پاکستانی فضائی حدود پر پابندی ہی نہیں تو بھارت نے اجازت کیوں مانگی؟

پاکستان نے تاحال بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند نہیں کیں تو نئی دہلی نے صدر رام ناتھ کوویند کے جہاز کے گزرنے کے لیے اجازت کیوں مانگی؟

بھارتی صدر اور وزیر اعظم جس جہاز میں سوار ہو جائیں اسے ائیر انڈیا ون (AI 1) کہا جاتا ہے(پکسا بے)

پاکستان نے بھارتی صدر رام ناتھ کوویند کے خصوصی جہاز کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ہفتے کو ایک نجی ٹی وی چینل کو بتایا ’بھارت کو ہماری فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کا فیصلہ (کشمیر سے متعلق) بھارتی رویے کی وجہ سے لیا گیا‘۔

بھارت نے پانچ اگست کو اپنے زیر انتظام جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت اچانک تبدیل کر دی تھی۔ پاکستان اور کشمیری عوام نے اس متنازع فیصلے کی شدید مذمت کی۔

پاکستان نے بھارتی اقدام کے خلاف احتجاج کے طور پر نو اگست کو مشرقی پڑوسی کے ساتھ تجارت پر پابندی عائد کر دی تھی جبکہ اپنی فضائی حدود بھارت سے آنے اور وہاں جانے والی فلائٹس کے لیے بند کرنے پر بھی غور کیا۔

حکومتی ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انڈین ہائی کمیشن کی جانب سے ایک خط موصول ہوا تھا، جس میں صدر کوند کے جہاز کی پاکستانی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت سے متعلق درخواست تھی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق صدر کوویند پیر کو آئس لینڈ، سوئٹزرلینڈ اور سلوونیا کے دوروں پر روانہ ہو رہے ہیں۔ ان دوروں کا مقصد بھارت اور ان ممالک کے درمیان اقتصادی، سائنس اور ٹیکنالوجی اورسیاست کے میدانوں میں تعلقات کا فروغ ہے۔

بھارتی حکام کی جانب سے موصول ہونے والے مراسلے میں بھارتی صدر کے جہاز کو آئس لینڈ جانے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنا تھیں۔

قریشی نے بتایا کہ تمام متعقلہ حلقوں اور حکام سے مشورے کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ بھارتی صدر کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت نہ دی جائے۔

بھارت نے اجازت کیوں مانگی؟

اگرچہ پاکستان بھارت کے زیر انتظام جموں و کشمیر کی موجودہ صورتحال کے ردعمل میں بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے پر غور کر رہا ہے۔ تاہم اس متعلق ابھی کوئی حتمی فیصلہ ہونا باقی ہے۔

پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ایک سینیئر اہلکار نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا بھارتی فلائٹس کے لیے پاکستانی فضائی حدود ابھی تک کھلی ہیں۔

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ جب پاکستان نے تاحال بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند نہیں کیں تو نئی دہلی نے اپنے صدر کے جہاز کے لیے اجازت کیوں مانگی؟

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے اہلکار نے وضاحت کی کہ وی وی آئی پی فلائٹس کی صورت میں فضائی حدود کے استعمال کی پیشگی اجازت لینا ضروری ہوتا ہے۔

انہوں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وضاحت کی جس ملک کی فضائی حدود استعمال کرنا ہو، وہ ملک وی وی آئی پی فلائٹس کے لیے خصوصی اجازت نامہ جاری کرتا ہے، جو پاکستان نے بھارتی صدر کے نو ستمبر کو آئس لینڈ جانے والے جہاز کے لیے جاری نہیں کیا۔

سول ایوی ایشن اتھارٹی کے فلائٹس نیوی گیشن آرڈر کے تحت کسی بھی وی وی آئی پی فلائٹ کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت وزارت خارجہ اور دوسرے متعلقہ محکموں کی جانب سے منظوری کے بعد ہی دی جا سکتی ہے۔

مودی کی فلائٹس

اس سال فروری میں پلوامہ حملوں کے بعد بھارت کے جنگی جہازوں نے پاکستانی علاقے میں بمباری کی تھی، جس کے بعد پاکستان نے بھارت کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا۔ یہ پابندی تقریباً چار مہینے تک جاری رہی۔

پابندی کے دوران بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے 13 جون کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیے کرغستان کے دارالحکومت بشکیک جانا تھا۔

اس موقع پر بھارتی حکومت نے مودی کے جہازکے لیے پاکستانی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت مانگی، جس پر پاکستان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت اجازت دے دی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم مودی نے عین وقت پر پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ اومان کے راستے بشکیک چلے گئے۔

اسی طرح 22اگست کو وزیر اعظم مودی کے فرانس، بحرین اور متحدہ عرب امارات کے دوروں سے قبل بھارت نے پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت طلب کی، جو دے دی گئی۔

اس مرتبہ مودی کا جہاز فرانس جاتے ہوئے پاکستان کی فضائی حدود سے گذرا۔ یاد رہے متحدہ عرب امارات کے اسی دورے میں مودی کو یو اے ای کا سب سے بڑا شہری ایوارڈ (آرڈر آف زائد) دیا گیا تھا۔

تجزیہ کار ائیر وائس مارشل شہزاد چوہدری کے خیال میں بھارتی صدر کو اجازت اس لیے نہیں دی گئی کیونکہ وزیر اعظم مودی نے اجازت کے باوجود ہماری فضائی حدود استعمال نہیں کی تھیں۔

شہزاد چوہدری کے مطابق، اجازت کے باوجود پاکستانی فضائی حدود استعمال نہ کرنا بھارت کی ایک بچگانہ حرکت تھی۔

پاکستان نے مودی کو فروری کے بعد سے دو مرتبہ اپنی فضائی حدود سے گذرنے کی اجازت دی لیکن صدر کوویند کو پہلی ہی مرتبہ انکار کر دیا۔

سینئیر صحافی ذیشان حیدر کہتے ہیں اس مرتبہ انکار کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان نے بھارت سے متعلق اپنا رویہ کافی سخت کر لیا ہے۔

اس سلسلے میں انہوں نے دو حوالے دیے، جن میں یوم آزادی کے موقع پر وزیر اعظم عمران خان کی تقریر اور 30اگست کو امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز میں چھپنے والا ان کا مضمون شامل ہیں۔

ذیشان نے کہا ان دونوں موقعوں پرعمران خان نے بھارت سے متعلق سخت موقف اپنایا، جس سے ظاہر ہوتا ہے ان کی حکومت کی بھارتی پالیسی میں سختی آئی ہے۔

ان کے خیال میں شاید یہی وجہ ہے بھارتی صدر کے طیارے کو پاکستانی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

ائیر انڈیا ون (AI-1)

بھارتی صدر اور وزیر اعظم جس جہاز میں سوار ہو جائیں اسے ائیر انڈیا ون (AI 1) کہا جاتا ہے۔

یہ جہاز بھارت کی قومی ائیر لائن ائیر انڈیا کی ملکیت ہے۔ تاہم انہیں اڑانے کی ذمہ داری بھارتی ائیر فورس کے کمیونی کیشن سکوارڈن کے پاس ہے۔

ائیر انڈیا وی وی آئی پی فلائٹس کے لیے بوئنگ 474-400 جمبو جٹس کا بیڑا رکھتی ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق اس وقت دو بوئنگ 777جہازوں کو وی وی آئی پی فلائٹس کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ دسمبر تک تیار ہونے والے نئے جہازوں میں سکیورٹی کا اعلیٰ انتظام ہو گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان