کشمیر پر عمران خان اور کر بھی کیا سکتے ہیں

اس بات سے انکار نہیں ہے کہ انسانیت سے زیادہ تجارت یا کاروباری مفادات اب بڑی طاقتوں کا مذہب بن گیا ہے مگر عالمی سطح پر نظریہ تبدیل کر کے اپنے موقف کی حمایت حاصل کرنا انتہائی لازمی بن گیا ہے اور میرے خیال میں یہ ہنر عمران خان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔

میں جانتی ہوں کہ بیشتر لوگ برطانوی ماہر کی بات سے اتفاق نہیں کریں گے مگر جنگ اور قتل وغارت گری کے بغیر اگر کسی کے پاس مسئلے کے حل کا اور کوئی طریقہ کار ہو تو ہمیں اور عمران خان کو بھی ضرور بتائے گا۔(اے ایف پی)

کشمیر مسئلے کا حل تلاش کرنے کے کئی راستے تھے جن کو اپنایا جاسکتا تھا اور جس کے لیے عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی جاسکتی تھی۔ جو سن بہتر کے بعد نہیں ہوا جب بنگلہ دیش کے وجود میں آنے کے بعد بھارت پاکستان کے درمیان شملہ معاہدہ طے پایا۔

اس معاہدے کو جموں و کشمیر کے عوام نے ایک ایسے سودے سے تعبیر کیا جس میں کشمیر کو بلی چڑھا کر پاکستان نے نوے ہزار فوجی واپس لائے جو اکہتر کی جنگ میں ہندوستان کے قبضے میں آگے تھے۔
بعض تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے مقبول ترین رہنما شیخ عبداللہ بھی 11 سال پابند سلاسل رہنے کے بعد اندرا عبداللہ معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگئے جب انہوں نے شملہ معاہدے میں جموں و کشمیر کو عالمی مسئلے کے بجائے باہمی مسئلے کے طور پر پایا حالانکہ وہ خود بھارت نواز تھے اور نہرو کی دوستی کے باوجود نو اگست 1953 میں گرفتار ہوئے تھے جو ان کے لیے کسی سانحے سے کم نہیں تھا۔

عبداللہ نے اس کا ذکر اپنی سوانح حیات ’آتش چنار‘ میں کیا ہے اور کشمیری پنڈتوں کے بعض رہنماؤں کو دلی کے ایوانوں میں سازشی عناصر کے طور پر پیش کیا جنہوں نے ان کے خلاف نہرو کو بھڑکایا تھا۔
شملہ معاہدے کےبعد کشمیر میں یہ تاثر گہرا ہوگیا کہ پاکستان ریاست جموں و کشمیر پر اپنے موقف سے خود دستبردار ہوگیا ہے۔ سن نوے تک ریاست میں خاموشی چھائی رہی گو کہ جذبہ آزادی سے سرشار بیشتر لوگ زیر زمین سرگرم عمل بھی رہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ریاست میں مکمل آزادی کے حامی سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہونا شروع ہوگئے تھے جن کے بارے میں پاکستان کے حامی کشمیری رہنماؤں نے الزام لگایا کہ مکمل آزادی یا اس طرح کے آپشنز دراصل بھارت کی جانب سے جاری کئے جاتے ہیں تاکہ ریاست میں افراتفری, نفاق اور اندرونی انتشار کی کیفیت پیدا کر کے کشمیریوں کو آپس میں لڑوایا جاسکے۔
  مکمل آزادی کے حامی بعض رہنما دونوں ملکوں کے عتاب کا شکار ہوگے جس کا فائدہ بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے خوب اٹھایا اور اندرونی خودمختاری یا سیلف رول جیسے مطالبات کر کے اقتدار پر براجمان رہے جو بھارتی موقف کے موافق بھی تھا اور یوں بھارت کو آزادی پسند عناصر کو ختم کرنے کا موقعہ بھی فراہم ہوا مگر یہ کسے علم تھا کہ جن قوانین کو لاگو کر کے آزادی پسندوں کو عتاب کا نشانہ بنایا گیا وہی قوانین ان کشمیری رہنماؤں کے لیے جیل کی سلاخیں بن جائیں گی۔۔۔۔فاروق عبداللہ کی مثال کافی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)


اب جب کہ بھارت نواز سیاسی جماعتیں بھی بھارتی عتاب کا شکار ہوگئی ہیں اس گھڑی کا انتظار سب کو ہے کہ قومی دھارے کے یہ رہنما اب کونسا راستہ اختیار کرتے ہیں لیکن اس کا انتظار بھارت سے زیادہ پاکستان کو ہے کہ اتنی سختی اور ذلت کے بعد بھی کیا یہ جماعتیں اپنے بھارت نواز ہونے کے موقف پر قائم رہیں گی۔۔۔ بلکہ خود کشمیری عوام کے بڑے طبقے کو انتظار ہے کہ ان رہنماؤں کی رہائی کے بعد جموں و کشمیر میں سیاست کونسا رخ اختیار کرتی ہے۔
کشمیریوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پاکستان ان کا خیر خواہ ہے مگر کشمیریوں کو اس بات کا بھی گلہ ہے کہ پاکستان نے  ماضی میں کئی مرتبہ انہیں بے یاروو مددگار چھوڑا۔
مسئلہ کشمیر کا حل تلاش کرنے کے کئی راستے بتائے جاتے ہیں۔ جنگ کے ذریعے یا قتل وغارت گری سے دنیا پر رعب جمایا جاسکتا ہے جیسا کہ ہٹلر نے دوسری جنگ کے دوران مغربی دنیا پر جمانے کی کوشش کی جس کےدوران 60 لاکھ یہودیوں کی نسل کشی بھی تاریخ میں رقم ہے۔
بعض تنظیمیں نوجوانوں کو مسلح کرنے کی باتیں کر رہے ہیں تا کہ ان کو موت کے منہ میں دھکیل دیا جائے جیسا کہ سن نوے میں نوجوانوں نے بندوق اٹھا کر بھارتی فوج سے نبرد آزما ہونے کی سعی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایک لاکھ سے زائد کشمیری ہلاک کئے گئے۔ سینکڑوں عورتوں کی عصمت دری ہوئی، اس کے نتیجے میں بھارت نے مسلح تحریک کو دہشت گردی کے زمرے میں ڈال کر عالمی رائے عامہ کو اپنی طرف مائل کر دیا کیونکہ امریکہ پر نائن الیون کے حملوں نے دنیا کی سوچ مسلمانوں کے تئیں یکسر تبدیل کر دی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارت کی بھرپور کوششوں کی وجہ سے عالمی سطح پر یہ موقف اتنا گہرا ہے کہ دو ماہ سے کشمریوں کے جانوروں سے بدتر حالات اور سخت کرفیو میں رہنے کے بعد بھی بیشتر ممالک اب تک ایک لفظ بھی نہیں بول پائے ہیں جس کا ذکر عمران خان نے حال ہی میں نیو یارک میں ایک پریس کانفرنس کے دوران بھی کیا۔ 

اس بات سے انکار نہیں ہے کہ انسانیت سے زیادہ تجارت یا کاروباری مفادات اب بڑی طاقتوں کا مذہب بن گیا ہے مگر عالمی سطح پر نظریہ تبدیل کر کے اپنے موقف کی حمایت حاصل کرنا انتہائی لازمی بن گیا ہے اور میرے خیال میں یہ ہنر عمران خان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا۔
میں نے برطانیہ میں جنوب ایشیاء امور کی ایک تھنک ٹینک سے وابستہ کئی ماہروں سے مسئلہ کشمیر پر ان کی رائے جاننا چاہی۔ میں نے ایک ماہر سے پوچھا کہ کیا پاکستان کشمیریوں کی جدوجہد میں بھر پور کردار ادا کر رہا ہے، خاص طور سے عمران خان؟

’کشمیریوں کو اس بات کا بخوبی علم ہے کہ پاکستان ان کا خیر خواہ ہی نہیں ہے  بلکہ اس تنازعے کا ایک فریق بھی ہےگو کہ بیشتر کشمیری تنظیمیں پاکستان سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ کشمیر کو حاصل کرنے کے لیے بھارت پر جنگ کیوں نہیں کرتا، کشمیریوں کو اسلحہ کیوں نہیں فراہم کرتا یا کشمیر کو حاصل کرنے کا روڈ میپ کیوں نہیں مرتب کرتا مگر پاکستان جس طرح اپنا قدم پھونک پھونک کر اٹھا رہا ہے وہ پاکستان کی موجودہ صورت حال اور عالمی سیاست کے تقاضوں کےعین مطابق ہے۔

’عالمی راے عامہ ہموار کرنے کا جو کام پاکستان اس وقت کر رہا ہے وہ اس کو پہلے کرنی چاہیے تھا لیکن دیر آید درست آید۔۔۔ ۔بھلے ہی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں وقت لگ جائے البتہ سیاسی مسئلے کو عالمی ایوانوں میں لا کر اور اقوام عالم کو اپنے موقف پر مائل کرنے میں کتنا ہی وقت درکار کیوں نہ ہو، صحیح طریقہ کار اور پالیسیوں میں تسلسل کو جاری رکھنے کا عزم ہو تو دنیا کا ہر مسئلہ حل کیا جاسکتا ہے۔ میرے خیال میں پاکستان اب اس مسئلے کو سلجھانے میں صیح کردار ادا کر رہا ہے۔‘

میں جانتی ہوں کہ بیشتر لوگ برطانوی ماہر کی بات سے اتفاق نہیں کریں گے مگر جنگ اور قتل وغارت گری کے بغیر اگر کسی کے پاس مسئلے کے حل کا اور کوئی طریقہ کار ہو تو ہمیں اور عمران خان کو بھی ضرور بتائے گا۔

زیادہ پڑھی جانے والی زاویہ