غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی: سپریم کورٹ کا وفاق کو نوٹس

سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی، وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’غیر قانونی افغان شہریوں کو بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے۔‘

ایک افغان خاندان دو نومبر، 2023 کو واپس اپنے ملک جانے کے لیے پاکستان کی طورخم سرحد پر پیدل آ رہا ہے (اے ایف پی/ فاروق نعیم)

سپریم کورٹ نے جمعے کو ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کیس میں وفاق، وزارت خارجہ، ایپکس کمیٹی اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کر دیے۔

گذشتہ روز سپریم کورٹ میں افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کے معاملے پر 11 افراد نے ایک درخواست دائر کی تھی، جس میں سیاسی رہنما فرحت اللہ بابر، سینیٹر مشتاق، محسن داوڑ، وکیل ایمان مزاری، عمران شفیق اور دیگر افراد شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے جسٹس سردار طارق مسعود کی سربراہی میں جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس عائشہ ملک پر مشتمل تین رکنی بینچ نے آج اس کیس پر سماعت کا آغاز کیا تو درخواست گزار فرحت اللہ بابر نے کہا کہ نگران حکومت کے پاس غیر قانونی شہریوں کی بے دخلی کا مینڈیٹ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جن افغان شہریوں کو بے دخل کیا جا رہا ہے، وہ سیاسی پناہ کی درخواستیں دے چکے ہیں۔ حکومت پاکستان افغان شہریوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کر رہی ہے۔

فرحت اللہ بابر نے نگران حکومت کے اختیارات پر آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ’نگران حکومت پالیسی معاملات پر حتمی فیصلہ کرنے کا آئینی اختیار نہیں رکھتی، اس عدالت کے پاس شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا اختیار ہے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

جسٹس یحییٰ آفریدی نے استفسار کیا کہ ’نشاندہی کریں کہ درخواست گزاروں کے کون سے بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں؟‘ جس پر فرحت اللہ بابر نے جواب دیا کہ ’آرٹیکل چار، نو، 10 اے اور  آرٹیکل 25 کے تحت بنیادی انسانی حقوق متاثر ہوئے ہیں۔‘

اس موقعے پر جسٹس سردار طارق مسعود نے سوال کیا: ’40 سال سے جو لوگ یہاں رہ رہے ہیں کیا وہ یہاں ہی رہیں؟ اس پر عدالت کی معاونت کریں۔‘

جسٹس عائشہ ملک نے بین الاقوامی قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے معاہدے پناہ گزینوں کے حقوق کو تحفظ دیتے ہیں اور پاکستان اقوام متحدہ کے ان معاہدوں کا پابند ہے۔

بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاق، ایپکس کمیٹی، وزارت خارجہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’غیر قانونی افغان شہریوں کو بے دخلی کا معاملہ آئینی تشریح کا بھی ہے۔‘

عدالت عظمیٰ نے جنرل معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دینے کے نقطے پر معاونت کرنے کو بھی کہا۔ بعد ازاں مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی گئی۔

افغان شہریوں کی بے دخلی کے معاملے پر درخواست

گذشتہ روز (30 نومبر کو) سپریم کورٹ میں دائر کی گئی اس درخواست میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

درخواست میں ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا: ’گذشتہ 40 سال سے پاکستان 50 لاکھ افغان پناہ گزینوں کی فراخدلی سے مہمان نوازی کر رہا ہے۔ سوویت یونین جنگ کے بعد تین جنگوں میں افغان پناہ گزین پاکستان آئے۔‘

درخواست کے مطابق حکومت نے غیر قانونی غیر ملکیوں کے انخلا کی ڈیڈ لائن دی اور میڈیا رپورٹس کے مطابق افغان پناہ گزینوں کو 50 ہزار روپے ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ’وفاقی حکومت فرداً فرداً ہر شخص کو نہیں جانچ پائی کہ کوئی فرد خطرہ ہے یا نہیں۔ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام ہوئی کہ افغانوں کی واپسی کا فیصلہ کس قانونی اتھارٹی کے تحت کیا گیا۔ افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کا فیصلہ بنیادی حقوق کے خلاف ہے۔‘

درخواست میں افغان پناہ گزینوں کی شفاف انداز میں واپسی کے لیے خود مختار کمیشن تشکیل دیے جانے کی استدعا کی گئی تھی۔

پاکستان کی حکومت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کے پالیسی کے تحت محکمہ داخلہ کے مطابق اب تک سرحد عبور کر کے دو لاکھ 40 ہزار سے زائد افغان شہری واپس جا چکے ہیں۔

غیر قانونی پناہ گزینوں کی ملک بدری کا حکم اس سال پاکستان میں خودکش بم دھماکوں اور دہشت گردی میں اضافے کے بعد دیا گیا تھا، جس کے بارے میں حکومت نے کہا تھا کہ ان حملوں میں افغان شہری ملوث تھے، تاہم کابل نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان