کشمیر: پاکستان کے 4 مطالبات، بھارت نے ’اندرونی معاملہ‘ قرار دے دیا

پاکستانی وزیر خارجہ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور بھارتی مظالم پر اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے چار فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا جبکہ بھارتی وزارت خارجہ کی سیکریٹری نے اپنے خطاب میں پاکستان کو داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے آرٹیکل 370 کے خاتمے کے ذریعے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے اور وادی میں کرفیو کے دوران کشمیریوں پر بھارتی مظالم کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے چار مطالبات کیے ہیں، دوسری جانب بھارت نے اس اقدام کو اپنا ’اندرونی معاملہ‘ قرار دیتے ہوئے داخلی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کا مشورہ دے ڈالا۔

جینیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب میں شاہ محمود قریشی نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کونسل پر درج ذیل فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔

1۔ بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے زیر انتظام کشمیر میں فوری طور پر پیلٹ گنز کا استعمال اور قتل وغارت گری بند کرے اور کرفیو ختم کرکے ذرائع مواصلات کو بحال کیا جائے جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں، انسانی حقوق کے مختلف قوانین اور ضابطوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔

2۔ کشمیریوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کرنے والوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کے اقدامات کرے اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر کی تجویز کے مطابق ایک انکوائری کمشن تشکیل دیا جائے۔

3۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر کے دفتر کو انسانی حقوق کونسل کے خصوصی طریقہ کار کے تحت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی کرنے اور اپنی رپورٹ سے مستقل بنیادوں پر کونسل کو آگاہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

 4۔ بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ اپنے زیرِ انتظام کشمیر میں صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے انسانی حقوق کی تنظیموں اورعالمی میڈیا کو بلا رکاوٹ رسائی فراہم کرے-

پاکستانی وزیر خارجہ نے اپنے خطاب میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی توجہ اس طرف بھی دلائی کہ کس طرح بھارت نے گزشتہ چھ ہفتوں سے اپنے زیرِ انتظام کشمیر کو کرہ ارض کے سب سے بڑے قید خانے میں تبدیل کررکھا ہے، جہاں بنیادی اشیائے ضروریہ اور ذرائع مواصلات تک رسائی ممکن نہیں۔ ہسپتالوں میں جان بچانے والی ادویات کی قلت ہے اور بھارتی فورسز کی طاقت کا نشانہ بننے والے زخمیوں کو ہنگامی طبی امداد تک رسائی میسر نہیں۔ 

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ بھارت نے چھ ہزار سے زائد افراد، جن میں سیاسی و سماجی کارکنان، طالب علم اور پروفیشنلز شامل ہیں، کو گرفتار کرکے ملک کی دیگر جیلوں میں منتقل کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس ظلم و تباہی کی بنیاد یہ ہے کہ بھارت اپنے زیرِ انتظام کشمیر کے عوام کو ان کا حق خوداردیت دینے سے مسلسل انکاری ہے۔ ’سات دہائیوں سے چلا آنے والا یہ تنازع انصاف کے ساتھ سنگین مذاق ہے جو موجودہ بھارتی حکومت کے مذموم عزائم کی وجہ سے مزید سنگین تر ہوگیا ہے۔‘

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ’یہ غاصبانہ اقدام بھارتی حکمران جماعت کے منشور میں واضح درج ہے کہ بندوق کے زور پر جموں وکشمیر کی مسلم اکثریتی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کردیا جائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عالمی قانون کے تحت جموں و کشمیر کی حیثیت تبدیل کرنے کے 5 اگست 2019 کے بھارت کے یک طرفہ اور غیرقانونی اقدامات غیر آئینی ہیں کیونکہ اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مسلمہ تنازع تسلیم کررکھا ہے۔ یہ اقدامات چوتھے جینیوا کنونشن کے منافی ہیں جو مقبوضہ خطے سے آبادی کی کسی دوسری جگہ منتقلی اور وہاں کسی دوسری جگہ سے آبادی کو لاکر بسانے کے عمل کی ممانعت کرتا ہے۔ یہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعدد قراردادوں کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ 

پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ بھارتی دعویٰ  قطعاً جھوٹ پر مبنی ہے کہ یہ اقدامات اس کا ’اندرونی معاملہ‘ ہیں۔  کشمیر کی صورتحال کا براہ راست عالمی تشویش سے تعلق ہے۔ یہ بھارت کا اندرونی معاملہ ہے اور نہ ہی ہوسکتا ہے۔ 

آخر میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپنے زیر انتظام کشمیر میں مظالم کو چھپانے کی کوشش میں بھارت ’دہشت گردی‘ اور ’سرحد پار دہشت گردی‘ کا جھوٹا لیبل استعمال کررہا ہے ۔ 

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے متعدد دوطرفہ اور کثیرالطرفہ طریقہ ہائے کار تجویز کیے ہیں جو بھارت کے خودساختہ دعوں کو مسترد کرتے ہیں اور انہیں جھوٹا ثابت کرتے ہیں، جس میں یہ تجویز بھی شامل ہے کہ اقوام متحدہ کے فوجی مبصر مشن کے مبصرین کی تعداد دوگنی کردی جائے جو لائن آف کنٹرول کی نگرانی کریں، تاہم بھارت کی جانب سے ان تجاویز کو مسترد کردیا گیا۔

شاہ محمود قریشی نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ بھارت ایک مرتبہ پھر ’فالس فلیگ‘ آپریشنز کرے گا اور کشمیر کے حالات سے عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کے لیے ’دہشت گردی‘ کا لیبل استعمال کرسکتا ہے۔

’آرٹیکل 370 کا خاتمہ بھارت کا اندرونی معاملہ‘

 

دوسری جانب بھارتی وزارت خارجہ کی سیکریٹری ایسٹ وجے ٹھاکر سنگھ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کو بھارت کا ’اندرونی معاملہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپنے داخلی معاملات میں کسی کی مداخلت قبول نہیں کی جاسکتی۔

وجے ٹھاکر سنگھ نے کہا: ’مکمل طور پر ٹیلی ویژن پر دکھائی جانے والی بحث کے بعد ہماری پارلیمنٹ نے یہ فیصلے کیے، جنہیں بڑے پیمانے پر تائید حاصل ہے۔ یہ آزادانہ فیصلے تھے جو مکمل طور پر بھارت کا اندرونی معاملہ ہے۔ کوئی ملک داخلی معاملات میں مداخلت قبول نہیں کر سکتا۔ یقیناً بھارت بھی ایسا نہیں کر سکتا۔‘

ان کا کہنا تھا: ’حالیہ قانون سازی کے بعد  ترقیاتی پالیسیاں جموں و کشمیر اور لداخ میں ہمارے شہریوں کے لیے مکمل طور پر قابلِ عمل ہوں گی۔ ان پالیسیوں سے صنفی امتیاز کا خاتمہ ہو گا، بچوں کے حقوق کو بہتر تحفظ ملے گا اور تعلیم اور معلومات تک رسائی اور ملازمت کے حقوق کو عملی جامہ پہنایا جا سکے گا۔‘

وجے ٹھاکر سنگھ نے مزید کہا: ’مشکل حالات کے باجود جموں و کشمیر کی سول انتظامیہ بنیادی سروسز، ضروری اشیا کی فراہمی، نقل و حرکت اور مواصلاتی رابطے یقینی بنا رہی ہے۔ جمہوری عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ پابندیوں میں مسلسل نرمی کی جا رہی ہے۔‘

انہوں نے کسی ملک کا نام لیے بغیر کیا کہ ’سرحد پار سے دہشت گردی کے واضح خطرے کے پیش نظر سلامتی یقینی بنانے کے لیے عارضی حفاظتی انتظامات ضروری تھے۔ دنیا اور خاص طور پر بھارت نے ریاستی دہشت گردی کے ہاتھوں بہت نقصان اٹھایا ہے۔ ایسے دہشت گرد گروپوں کے خلاف اجتماعی، نتیجہ خیز اور ٹھوس اقدامات کا وقت آ گیا ہے جو زندگی کے بنیادی حقوق کے لیے خطرہ ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا: ’یہاں ایک نمائندے نے جارحانہ بیانیے کے ساتھ رواں تبصرہ کرتے ہوئے میرے ملک پر جھوٹے اور من گھڑت الزامات لگائے ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ یہ من گھڑت بیانیہ دہشت گردی کے عالمی مرکز سے آیا ہے، جہاں دہشت گردی کے سرغنوں کو کئی سال سے پناہ دی جا رہی ہے۔ یہ ملک سفارت کاری کی متبادل شکل کے طور پر سرحد پار سے دہشت گردی کرواتا ہے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا