بھارتی حکومت نے عدنان سمیع پر بھاری جرمانہ کیوں عائد کیا؟

عدنان سمیع کو 50 لاکھ روپے جرمانے کی یہ رقم تین ماہ کے اندر ادا کرنی ہوگی۔

عدنان سمیع کو جنوری 2016 میں بھارتی شہریت ملی (فائل تصویر: اے ایف پی)

سابق پاکستانی گلوکار عدنان سمیع پر بھارتی حکومت کی جانب سے بھاری جرمانہ عائد کردیا گیا، جس کی بنیاد وہ جائیدادیں بتائی جارہی ہیں، جو انہوں نے اُس وقت خریدی تھیں، جب وہ پاکستانی شہری تھے۔

غیر ملکی تبادلہ مینیجمنٹ ایکٹ (فیما) کے ایپلٹ ٹریبیونل نے گلوکار عدنان سمیع پر 2003 میں ممبئی میں آٹھ فلیٹ خریدنے پر 50 لاکھ بھارتی روپے (ایک کروڑ آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی روپے) کا جرمانہ عائد کیا ہے کیوں کہ ممبئی میں یہ پراپرٹی خریدتے وقت عدنان سمیع پاکستانی شہری تھے اور انہوں نے ریزرو بینک آف انڈیا کی پیشگی اجازت کے بغیر یہ پراپرٹی خریدی تھی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس سے قبل دسمبر 2010 میں ممبئی کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے خصوصی ڈائریکٹر نے عدنان سمیع خان کی جائیدادیں (آٹھ فلیٹ اور پانچ پارکنگ لاٹ) ضبط کرنے اور 20 لاکھ بھارتی روپے بطور جرمانہ جمع کروانے کا حکم دیا تھا، جسے گلوگار نے ایپلٹ ٹریبیونل میں چیلنج کردیا تھا۔

اپیل پر سماعت کے بعد ستمبر کے پہلے ہفتے میں ایپلٹ ٹریبیونل نے ممبئی کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے خصوصی ڈائریکٹر کے دسمبر 2010 کے جائیدادیں ضبط کرنے کے حکم کو منسوخ کردیا، تاہم جرمانے کی رقم 20 لاکھ بھارتی روپے سے بڑھا کر 50 لاکھ بھارتی روپے کردی گئی ہے۔

عدنان سمیع کو جرمانے کی یہ رقم تین ماہ کے اندر ادا کرنی ہوگی۔ وہ اس سے پہلے 10 لاکھ بھارتی روپے جمع کروا چکے ہیں۔

عدنان سمیع نے بھارتی شہریت کب اور کیوں اختیار کی؟

عدنان سمیع کو جنوری 2016 میں بھارتی شہریت ملی۔ اس موقع پرعدنان سمیع نے ٹوئٹر پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے پیغام میں عدنان سمیع نے کہا تھا کہ ’وہ بھارتی شہری کے طور پر قبول کیے جانے پر وزیراعظم نریندر مودی کے شکرگزار ہیں اور بھارتی شہریت کو اپنے لیے ایک نئے جنم کے طور پر دیکھتے ہیں۔‘

عدنان سمیع نے شہریت دلانے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ داخلہ راج ناتھ سنگھ کی کوششوں کا بھی شکریہ ادا کیا تھا۔

شہریت ملنے سے قبل عدنان سمیع گذشتہ 15 برسوں سے بھارت میں مقیم تھے۔ انہوں نے دو بار بھارتی شہریت کے لیے درخواست دی تھی۔ ان کی پہلی درخواست خارج ہونے کے بعد 2015 میں عدنان سمیع نے دوبارہ بھارتی شہریت کے لیے اپیل کی، جس کے بعد اگست 2015 میں ان کا ورک ویزا ختم ہونے کے بعد انہیں غیر معینہ مدت تک بھارت میں رہنے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

بھارتی شہریت کے قانون کے مطابق کسی بھی غیر ملکی شخص کو فن، ادبی خدمات، سائنس، فلسفہ، عالمی امن اور انسانی ترقی کے شعبوں میں غیر معمولی خدمات دینے پر شہریت دی جا سکتی ہے۔

 عدنان سمیع بالی وڈ میں ایک عرصے سے میوزک کمپوزر اور گلوکار کے طور پر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے اپنے بھارت منتقل ہونے کی وجہ واضح طور پر کبھی نہیں بتائی، تاہم بھارتی اخبار دکن کرونیکل کی 2016 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک تقریب کے دوران عدنان سمیع کا کہنا تھا کہ ’میں بہت جذباتی انسان ہوں، اگر کوئی پیار کرنے والا شخص مجھ سے میری زندگی بھی مانگے، تو میں دے دوں گا۔ بھارتیوں نے مجھے بے حد پیار دیا، جس کے لیے میں ان کا شکر گزار ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے بھارتی شہریت کی درخواست دی۔‘

کب کب عدنان سمیع نے خود کو بھارتی ثابت کرنے کی کوشش کی؟

2016 میں بھارتی شہریت ملنے کے بعد سے عدنان سمیع نے کئی مواقع پر بھارتی حکومت سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کی کوشش کی۔

جب 29 ستمبر 2016 کو بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی گئی، تو اُس موقع پرعدنان سمیع نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’وزیراعظم نریندر مودی اور ہماری بہادر مسلح افواج کو بہت مبارک ہو کہ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف ایک شاندار، کامیاب اور پختہ حکمت عملی پر مبنی سٹرائک کی۔‘

اسی طرح ایک اور موقع پر بھارت سے اپنی حب الوطنی کا اظہار کرتے ہوئے عدنان سمیع نے ایک پاکستانی صارف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’کشمیر بھارت کا حصہ ہے، اس میں اپنی ناک گھسانا بند کرو۔‘  

جس کے جواب میں پاکستانی صارف نے عدنان سمیع سے کہا تھا کہ ’اگر ہمت ہے تو کشمیر میں بھارتی مظالم سے متعلق کوئی پیغام جاری کرکے دیکھیں، پھر بھارتی حکومت کا ان کے ساتھ کیا رویہ ہوتا ہے؟‘

 جس پر گلوکار عدنان سمیع نے نہ صرف اپنے بلکہ اپنے والد کے بھی بھارتی ہونے کی دلیلیں دینی شروع کردیں۔

عدنان سمیع کے والد ارشد سمیع خان پاکستانی فضائیہ میں ایئر مارشل کے عہدے پر فائض تھے، جس کے بعد انہوں نے 14 ممالک میں پاکستان کے سفارت کار کی حیثیت سے بہترین خدمات بھی انجام دیں۔ 

 

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا