گیا ہے، جو ان کی کتاب ’دی گریٹ وار فار سویلائزیشن‘ سے لیا گیا ایک اقتباس ہے۔

القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن۔ فائل تصویر: اے ایف پی

 

جون 1996 کی ایک گرم شام میری میز پر ٹیلیفون کی گھنٹی ایک غیرمعمولی پیغام کے ساتھ بجی۔ یہ پیغام مجھے بطور غیرملکی نامہ نگار موصول ہوا۔ ایک آواز نے عربی لہجے کے ساتھ انگریزی زبان میں کہا: ’مسٹر رابرٹ، ایک دوست جس سے آپ سوڈان میں ملے تھے آپ سے ملنا چاہ رہا ہے۔‘ پہلے پہل مجھے لگا کہ وہ کسی اور دوست کی بات کر رہا ہے جس کا نام میں نے انہیں بتایا۔ ’نہیں، نہیں، مسٹر رابرٹ میرا مطلب وہ شخص ہے جس کا آپ نے انٹرویو کیا تھا۔ کیا آپ سمجھے؟‘

ہاں میں سمجھ گیا اور میں اس شخص سے کہاں مل سکتا ہوں؟ جواب آیاـ:’اس جگہ جہاں وہ آج کل ہے۔‘ مجھے معلوم تھا کہ بن لادن کے بارے میں افواہیں گرم تھیں کہ وہ افغانستان لوٹ چکا ہے لیکن اس کی کوئی تصدیق موجود نہیں تھی۔ میں نے دریافت کیا، ’تو پھر میں اس تک کیسے پہنچ سکتا ہوں؟‘ جواب آیا، ’جلال آباد چلے جاؤ – آپ سے رابطہ کر لیا جائے گا۔‘

ایک ماہ بعد: ’کلاک-کلاک-کلاک۔‘ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی برف کے ٹکڑے کے ساتھ میرے سر پر حملہ کر رہا تھا۔ ’کلاک-کلاک-کلاک۔کلاک-کلاک۔‘ میں اٹھ بیٹھا۔ کوئی سپن غر ہوٹل میں گاڑیوں کی چابی سے میرے کمرے کی کھڑکی کے شیشے پر دستک دے رہا تھا۔

ایک آواز نے جلدی میں سرگوشی کی: ’مسٹر رابرٹ۔‘ اس نے مسٹر کافی ہلکے سے کہا۔ میں نے کہا: ’جی میں یہاں ہوں۔‘ ’براے مہربانی نیچے آ جائیں، وہاں کوئی آپ سے ملنا چاہتا ہے۔‘ اس کا مجھے بہت دیر بعد احساس ہوا کہ یہ عمارت کے ہنگامی راستے سے میرے کمرے کی کھڑکی تک آیا ہوگا۔

میں نے کپڑے پہنے، ایک کوٹ اٹھایا – مجھے اس بات کا احساس تھا کہ ہمیں شاید رات میں سفر کرنا پڑے۔ مجھے اپنا نائیکون کیمرا تقریباً بھول گیا تھا۔ میں انتہائی پرسکون طریقے سے (جتنا کہ میں ہوسکتا تھا) استقبالیہ ڈیسک کے پاس سے گزر کر باہر دوپہر کی گرمی میں آ گیا۔

اس شخص نے گرد سے بھرے سلیٹی رنگ کا افغان لباس اور چھوٹی گول کاٹن کی ٹوپی زیب تن کی ہوئی تھی، لیکن وہ ایک عرب تھا جس نے مجھ سے باضابطہ مصافحہ کیا اور میرا دایاں ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا۔ وہ مسکرایا۔ اس نے کہا کہ اس کا نام محمد ہے اور وہ میرا گائیڈ ہے۔ میں نے سوال کیا: ’شیخ سے ملنے کے لیے؟‘ وہ مسکرا دیا لیکن اس نے کہا کچھ نہیں۔

میں نے جلال آباد کی دھول بھری گلی میں محمد کا اُس وقت تک تعاقب کیا جب تک ہم ایک پرانے برباد سویت فوجی اڈے کے قریب کھڑے مسلح افراد تک نہیں پہنچ گئے۔ ان میں سے تین افغان پگڑیاں باندھے ایک ٹرک کے پچھلے حصے میں تھے۔ ایک نے کلاشنکوف پکڑ رکھی تھی، دوسرے کے پاس گرنیڈ لانچر اور سکاچ ٹیپ سے بندھے چھ راکٹ موجود تھے۔ تیسرے نے مشین گن اپنی گود میں ٹرائی پاڈ اور گولیوں سمیت رکھی ہوئی تھی۔ ڈرائیور نے پرسکون انداز میں کہا جیسے کہ تین گوریلا جنگجوؤں کے ساتھ افغانستان کے ننگرہار صوبے میں گرم دوپہر میں سفر کرنا دنیا کے لیے معمول کی بات ہے، ’مسٹر رابرٹ، یہ ہمارے محافظ ہیں۔‘ ڈرائیور کے ساتھی کے کندھے پر نصب دوطرفہ پیغام رسانی کے آلے ریڈیو نے جیسے ہی شور کیا ایک اور مسلح افغانوں سے بھرا ٹرک ہمارے پیچھے چل پڑا۔

ہم روانہ ہونے ہی والے تھے کہ محمد پک اپ سے ڈرائیور کے ہمراہ نیچے اترے، سایہ دار گھاس تلاش کرکے وہاں نماز پڑھنا شروع کر دی۔ پانچ منٹ تک دونوں دو زانو مکہ کی جانب منہ کیے عبادت کرتے رہے۔ ہم ایک ٹوٹی ہوئی شاہراہ پر چلتے رہے اور پھر آبپاشی کے نالے کے ساتھ کچے راستے پر ہو لیے۔ گاڑی کے پیچھے بندوقیں فرش سے ٹکرا رہی تھیں اور محافظوں کی آنکھیں ان کی چادروں سے دکھائی دے رہی تھیں۔ ہم اس طرح کئی گھنٹوں تک سفر کرتے رہے۔ راستے میں مٹی کے نیم تباہ گاؤں، وادیاں اور سیاہ چٹانیں گزر رہی تھیں۔

شام تک ہم کچے مکانوں والے دیہات کے ایک سلسلے کے پاس پہنچے جہاں بوڑھے آگ لگائے ہوئے تھے اور برقعوں میں عورتیں اطراف میں کھڑی تھیں۔ یہاں لمبی داڑھیوں والے دیگر گوریلا جنگجو موجود تھے جو محمد اور ان کے ڈارئیور کو دیکھ رہے تھے۔

رات ہوچکی تھی جب ہم ایک باغ میں رکے، جہاں لکڑی کے صوفے لگے تھے جن پر فوجی کمبل ڈالے گئے تھے۔ یہاں مسلح افراد اندھیرے میں سے نمودار ہوئے۔ ان میں سے چند کے پاس رائفلیں جبکہ باقیوں کے پاس مشن گنز تھیں۔ یہ سب عرب مجاہدین تھے، وہ عرب ’افغان‘ جن کی عرب دنیا کے آدھے صدور، شاہ اور امریکہ مذمت کرتے تھے۔ بہت جلد دنیا انہیں القاعدہ کی طور پر جانے گی۔

محمد نے مجھے ان کے پیچھے آنے کا اشارہ کیا۔ ہم نے ایک چھوٹے دریا اور عبور کیا اور ندی کو پھلانگ کر مچھروں سے بھرے اندھیرے میں ہم نے ایک چراغ دیکھا۔ اس کے قریب ایک لمبا داڑھی بردار شخص سعودی لباس میں بیٹھا تھا۔ اسامہ بن لادن اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے دو نوجوان بیٹے، عمر اور سعد ان کے ساتھ موجود تھے۔ انہوں نے کہا: ’افغانستان میں خوش آمدید۔‘

وہ اب 40 سال کا تھا لیکن 1993 میں سوڈان کے صحرا میں ہماری آخری ملاقات کے مقابلے میں بہت بوڑھا دکھائی دے رہا تھا۔ میری جانب چلنے کے بعد ان کی چھوٹی آنکھوں کے ارد گرد نئی جھریاں واضح تھیں۔ ان کی داڑھی لمبی تھی اور سفید بال بھی نظر آ رہے تھے۔ انہوں نے اپنے سفید لباس پر سیاہ ویسٹ کوٹ اور سر پر ایک سرخ حاشیوں کا کفیاہ پہنا ہوا تھا۔ وہ تھکے ہوئے لگ رہے تھے۔ جب انہوں نے میری صحت کے بارے میں پوچھا تو میں نے ان سے کہا کہ میں اس ملاقات کے لیے ایک طویل راستہ طے کر کے آیا ہوں۔ انہوں نے جواب میں کہا: ’میں بھی۔‘

اس بار وہ کچھ الگ تھلگ بھی لگ رہے تھے۔ یہ میں نے اس سے پہلے محسوس نہیں کیا تھا، جیسے کہ وہ اپنے غصے پر طویل عرصہ قابو پاتے رہے تھے، اپنے عدم اطمینان کی جانچ پڑتال کر رہے تھے۔ جب وہ مسکرائے تو ان کی نگاہیں ان کے اپنے 16 سالہ بیٹے عمر اوراس اندھیرے کی جانب مڑ جاتیں تھیں جہاں ان کے مسلح محافظ نگرانی کر رہے تھے۔

صرف دس روز قبل بارود سے لدے ٹرک نے دہران، سعودی عرب میں الخوبر کے مقام پر امریکی ائیر فورس کے ہاؤسنگ کمپلکس کا حصہ تباہ کر دیا تھا اور ہم وہاں 19 امریکی فوجیوں کی موت کے بعد مل رہے تھے۔ بن لادن کو معلوم تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہے تھے۔ ’کچھ عرصہ قبل میں نے امریکہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ سعودی عرب سے اپنی فوجیں واپس بلا لے ۔ اب چلیں برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں کو مشورہ دے دیں کہ وہ اپنے فوجی واپس بلا لیں - کیونکہ ریاض اور الخوبر میں جو ہوا وہ ان اہداف کا انتخاب کرنے والوں کو معلوم تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔‘

’انہوں نے خاص دشمن کو نشانہ بنایا، جو کہ امریکی ہیں۔ انہوں نے ضمنی دشمن کو ہلاک نہیں کیا، نہ سعودی عرب میں اپنی فوج یا پولیس میں بھائیوں کو۔۔ ۔میں یہ مشورہ برطانوی حکومت کو دیتا ہوں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’امریکی سعودی عرب سے نکل جائیں، وہ خلیج سے نکل جائیں۔ مشرق وسطی کے ’شیطان‘ امریکہ کی جان سے اس خطے پر قبضے اور اسرائیل کی امداد کے نتیجے میں اٹھے ہیں۔ سعودی عرب کو ایک امریکی کالونی میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔‘

بن لادن آہستہ بول رہے تھے اور چراغ کے ساتھ بیٹھا ایک مصری کسی قدیم وقت کی طرح ایک بڑی کاپی میں نوٹس لے رہا تھا۔ ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم مغرب یا مغرب کے لوگوں کے خلاف اعلان جنگ کر رہے ہیں – مگر امریکی حکومت کے خلاف جو ہر امریکی کے خلاف ہے۔‘ میں نے بن لادن کو روکا اور کہا: ’عرب حکومتوں کے برعکس امریکی لوگوں نے اپنی حکومت کا انتخاب کیا۔ وہ کہیں گے کہ ان کی حکومت ان کی نمائندگی کرتی ہے۔‘ انہوں نے میری رائے کو نظر انداز کر دیا۔ مجھے امید ہے کہ انہوں نے ایسا کیا کیونکہ آنے والے برسوں میں ان کی جنگ ہزاروں امریکی شہریوں کی ہلاکت کا سبب بنے گی۔ انہوں نے کہا: ’الخوبر میں دھماکہ امریکی قبضے کا براہ راست ردعمل نہیں تھا مگر مسلمانوں کی جانب امریکی رویے کا نتیجہ تھا۔‘

لیکن جس بارے میں بن لادن دراصل بات کرنا چاہتے تھے وہ سعودی عرب تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سوڈان میں آخری ملاقات کے بعد سعودی عرب میں صورتحال بگڑ گئی ہے۔ علما، مذہبی رہنماؤں نے مساجد میں اعلانات کیے ہیں کہ امریکی افواج کی موجودگی ناقابل قبول ہے جس پر حکومت نے ’امریکی مشورے‘ پر ان علماء کے خلاف کارروائی کی۔ بن لادن کے لیے سعودی عوام سے دھوکہ ان کی پیدائش سے 24 سال پہلے شروع ہوا تھا جب 1932 میں عبد العزیز السود نے بادشاہت کا اعلان کیا تھا۔ ’وہ حکومت اسلامی قوانین کے نفاذ کے پرچم تلے شروع ہوئی اور اس نعرے کے تحت سعودی عرب کے تمام لوگوں نے سعودی خاندان کو اقتدار حاصل کرنے میں مدد کی۔ لیکن عبدالعزیز نے اسلامی قوانین نافذ نہیں کیے، یہ ملک ان کے خاندان کے لیے بنایا گیا تھا۔ پھر تیل کی دریافت کے بعد سعودی حکومت کو دوسری حمایت ملی – پیسہ جس نے لوگوں کو امیر بنا دیا اور وہ زندگی جن کی وہ خواہش کرتے تھے اور جو انہیں اطمینان دے سکے۔‘

بن لادن مسواک سے دانت صاف کر رہے تھے لیکن تاریخ بقول ان کے، ان کی باتوں کا محور تھی۔ سعودی شاہی خاندان نے اسلامی قوانین کا وعدہ کیا تھا لیکن اس دوران امریکیوں کو ’سعودی عرب کو مغربیت کی جانب مائل کرنے اور اس کی معیشت کو کھوکھلا کرنے‘ کی اجازت بھی دی۔ انہوں نے سعودی حکام پر 25 ارب ڈالرز صدام حسین کی حکومت کو ایران عراق جنگ میں مدد دینے اور مزید 60 ارب ڈالرز عراق کے خلاف 1991 کی لڑائی میں مغربی افواج کو ’عسکری ہتھیار خریدنے کے لیے دیے جو نہیں درکار تھے یا قابل استعمال نہیں تھے اور قرضے پر ہوائی جہاز خریدے‘ اور اسی دوران بےروزگاری بڑھائی، زیادہ ٹیکس نافذ کیے اور معیشت کا دیوالیہ کیا، لیکن بن لادن کے لیے 1990 اہم تاریخ تھی، جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کیا۔ ’جب امریکی فوجی سعودی عرب میں داخل ہوئے، دو مقدس مقامات کی سرزمین میں، علماء اور شریعت کے طلبہ کی جانب سے ملک بھر میں شدید احتجاج ہوا تھا۔ سعودی حکام کی امریکی افواج کو دعوت بڑی غلطی تھی، اس نے ان کا دھوکہ واضح کر دیا۔ وہ ان اقوام کی مدد کر رہے تھے جو مسلمانوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔‘

بن لادن رکے تاکہ دیکھ سکیں کہ میں نے تاریخ کے بارے میں ان کا خوفناک سبق توجہ سے سنا یا نہیں۔ ’سعودی عوام یاد کرتے ہیں کہ انہیں علما نے بتا دیا تھا اور انہیں احساس ہوگیا تھا کہ امریکہ ان کی مشکلات کی بڑی وجہ ہے۔ عام آدمی جانتا ہے کہ ان کا ملک دنیا میں تیل نکالنے والا سب سے بڑا ملک ہے لیکن وہ پھر بھی ٹیکسوں کو برداشت کر رہا ہے۔ اب لوگ علما کی تقاریر پہچان گئے ہیں کہ ہمارا ملک امریکی کالونی بن گیا ہے۔ ریاض اور الخوبر میں جو کچھ ہوا سعودی عوام کے امریکہ کے خلاف غصے کا واضح ثبوت ہے۔ سعودیوں کو اب معلوم ہوچکا ہے کہ ان کا اصل دشمن امریکہ ہے۔‘ سعودی حکومت کا خاتمہ اور وہاں سے امریکی فوجیوں کا انخلاء بن لادن کے لیے ایک ہی بات تھی۔ ان کا دعویٰ تھا کہ سعودی عرب کی اصلی دینی قیادت، جن میں وہ اپنے آپ کو بھی دیکھتا تھا، سعودی لوگوں کے لیے تقلید کے قابل تھی کہ سعودی خود ہی امریکیوں کو باہر نکال دیں گے – سعودی جنہیں امیر سمجھا جاتا تھا – امریکہ پر حملہ کریں گے۔ کیا یہ درست ہوسکتا ہے؟‘

بن لادن کبھی کبھی ایک منٹ تک بولنا بند کر دیتے تھے تاکہ اپنے الفاظ پر غور کرسکیں۔ عام طور پہ عربوں سے اگر کوئی رپورٹر سوال کرے تو وہی بول دیں گے جو ان کے ذہن میں اس وقت آتا ہے کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ نہیں بولیں گے تو کم عقل دکھائی دیں گے۔ بن لادن مختلف تھا۔ وہ خطرناک تھا کیونکہ اس کے پاس وہ صلاحیت تھی جو آدمی کو جنگ پر مجبور کرتی ہے یعنی خود پر مکمل اعتماد۔

بن لادن نے مجھ سے پوچھا تھا کہ کیا یورپی افراد نے دوسری جنگ عظیم کے دوران تسلط کی مخالفت نہیں کی تھی؟ میں نے انہیں بتایا کہ کوئی بھی یورپی شخص سعودی عرب سے متعلق یہ توجیہہ تسلیم نہیں کرے گا – کیونکہ نازیوں نے لاکھوں یورپیوں کا قتل کیا جبکہ امریکیوں نے ایک بھی سعودی کا قتل نہیں کیا۔ ایسا مقابلہ تاریخی اور اخلاقی طور پر غلط تھا۔ بن لادن اس سے متفق نہیں تھے۔ ’ہم مسلمانوں کا آپس میں زبردست احساس یکجہتی ہے۔۔۔ ہم اپنے فلسطینی اور لبنانی بھائیوں کے درد میں شریک ہیں۔ جب فلطسین کے اندر ساٹھ یہودی مارے گئے تھے۔‘ وہ اسرائیل میں فلسطینی خودکش حملوں کا حوالہ دے رہے تھے۔ ’تمام دنیا چند روز میں اکٹھی ہو کر اس اقدام پر تنقید کرتی ہے جبکہ چھ لاکھ عراقی بچوں کی موت اس طرح کا ردعمل نہیں حاصل کر پاتی۔‘ یہ بن لادن کا عراق اور اقوام متحدہ کی پابندیوں کا پہلا اشارہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”عراقی بچوں کی ہلاکت اسلام کے خلاف کروسیڈ یا جنگ ہے۔ ہم بطور مسلمان عراقی حکومت کو پسند نہیں کرتے لیکن سمجھتے ہیں کہ عراقی لوگ اور بچے ہمارے بھائی ہیں اور ہمیں ان کے مستقبل کا خیال ہے۔‘ یہ پہلی مرتبہ تھا کہ میں نے انہیں کروسیڈ کا لفظ استعمال کرتے سنا۔

کچھ وقت کے لیے بن لادن کے کیمپ کے مشرق میں طوفان بڑھ رہا تھا اور ہم پاکستانی سرحد پر پہاڑوں پر بجلی چمکتے دیکھ سکتے تھے۔ لیکن بن لادن کا خیال تھا کہ یہ آرٹیلری فائر ہوسکتا ہے۔ سویت مخالف جنگ کے بعد مجاہدین کے اندر کی لڑائی جس نے ان کو بری طرح متاثر کیا۔ وہ بے چین ہو رہے تھے۔ انہوں نے اپنی بات چیت نماز کے لیے منقطع کر دی۔ پھر کئی نوجوانوں اور مسلح افراد نے عشائیے کا بندوبست کیا – دہی اور پنیر کی پلیٹیں، افغان نان اور مزید چائے۔ بن لادن اپنے بیٹوں کے درمیان خاموشی سے کھانے پر نظریں جمائے بیٹھے رہے۔

میں نے بن لادن سے کہا کہ ان کی سوڈان سے جلا وطنی کے بعد افغانستان ہی واحد ملک ان کے لیے رہ گیا ہے۔ وہ متفق تھے۔ ’دنیا میں میرے لیے محفوظ ترین جگہ افغانستان ہے۔‘ میں نے دہرایا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں وہ سعودی حکومت کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ بن لادن اور ان کے کئی محافظ ہنس پڑے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’دوسری جگہیں ہیں۔‘ میں نے پوچھا: ’کیا ان کی مراد تاجکستان تھی؟ یا ازبکستان؟ قازقستان؟‘ جس پر انہوں نے کہا: ’کئی مقامات ہیں جہاں ہمارے دوست اور قریبی بھائی ہیں۔ ہم ان کے پاس پناہ اور تحفظ پاسکتے ہیں۔‘ میں نے بن لادن کو بتایا کہ ان کی تلاش پہلے سے شروع ہوچکی ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ’خطرہ ان کی زندگی کا حصہ ہے۔‘

انہوں نے اپنے لوگوں کے ساتھ سکیورٹی سے متعلق گفتگو شروع کی اور بار بار آسمان میں کڑکتی بجلی کو دیکھتے رہے۔ اب یہ گولیوں کی آوازیں لگنے لگی تھیں۔ میں نے ان سے مزید سوال پوچھنے کی کوشش کی۔ بن لادن کس قسم کی اسلامی ریاست دیکھنا پسند کریں گے؟ کیا چور اور قاتل کے ہاتھ یا سروں کو اسلامی شرعی ریاست میں کاٹا جائے گا، جیسا کہ سعودی عرب میں آج بھی کرتے ہیں؟ ایک غیراطمینان بخش جواب آیا۔ ’زندگی کے ہر مسئلے کے لیے اسلام ایک مکمل مذہب ہے۔ اگر کوئی شخص حقیقی مسلمان ہو اور جرم مرتکب کرے تو وہ صرف اس صورت میں خوش ہوسکتا ہے جب اسے سزا دی جائے۔ یہ ظلم نہیں ہے۔ ان سزاؤں کی ابتدا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے خدا کی طرف سے آتی ہے۔‘ میں نے ان سے تصویر لینے کی اجازت چاہی جس پر انہوں نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشاورت کی۔ اس دوران میں نے اپنی نوٹ بک میں اپنے وہ الفاظ لکھے جو میں اس ملاقات سے متعلق اپنی تحریر کے آخری پیراگراف میں استعمال کروں گا: ’اسامہ بن لادن کا خیال ہے کہ اب وہ سب سعودی حکومت اور امریکی موجودگی کے سب زیادہ مضبوط دشمن کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دونوں کی ان کے بارے میں یہ رائے شاید درست ہو۔‘ میں اس شخص کو کم اہمیت دے رہا تھا۔

’جی ہاں‘، انہوں نے کہا، میں ان کی تصویر لے سکتا ہوں۔ میں نے اپنے کیمرے کو کھولا اور اس میں فلم لگانے لگا۔ ان کے مسلح محافظ مجھے دیکھنے لگے۔ انتباہ کے بغیر، اسامہ بن لادن نے اپنے سر کو واپس موڑ لیا اور غیر معمولی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آگئی۔ انہوں نے اپنے بیٹوں عمر اور سعد کو بلایا اور وہ ان کے ساتھ بیٹھ گئے۔ جیسے جیسے میں نے تصاویر لیں اسامہ بن لادن ایک پُرفخر والد اور خاندان سے محبت کرنے والے عربی میں تبدیل ہوگئے۔

پھر ان کی پریشانی واپس لوٹ آئی۔ بجلی کی کڑک اب مسلسل تھی اور یہ رائفل کی آواز کے ساتھ مل  رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے اب جانا چاہیے۔ میں نے محسوس کیا کہ اس کا مطلب یہ تھا کہ انہیں جانا چاہیے۔ جب ہم نے ہاتھ ملائے تو وہ پہلے ہی محافظوں کو تلاش کر رہے تھے جو انہیں لے جائیں گے۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ