مودی نے ہر کشمیری کی رائے بدل دی

ایک ایسی محفل کا احوال جس میں نہ میڈیا تھا اور نہ جاسوسی اہلکار، جو بھی شریک محفل تھا اس کی سیاسی سوچ، نظریے اور طرز فکر کے بارے میں ہر ایک کوعلم تھا اور اختلاف خیال کے باوجود وہ ایک دوسرے سے بغل گیر تھے۔

سری نگر میں ایک نوجوان احتجاج کے دوران آزادی کے نعرے لگاتا ہوا (اے پی)

یہ کوئی جلسہ نہیں تھا اور نہ کوئی احتجاجی پروگرام، بلکہ چند درجن لوگوں کی ایک چھوٹی سی محفل جس میں بھارت اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے طلبا، تاجر اور مختلف شعبوں سے وابستہ دانشور اکٹھے تھے۔

ظاہر ہے لندن میں اس طرح کی محفلوں کے آگے پیچھے نہ صرف میڈیا کے لوگ گھومتے رہتے ہیں بلکہ متعلقہ ملکوں کے جاسوس بھی کسی نہ کسی طرح محفل کی زینت بنتے رہتے ہیں۔

میرے خیال میں یہ پہلی محفل ہوگی جس میں نہ میڈیا موجود تھا اور نہ جاسوسی اداروں کے اہلکار— جو بھی شخص موجود تھا اس کی سیاسی سوچ، نظریے اور طرز فکر کے بارے میں ہر دوسرے شخص کوعلم تھا اور اختلاف خیال کے باوجود وہ ایک دوسرے سے بغل گیر ہو رہے تھے۔

یہ زبان زد عام ہے کہ دو پنجابی محفل میں ہوتے ہیں تو فوراً پنجابی بولنا شروع کرتے ہیں اس کی پرواہ کیے بغیر کہ دیگر لوگ پنجابی نہیں سمجھتے۔ اسی طرح کشمیریوں کے بارے میں یہ بات عام ہے جب وہ کسی محفل میں ہوتے ہیں تو وہ صرف کشمیر اور کشمیر کی سیاست پر بات کرتے ہیں چاہے باقی دنیا میں انقلاب آیا ہو، طوفان برپا ہو یا زلزلہ کیوں نہ آیا ہو۔ ظاہر ہے آج کشمیر پر بات کرنا جائز بنتا ہے اور حق بجانب بھی۔

ابھی لندن کی یہ محفل جمی نہیں کہ کشمیر کے اطلاعات کی بندش یا انفارمیشن بلاکیڈ پر بات چیت شروع ہوئی اور حاضرین اپنے رشتوں سے چھ ہفتوں سے منقطع رہنے کا کرب بیان کرتے رہے۔

محفل میں کشمیر کے مرکزی دھارے کے رہنماؤں کے قریبی رشتہ دارہیں، آزادی پسند بھی، پاکستانی کشمیر کے طالب علم بھی، ایل او سی کے تاجر بھی، وکیل بھی اور حقوق انسانی کی خواتین کارکن بھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

میں نے ماضی میں ایسی درجنوں محفلوں میں شرکت کی مگر وہ یا تو صرف مین سٹریم سیاست سے وابستہ افراد کی ہوتی تھی یا آزادی پسندوں کی یا کٹر سوچ رکھنے والے مذہبی لوگوں یا اعتدال پسندوں کی.... پانچ اگست کے بھارتی حکومت کے فیصلے نے سب کچھ بدل دیا ہے۔

آج سبھی سوچ رکھنے والے ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے ہیں اور پانچ اگست کا فیصلہ سب کو ایک کاری ضرب کی مانند لگ رہا ہے.

محفل میں جب تعارف شروع ہوا تو مین سٹریم لیڈر کے ایک رشتہ دار نے کہا ’میں نہ آج مین سٹریم کو مانتا ہوں اور نہ ہندوستان کے حالیہ فیصلے کو۔ میں خود کو اس زمرے کی آبادی کا حصہ مانتا ہوں جن کو سن سنتالیس میں اپنی آزادی سے محروم رکھا گیا، جس کے بعد میرے دادا اور والد نے ہندوستان کے ساتھ الحاق کی حامی بھری تھی اور اس الحاق سے خود آج ہندوستان کے حکمران دست بردار ہوگئے ہیں۔ لہذا میرے دادا اور والد نے میرے لیے جو راستہ چنا تھا، میں اب اس پر چلنے سے قاصر ہوں‘۔

’میری لڑائی 1931 میں شروع ہوئی تھی جس کو پانچ اگست 2019 کو دوبارہ تقویت حاصل ہوئی۔ میں اس محفل سے مودبانہ گزارش کرتا ہوں مجھے مین سٹریم کا وارث کہہ کر مزید ذلیل نہ کیا جائے۔۔۔وہ اپنی بات کہہ کر سیٹ پر واپس بیٹھ گئے۔ مجھے لگا جیسے عمرعبداللہ بات کر رہے ہیں۔

کسی نے نہ تالی بجائی اور نہ کوئی رائے ظاہر کی۔ محفل کی بائیں طرف سے ایک بزرگ اٹھے اور گلہ صاف کر کے بولنے لگے ’میں آپ تمام بھائیوں اور بہنوں سے معافی کا خواست گار ہوں۔ میں جن لوگوں کے کہنے پر آپ کو سیکولرازم کا درس پڑھاتا رہا وہ اندر سے کٹر دھارمک (مذہبی) تھے۔ اپنے دھرم کا پرچار کر کے میرے مذہب کو نشانہ بناتے رہے۔ اپنا مندر تعمیر کر کے میری مسجد توڑتے رہے‘۔

’گروکل قائم کر کے میرا مدرسہ مقفل کر دیا مگر میں پھر بھی مذہبی رواداری کا پرچار کرتا رہا۔ اس کے باوجود میری شناخت، پرچم اور میرے آئین کو ختم کر کے مجھے زندہ دفنایا گیا ہے۔‘

’میں اعتدال پسندی کے خطاب کا اب کیا کروں؟ کٹر بن کر موت کو گلے لگانا چاہتا ہوں، مگر میرے خون میں کٹرپنی نہیں۔ اسلام میں رواداری کا جو درس ہے اس کو سکھاتا رہوں گا مگر مرتے دم تک اپنی شناخت حاصل کرنے کے لیے جدوجہد کرتا رہوں گا۔‘

ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھ، سب لوگ خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔ مجھے بزرگ شخص میں تاریگامی کا عکس نظر آیا تھا جن کو حال ہی میں سیتارام یچوری کی سپریم کورٹ میں اپیل کے بعد دلی علاج کے لیے لایا گیا۔

ابھی یہ بزرگ کھڑے ہی تھے کہ ایک خاتون انگریزی میں بات کرنے لگی۔ ’میرے والد سری نگر سے 1965 کی جنگ کے دوران ہجرت کر کے مظفرآباد پہنچے۔ انہیں وہاں گھر ملا، زمین اور جائیداد ملی مگر روح کا سکون نہیں ملا۔ وہ ہمیشہ کہتے رہتے ایک دن ہم سب کشمیر جا کر وہ گھر دیکھ لیں گے جہاں میں پیدا ہوا ہوں۔ ایک دن ضرور آئے گا جب ہمارے درمیان یہ سرحدی لکیر نہیں ہوگی اور ہم اپنے رشتہ داروں سے بنا کسی رکاوٹ کے ملیں گے۔ حال ہی میں ان کا انتقال ہوا‘۔

انتقال سے پہلے انہوں نے اپنے بچوں سے ایک عہد کروایا کہ وہ جموں و کشمیر کی آزادی کی جدوجہد سری نگر یا مظفر آباد میں نہیں بلکہ یورپ اور امریکہ میں شروع کریں گے اور تب تک یہ جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک یہ ممالک ہمیں آزادی سے رہنے کی یقین دہانی نہیں کرائیں گے۔

’ہمیں بھارت سے آزادی کا مطالبہ نہیں کرنا چاہیے بلکہ برطانیہ سے جو اس تنازعے کا ایک فریق رہا ہے۔ میں نے اپنے والد کے کہنے پر پرامن تحریک شروع کی ہے اور اس میں جو کوئی بھی شریک ہونا چاہتا ہے، میں اس کا خیرمقدم کرتی ہوں۔‘

پاکستانی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان نے خاتون کے بعد اپنا تعارف کرایا اور کہنے لگا ’میں سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوا اور جب سے ہوش سنبھالا تب سے گھر میں صرف کشمیر کے بارے میں سن رہا ہوں۔ میں پاکستان کی حکومت سے بےزار ہوں جس نے ہمیشہ کشمیر کو ایک مہرا سمجھ کر استعمال کیا۔ جب چاہا خاموش رہا اور جب چاہا اس پر مصلحت کی اور جب چاہا کشمیریوں کو سرراہ چھوڑ دیا۔ اگر کشمیر سن سنتالیس سے متنازع رہا ہے اور پاکستان اس تنازعے کا ایک فریق ہے تو پاکستان کی پالیسی ہر دس سال کے بعد کیوں تبدیل ہوتی رہتی ہے‘۔

’اس پالیسی میں تسلسل کیوں نہیں رہتا جیسے ہندوستان  کی متفق پالیسی ہے، چاہے حکومت تبدیل ہوتی ہے یا نہیں۔ پھر بھی پاکستان کا شکریہ جو عالمی سطح پر ہمارے مسئلے کو اٹھا رہا ہے اور بات کر رہا ہے۔ میری رائے میں پاکستان کو کشمیر پالیسی بنا کر کشمیری قیادت کو اعتماد میں لینا چاہیے اور اس کو طویل مدت تک چلانے کا پروگرام مرتب کرنا چاہیے۔‘

آزادی پسند لوگ بالکل خاموش بیٹھے تھے اور بھارتی وزیر اعظم کو دعائیں دے رہے تھے جس نے کشمیر کے مختلف نظریات سے وابستہ افراد کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کیا اور اب شاید ہی کوئی ہوگا جو ترنگا اٹھانے کی جرات کرے گا۔

میں خاموش یہ منظر دیکھ رہی تھی اور کشمیر میں مقید 80 لاکھ افراد سے کہنا چاہتی تھی آپ کی اذیت کی داستانیں کشمیر کے خوبصورت پہاڑوں اور جھرنوں میں آپ کی طرح قید نہیں، بلکہ بانہال سے گزر کر دنیا کے کونے کونے میں پہنچ گئی ہیں۔ یہ سچ نہیں ہے کہ انسانیت پوری طرح زمین بوس ہوچکی ہے یا انسان پورا مرچکا ہے مگر میری بات ان لوگوں تک کیسے پہنچے گی جن کو لاکھوں فوجی پہروں میں محصور رکھا گیا اور بھارت دنیا سے کہتا ہے کشمیر میں حالات پُرسکون ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ