الیکشن کی کوریج کے دوران صحافی اپنی حفاظت کیسے یقینی بنائیں

وہ چند سادہ اور آسان تدابیر جنہیں اختیار کر کے صحافی انتخابات کی کوریج کے دوران خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

13 اپریل2021 کو اسلام آباد میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ کے موقعے پر ایک فوٹو جرنلسٹ (اے ایف پی)

پاکستان میں کبھی بھی الیکشن آسان نہیں رہے، اکثر تشدد مارپیٹ کے واقعات رونما ہو جاتے ہیں۔ یہاں تک کے کچھ واقعات میں یہ بھی ہوا کہ انتخابی عمل میں حصہ لینے والے امیدواروں پر حملے ہوئے، ان کو جان سے ہاتھ دھونا پڑے۔

اس کے ساتھ ماضی میں جلسے جلوسوں میں خودکش حملے دھماکوں میں اہم قومی رہنماؤں سمیت سینکڑوں کارکنان اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

انتخابات میں گولیاں چلنا لڑائی ہونا، مخالفین پر حملے اکثر رپورٹ ہوتے ہیں۔ یہ سب واقعات سانحات آپ کے لیے رپورٹ صحافی کرتے ہیں۔ حالات چاہے کشیدہ بھی ہوں خبروں کی نشرواشاعت میں تعطل نہیں آتا۔ سوشل میڈیا نے تو ویسی ہی خبر کی ہیت بدل کر رکھ دی ہے۔

اب میڈیا اور سوشل میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافی بڑی تعداد میں مختلف ایونٹس کو رپورٹ کرتے ہیں۔ بہت بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ اپنے فرائض کی ادائیگی کو انجام دیتے ہوئے صحافی خود خبر بن جاتے ہیں۔

یہاں پر میڈیا اداروں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والے صحافیوں کی جان و مال کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری لیں اور ان کو ایسی جگہوں سے دور رکھیں جہاں بدامنی کا خطرہ ہو۔

اب الیکشن سر پر کھڑے ہیں لیکن صحافیوں کو ان کو اپنی حفاظت کے حوالے سے کوئی خاص تربیت نہیں دی گئی۔ نیوز روم ، پریس کلب اور صحافیوں کے لیے کام کرنے والے اداروں کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ فیلڈ میں کام کرنے والے عملے کو اس حوالے سے مکمل آگاہی اور تربیت دیں، تاکہ وہ خود کو جسمانی حملوں اور سائبر حملوں دونوں سے محفوظ رکھ سکیں۔

میں نے اپنے 15 سالہ صحافتی تجربے سے یہ سیکھا ہے کہ صحافیوں کو کوریج کے دوران ہجوم سے فاصلے پر رہنا چاہیے، ان کے فونز چارج ہونے چاہییں، ان کے پاس پاور بینک ہونا چاہیے۔ ان کے پاس بیگ میں چاکلیٹ، وٹامن سی کی گولیاں، کچھ نقدی، پانی کی بوتل، پین کاپی، ہیڈ فونز، فون چارجرز، وہ ادویات جو وہ اپنے کسی عارضے کی وجہ سے لیتے ہوں، ماسک وغیرہ لازمی ہونے چاہییں۔

اسی طرح ڈی ایس این جی میں الیکشن کی کوریج کرنے کے لیے پانی، حفاظتی جیکٹس، فرسٹ ایڈ باکس، ہیلمٹ اور ماسک موجود ہونے چاہیے۔ ایسے انتخابی علاقے جو حساس قرار دیے گئے ہوں، وہاں بلٹ پروف جیکٹ اور ہیلمٹ پہن کر جانا چاہیے۔

رپورٹر کو اس بات کی آگاہی ہونا چاہیے کہ اس کی جان خبر سے زیادہ اہم اور قیمتی ہے۔ رپورٹر کے ساتھ کوریج کرنے والے دیگر عملے جیسے کیمرا مین فوٹوگرافر، پروڈیوسر، ڈی ایس این جی کے عملے اور ڈرائیوروں کو بھی ان ہدایات پر عمل کرنا چاہیے۔

نیوز روم کو کبھی بھی فیلڈ میں موجود عملے کو خطرے کی طرف نہیں دھکیلنا چاہیے۔ رپورٹر بھی اپنے سوالات یا ذاتی پسند ناپسند پر عوام کو اشتعال نہ دلائیں۔ رپورٹر کا کام صرف حقائق کو رپورٹ کرنا ہوتا ہے، تجزیے تبصرے رپورٹنگ کے دوران نہ ہی کیے جائیں تو بہتر ہے۔

دوران کوریج اپنی لائیو لوکیشن اپنے ادارے یا فیملی کے ساتھ شیئر کرتے رہیں۔ ایسے کپڑے اور جوتے پہن کر جائیں جو کام کرنے میں رکاوٹ نہ ڈالیں اور آپ کو موسم کی شدت سے محفوظ رکھنے میں معاون ہو۔

حساس علاقے میں الیکشن کور کرتے ہوئے پی پی ای ساتھ رکھیں جس میں حفاظتی چشمہ، ہیلمٹ، ماسک اور باڈی ویسٹ شامل ہوتا ہے۔ اگر مشتعل ہجوم کے درمیان پھنس جائیں تو کوشش کریں کہ ان سے تحمل سے بات کریں اور بات چیت سے معاملہ حل کرنے کی کوشش کریں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اگر آپ کا ادارہ کھل کر کسی جماعت کو حمایت کر رہا ہے تو بھی فیلڈ میں آپ اپنی پسند ناپسند کو ظاہر نہ کریں۔ ایسے علاقے میں چینل کا لوگو اور کارڈ نمایاں نہ کریں۔

دوران کوریج مہنگے برینڈز پہنے سے گریز کریں، بھیڑ بھاڑ میں آپ اپنی چیزیں کھو بھی سکتے ہیں۔

انٹرویو یا فوٹیج بنانے سے پہلے لوگوں کو اعتماد میں لیں اور ان سے نرم لہجے میں بات کریں۔ آپ کا فون پاس ورڈ لاک ہونا چاہیے، بھیڑ میں چوری یا گم ہو جانے کی صورت میں کوئی آپ کہ ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ کر لے۔

اگر الیکشن کے روز انٹرنیٹ اور موبائل سروس میں تعطل آ جائے تو یاد رکھیں کہ لینڈ لائن فونز چل رہے ہوتے ہیں، ایسے میں رپورٹرز لینڈ لائن سے فون کر کے نیوز روم کو حقائق سے آگاہ کر سکتے ہیں۔

انتخابی عمل کے دوران جہاں خواتین ووٹ کاسٹ کر رہی ہوں وہاں کوشش کریں کہ خاتون رپورٹر ہی کوریج کرے۔ اگر مرد رپورٹر وہاں موجود ہے تو خواتین سے اجازت لے کر وہاں اپنے فرائض انجام دیے جائیں۔

لوگوں سے مناسب فاصلہ رکھ کر بات کریں، کسی بھی شخص کی چھپ کر فوٹیج بنانے سے گریز کریں۔ خود سے کسی بھی امیدوار کی جیت ہار کا اعلان نہ کریں بلکہ حتمی نتائج آنے کا انتظار کریں۔

کسی بھی خبر کو بنا تصدیق کے مت چلائیں۔ اپنی کوریج میں اقلیتوں کو بھی مکمل کور کریں۔ جو ادارے یا صحافی کھل کرکسی جماعت کی طرف داری کر رہے ہیں وہ آن گراؤنڈ کام کرنے والی ٹیمز کے لیے مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ اس لیے حقائق رپورٹ کریں۔

میڈیا کے لیے ضروری ہے وہ ووٹروں کو انتخابات کے دوران اہم سیاسی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ سکیورٹی کی غیر مستحکم صورت حال صحافیوں کو انتخابی اسائنمٹس کے لیے تیاری اور ڈیجیٹل خطرے کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے مطابق 1993 کے بعد سے 1523 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہاتھ دھو بیٹھے، جن مں زیادہ تر صحافیوں کے قاتل آزاد گھوم رہے ہیں۔

مردوں کے ساتھ خواتین صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ الیکشن کے دوران انٹرنیٹ کی بندش سے صحافی متاثر ہوتے ہیں۔ 2016 سے 2021 تک 52 الیکشنز میں انٹرنیٹ کو عارضی طور پر بند کیا گیا۔

صحافیوں کا بین الاقوامی ادارہ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی ایشیا پروگرام کے رابطہ کار بیہ لیہ یی (Beh Lih Yi) نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پاکستان کے انتخابات سخت تناؤ اور انتخابات سے پہلے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات میں ہونے جا رہے ہیں۔ پاکستانی حکام کا یہ فرض ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ صحافی آزادانہ اور محفوظ طریقے سے رپورٹنگ کر سکیں۔

’میڈیا کے لیے ضروری ہے وہ ووٹروں کو انتخابات کے دوران اہم سیاسی پیش رفت سے آگاہ کریں۔ سکیورٹی کی غیر مستحکم صورت حال صحافیوں کو انتخابی اسائنمٹس کے لیے تیاری اور ڈیجیٹل خطرے کو کم کرنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’نیوز روم کو صحافیوں کو انتخابی اسائمنٹس پر بھیجتے وقت حفاظتی پروٹوکول کو یقینی بنانا چاہیے، جیسے خطرے کی نشاندہی کرنا، حفاظتی مشورے دینا یا کمیونیکشین بلیک آؤٹ کی صورت میں کیا کیا جائے۔ ہم صحافیوں اور ایڈیٹرز کو مشورہ دیتے ہیں کہ وہ سی پی جے کی انتخابی صحافتی حفاظتی کٹ کی مدد سے اپنے عملے کو آگاہی دیں۔‘

صحافیوں کے ادارے آر ایس ایف کے نمائندہ ارننڈ فروجر کے مطابق ’دنیا میں کم سے کم صحافیوں کی دوران الیکشن اموات کے باوجود الیکشن کوریج صحافیوں کے لیے خطرناک وقت میں سے ایک ہے۔ اس دوران فزیکل حملے اور سنسرشپ عام ہے۔ اس موقعے پر ہم نے انٹرنیٹ پر بندش دیکھی ہے تاکہ خبر کی ترسیل میں رکاوٹ آ جائے۔

’ہم صحافیوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ وہ تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرلیں تاکہ وہ سنسر شپ کو روکنے کے لیے تکنیکی زرائع اور پروٹوکولز کی نشاندہی کر کے خود کو جسمانی، نفسیاتی اور سائبر اٹیک سے محفوظ رکھ سکیں۔‘

کاظم خان ایڈیٹر اور چیئرمین کمیٹی برائے فری میڈیا کونسل سی پی این ای ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ’جنرل الیکشن میں ہمارے رپورٹرز، فوٹوگرافر اور کیمرا مین کے لیے حقائق بیان کرتے ہوئے اپنی حفاظت کو ملحوظ خاطر رکھنا بہت ضروری ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ’2024 کے الیکشن متنازع ترین الیکشنز میں سے ایک ہیں۔ 50 فیصد سے زائد حلقے حساس ہیں اور رپورٹر ان کو کور کریں گے۔ ہمارے ہاں المیہ یہ بھی ہے کہ صحافی ایونٹ کو کور نہیں تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہاں پر چیزیں خرابی کی طرف جاتے ہیں آپ کو پولنگ سٹیشن پر ہر پارٹی کے لوگ ملیں گے، اگر آپ اپنے تعصب کو وہاں ظاہر کریں گے تو اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔‘

صحافیوں کے تجزیے، تحاریر، ٹویٹس ان کی پسندیدگی ظاہر کر دیتی ہے اور عوام اس بات کو جان جاتے ہیں کہ ان کا رجحان کس طرف زیادہ ہے۔ ایسی صورتحال میں ری ایکشن آنے کا امکان ہے۔ تعصب سے پاک ہو کر رپورٹنگ حقائق پر کریں۔ اپنی سکیورٹی کا خیال کریں، لیکن میڈیا مالکان ایک لاکھ سے 50 ہزار کی تنخواہ لینے والے رپورٹر کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کرتے۔ صحافیوں کو سیفٹی کٹس فراہم کرنا بہت ضروری ہے۔

مستند خبروں اور حالات حاضرہ کے تجزیوں کے لیے انڈپینڈنٹ اردو کے وٹس ایپ چینل میں شامل ہونے کے لیے یہاں کلک کریں۔

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ