میر واعظ نے رہائی کے حلف نامے پر دستخط کردیے: بھارتی میڈیا

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق سمیت زیر حراست چند کشمیری قائدین نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہ لینے کی شرط پر رہائی کے لیے حلف نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے دی ہندو کو بتایا  کشمیر کے کم از کم پانچ سیاسی قائدین نے اپنی رہائی کے لیے حلف نامے پر دستخط کیے (اے ایف پی)

بھارتی اخبار ’دی ہندو‘ نے سرکاری حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ میر واعظ عمر فاروق سمیت زیر حراست چند کشمیری رہنماؤں نے کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہ لینے کی شرط پر رہائی کے حلف نامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

دی ہندو کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی اس خبر کے مطابق ان کشمیری رہنماؤں میں دو نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی اور پیپلز کانفرنس کے ایک ایک رہنما شامل ہیں۔

ایک سینیئر سرکاری اہلکار نے دی ہندو کو بتایا کہ کشمیر کے کم از کم پانچ سیاسی قائدین نے اپنی رہائی کے لیے حلف نامے پر دستخط کیے ہیں۔ تاہم اس خبر کی کسی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

ان قائدین کو کوڈ آف کریمینل پروسیجر کے سیکشن 107 کے تحت حراست میں لیا گیا ہے اور جن سیاست دانوں نے مبینہ طور پر حلف نامے پر دستخط کیے انھوں نے اس بات کی ضمانت دی ہے کہ وہ رہائی کے بعد کسی بھی سیاسی سرگرمی میں حصہ نہیں لیں گے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

سرکاری اہلکار نے دی ہندو کو اس شق کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا، ’اگر کسی شخص کو سیکشن 107 کے تحت حراست میں لیا جاتا ہے اور وہ اس طرح کے حلف نامے پر دستخط کرے اور پھر اس کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے خلاف قانونی کارروائی، جس میں گرفتاری شامل ہے، کی جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت جن سرگرمیوں پر پابندی ہے ان میں سیاسی تقاریر شامل ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق حلف نامے پر دستخط کرنے والوں میں میر واعظ عمر فاروق بھی شامل ہیں جو کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما ہیں اور جنھیں سید علی گیلانی سمیت ان کے گھروں میں نظر بند کر کے رکھا گیا ہے۔ 

1973 میں پیدا ہونے والے میر واعظ عمر فاروق آل پارٹیز حریت کانفرنس کے اہم حصے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں۔ وہ یاسین ملک کے ہمراہ بھارت مخالف احتجاجی تحریک کی مشترکہ طور پر قیادت بھی کرتے رہے ہیں۔

پانچ اگست کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے اور کشمیر کو حاصل خود مختار حیثیت واپس لینے کے بعد سے کئی کشمیری قائدین زیر حراست اور گھروں میں نظر بند ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکام نے بتایا بھارت کے زیر انتظام جموں اور کشمیر کے سابق بھارت نواز وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو باقاعدہ طور پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کی گرفتاری جس قانون کے تحت عمل میں لائی گئی، اُس کے مطابق انھیں کسی بھی الزام کے بغیر دو سال تک قید میں رکھا جا سکتا ہے۔

ادھر، بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعے کو بھارتی سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کی جووینائل جسٹس کمیٹی سے کہا کہ وہ ان الزامات کا جائزہ لے جن کے مطابق کشمیر کی خصوصی حیثیت واپس لیے جانے کے بعد خطے میں بچوں کو غیرقانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔

سپریم کورٹ نے اس حوالے سے ایک ہفتے کے اندر رپورٹ جمع کروانے کا حکم دیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا