افغان پناہ گزینوں کے اندراج سے پاکستان کو ہی فائدہ ہو گا: یو این

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان یکم نومبر تک غیر قانونی ان پناہ گزینوں کو عملی طور پر نکالنے کی سکت رکھتا ہے؟

پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو بے دخل کرنے کے حکومتی فیصلے کے بعد 6 اکتوبر 2023 کو ایک افغان خاندان خیبر پختونخوا کے علاقے جمرود میں افغانستان واپس جانے کے لیے گاڑی پر سوار ہے (عبدالمجید/ اے ایف پی)

پاکستان میں حال ہی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر حکومت نے غیر قانونی پناہ گزینوں کو یکم نومبر تک ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا ہے جس کے بعد سے بڑے پیمانے پر افغان پناہ گزینوں اور ان کے امور سے منسلک عالمی اداروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان یکم نومبر تک غیرقانونی پناہ گزینوں کو عملی طور پر نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟ دوسری جانب ماہرین کے مطابق پاکستان افغان پناہ گزینوں کا اندراج کر کے نقصان کی بجائے فائدہ حاصل کرسکتا ہے۔

وفاقی سطح پر افغان پناہ گزینوں کی دیکھ بھال سے متعلق اُمور کی نگران وزارت برائے ریاستی اور سرحدی امور (سیفران) نے اس معاملے پر متعلقہ اداروں سے کہا کہ  اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ اندارج شدہ یا قانونی طور پر مقیم افغان پناہ گزینوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔

وزارت سیفران کے تحت کام کرنے والے ’چیف کمشنریٹ فار افغان ریفوجی‘ نے منگل کو جاری ہونے والے اعلامیے میں کہا کہ  پروف آف رجسٹریشن ’پی او آر‘ یعنی پاکستان میں رہنے کا اجازت نامہ رکھنے والے افغان شہری پاکستان میں عارضی طور پر رہ سکتے ہیں اور ان کی واپسی صرف رضا کارانہ ہو گی۔

اسی حوالے سے اس نوٹیفیکیشن پر اقوام متحدہ کے ادارے برائے پناہ گزین (یو این ایچ سی آر) کے پاکستان میں ترجمان قیصر خان آفریدی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی شیئر کیا۔

یواین ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو سے خصوصی گفتگو میں کہا: ’حکومت کو ان افغان پناہ گزینوں کو رجسٹر کرنے کی ضرورت ہے۔ جس سے پاکستان ہی کو فائدہ ہوگا۔‘

سکیورٹی صورت حال

قیصر خان آفریدی کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر کا ایک پراجیکٹ ’شارپ‘ اندراج شدہ یا پھر غیر اندراج شدہ افغان پناہ گزینوں کے خلاف قانونی مقدمات میں مدد کرتا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ’یہ قانونی کارروائی میں مدد ان کے لیے نہیں ہے جو جرائم پیشہ ہیں اور ان کے خلاف کارروائی میں مداخلت بھی نہیں کی جاتی۔‘

ان کے مطابق طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سے 2021 سے 2023 تک پاکستان میں سالانہ تقریباً سو ملین ڈالر افغان پناہ گزینوں پر خرچ کیے جاتے ہیں۔

افغان پناہ گزینوں کے لیے ملک میں اندراج اور ان کو واپس بھیجنے کے لیے اقدامات نئے نہیں ہیں۔

2014 میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت غیر قانونی افغان پناہ گزینوں کی رجسٹریشن کے عمل کی سفارش کی گئی تھی۔

قیصر آفریدی نے کہا: ’پاکستان میں اس وقت تین سے چار کیٹیگریز کے افغان ہیں، ان میں ایک وہ ہیں جن کو 2007 میں رجسٹر کیا گیا تھا، نادرا نے تقریباً دو ملین افراد کو رجسٹر کیا تھا یو این ایچ سی آر کی مدد سے، اور ان کو پی او آر جاری کیے جو مختلف ادوار میں ان کو توسیع ملتی رہی اور ان کی معیاد جون 2023 تک تھی جو اب ختم ہوگئی۔‘

دوسری کیٹیگریز میں وہ افراد ہیں جن کے پاس افغان کارڈ ہیں یا جن کے پاس کوئی دستاویزات نہیں ہیں۔

پاکستان کے وفاقی نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی نے گذشتہ ہفتے کو کہا تھا کہ ملک میں اس سال ہونے والے 24 میں سے 14 خودکش حملوں میں افغان شہری ملوث تھے۔

انہوں نے کہا کہ یکم نومبر تک اگر پاکستان میں غیرقانونی طور پر مقیم افراد اپنے ملک نہیں جاتے تو ’ہمارے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں ڈی پورٹ کریں گے۔‘

افغان پناہ گزینوں کی پاکستان میں تعداد کے حوالے سے قیصر آفریدی نے کہا کہ کون پناہ گزین ہے اور کون نہیں اس کا تعین پاکستان میں ان کا ادارہ کرتا ہے۔

یواین ایچ سی آر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے میں پاکستان میں اس وقت 22 لاکھ افغان رجسٹرڈ ہیں۔

یکم نومبر تک انخلا ممکن ہے؟

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں اندارج شدہ افغان پناہ گزینوں کی تعداد 14 لاکھ ہے جبکہ غیر قانونی طور پر لگ بھگ 17 لاکھ افغان باشندے مقیم ہیں۔

اس صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستان میں مقیم افغانوں کو ملک بدر کرنا حکام کے لیے کتنا بڑا چیلنج ہو گا؟

اس سلسلے میں نگران وزیر داخلہ سرفراز بگٹی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی تاہم انہوں نے جواب نہیں دیا۔

وزارت داخلہ کے ذرائع سے جب اس فیصلے کے عملی پہلو کے بارے میں جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ابھی ان معاملات کا ’مکمل پورٹ فولیو‘ وزارت داخلہ کے پاس نہیں بلکہ ’پاکستان رینجرز اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی‘ ان معاملات کا عملی پہلو دیکھ رہی ہیں۔

اس سوال پر کہ پاکستان کسی رفیوجی کنوینشن کا دستخط کنندہ نہیں ہے کہ جواب میں افغان امور پر نیو یارک ٹائمز کے لیے کوریج کرنے والے صحافی ضیا الرحمٰن نے انڈپینڈنٹ اردو کو کہا: ’شروع میں پاکستان کا افغان پناہ گزینوں کو جگہ دینا پالیسی کا حصہ تھا۔ 2000 کے اوائل میں پاکستان کی پالیسی میں تبدیلی آئی کہ مزید میزبانی نہیں کر سکتے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ سالوں میں بہت سے کریک ڈاؤن سکیورٹی وجوہات پر کیے گئے، تاہم اس وقت ایک نگران حکومت پاکستان میں موجود ہے جو انتہائی کم وقت میں انخلا نہیں کر پائے گی۔

’اصل فیصلہ اور پارلیمان میں بحث کے بعد پالیسی آنے والی حکومت بنائے گی۔ پاکستان میں اصل مسئلہ اس موضوع پر جامع پالیسی کا نہ ہونا اور مردم شماری میں تارکین وطن کو شامل ہی نہ کرنا مشکلات کا باعث ہے۔ اعداد و شمار میں بھی کوئی حتمی طور پر ان کو نہیں مانا جاتا کیونکہ مردم شماری میں ان کو شامل نہیں کیا گیا۔‘

انہوں نے کہا: ’غیر قانونی پناہ گزینوں کے انخلا کے لیے بہت سے وسائل اور کم از کم ایک سال کا عرصہ درکار ہے۔‘

یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر آفریدی نے بتایا کہ سیفران نے کابینہ کو سفارشات بھجوائی ہیں کہ یہ پی او آر کارڈز کی معیاد جو رواں سال جون تک تھی اس میں توسیع مل جائے۔

پاکستان پناہ گزینوں کے لیے سب سے بڑا میزبان ملک تھا تاہم اقوام متحدہ کے اگست 2023 کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت پاکستان کا رینک تیسرا ہے جو قانونی طور پر مقیم 13 لاکھ پناہ گزینوں کو سایہ دیے ہوئے ہے۔

دوسرے نمبر پر صومالی شہری ہیں جن کو پاکستان نے پناہ دے رکھی ہے۔

بقول قیصر آفریدی: ’یہ صحیح تعین حکومت کر سکتی ہے کہ یکم نومبر تک غیر قانونی پناہ گزینوں کا انخلا ممکن ہے کہ نہیں تاہم حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں ایک میکینزم بنائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یو این ایچ سی آر رجسٹریشن کے عمل میں پاکستان کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کو تیار ہے۔

’پاکستان کے لیے قیمتی موقع‘

یکم نومبر کی ڈیڈلائن کے حوالے سے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں جنوبی ایشیا پروگرام ڈائریکٹر ڈاکٹر نوشین وصی نے بتایا کہ یہ ڈیڈلائن انتہائی کم وقت کی ہے جس میں پناہ گزینوں کے لیے واپس جانا ممکن نظر نہیں آتا۔

ڈاکٹر وصی، جو کتاب ’پاکستان افغانستان ریلیشنز: پٹ فالز اینڈ وے فارورڈ‘ کی شریک مصنفہ بھی ہیں کا کہنا ہے: ’تمام عالمی پناہ گزینوں کے ادارے پاکستان کے ساتھ اس حوالے سے کام یا تعاون کرنے کو تیار ہیں۔ یہ پاکستان کے لیے بہت قیمتی موقع ہو سکتا ہے۔‘

ان کے خیال میں اس کے آنے والے سالوں میں پاکستان کے افغانستان کے ساتھ تعلقات اور پر تشدد واقعات میں اضافے کے باعث اثرات نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔

’ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے پاکستان پر پابندیاں بھی لگ سکتی ہیں۔ ہم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے بدنام بھی ہوسکتے ہیں۔‘

افغان طالبان کی حکومت نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر حالیہ ایک پیغام میں کہا تھا کہ پاکستان کے سکیورٹی کے مسائل میں افغان پناہ گزین ملوث نہیں ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ’پاکستان میں افغان پناہ گزینوں کے ساتھ سلوک ناقابل قبول ہے، اس حوالے سے انہیں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ پاکستان کے سکیورٹی مسائل میں افغان پناہ گزینوں کا کوئی ہاتھ نہیں۔‘

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا