پشاور: افغان پناہ گزین خواتین کو بااختیار بنانے والا ووکیشنل سکول

یہ ووکیشنل سکول گذشتہ سال پشاور کی رہائشی 37 سالہ ماہرہ بشیر نے پڑوسی ملک افغانستان سے لوگوں کی مسلسل شہر میں آمد کو دیکھتے ہوئے قائم کیا تھا۔

13 جولائی 2023 کو پشاور میں افغان خواتین کپڑے سینے کی کلاس میں شریک ہیں (اے ایف پی/ فیاض عزیز)

پشاور میں ایک چھوٹی سی ورکشاپ میں ایک درجن افغان خواتین اپنی استانی کی بات دھیان سے سن رہی ہیں جو انہیں سلائی مشین پر کپڑے سینا سکھا رہی ہیں۔

یہ ووکیشنل سکول گذشتہ سال پشاور کی رہائشی 37 سالہ ماہرہ بشیر نے پڑوسی ملک افغانستان سے لوگوں کی مسلسل شہر میں آمد کو دیکھتے ہوئے قائم کیا تھا، افغان خواتین کو ملک میں  طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا ہے۔

خواتین کو مالی طور پر خود مختار بنانے کے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ماہرہ نے ٹیلرنگ یعنی کپڑوں کی سلائی  کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل ہنر اور بیوٹی ٹریٹمنٹ سکھانے کا انتظام کیا جہاں فوری طور پر سینکڑوں خواتین کا اندراج کیا گیا ہے اور ان میں شمولیت کی خواہش مند خواتین کی فہرست طویل ہے۔

ماہرہ نے اس حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’اگر ہمیں (حکومت یا امدادی تنظیموں کی) مدد ملتی ہے تو میں سمجھتی ہوں کہ ہم ایک وقت میں 250 سے 500 کے درمیان خواتین کو تربیت دے سکیں گے جس سے ان کو بااختیار بنایا جا سکتا ہے اور اس طرح وہ معاشرے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حکام کا کہنا ہے کہ 2021 میں غیر ملکی افواج کے افغانستان سے جانے اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے لاکھوں افغان شہری پاکستان پہنچے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس سے قبل بھی پاکستان لگ بھگ 13 لاکھ رجسٹرڈ افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جو دنیا کے کسی بھی ملک میں پناہ گزینوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ معاشی بحران سے نبردآزما پاکستان کی حکومت میں مزید افغانوں کی آمد کے بارے میں بے چینی بڑھ رہی ہے۔

وکلا اور حکام نے کہا ہے کہ حالیہ ہفتوں میں متعدد افغان باشندوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا ہے کہ ان کے پاس پاکستان میں رہنے کے لیے قانونی دستاویزات نہیں ہیں۔

تاہم ماہرہ نے کہا کہ ان کی بنیادی توجہ افغان خواتین کے لیے روزگار کے ذرائع کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کچھ پاکستانی خواتین کو بھی اس پروگرام میں شامل کیا ہے تاکہ خواتین کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔ تین ماہ کے کورس سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد یہ خواتین آمدن حاصل کرنے کی بامعنی کوششوں پر توجہ مرکوز کرتی ہیں اور اکثر اپنا کاروبار شروع کر دیتی ہیں۔

ایسی ہی خواتین میں 19 سالہ افغان شہری فاطمہ بھی شامل ہیں جنہوں نے اس مرکز میں تربیت حاصل کی ہے۔ فاطمہ نے کہا کہ اب وہ پشاور میں ایک بیوٹی پارلر کھولنا چاہتی ہیں۔

انہوں نے کہا: ’ابھی میرا ارادہ گھر پر ایک بیوٹی پالر شروع کرنے کا ہے۔ اس کے بعد پیشہ ورانہ طور پر یہ کام کرنا ہے تاکہ میں بالآخر اپنے لیے ایک بہت بڑا سیلون کھول سکوں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی خواتین