تیرے باجرے دی راکھی، ماہیا میں نہ بہندی وے

کیا یہ آئیڈیل وقت نہیں کہ ہم مچان سنبھال کر اپنے مفادات کی فصل اجاڑنے والے ہر چرند پرند اور جانور کو یہاں سے بھگاتے ہوئے جہادی کلچر کا خاتمہ کر دیں۔

(پکسا بے)

’میرے دل میں جا بجا اتنے زنانہ ٹینٹ لگے ہوتے تھے کہ کسی مہاجر بستی کا گماں گزرتا تھا،‘ یہ الفاظ جناب سرور سکھیرا نے اپنے یونیورسٹی دور کی دلفریب یادیں تازہ کرتے ہوئے لکھے ہیں۔

رومانس تو رومانس ہوتا ہے، چاہے وہ صنف مخالف سے ہو یا ماحول سے۔ دیسی مہینے اسوج میں باجرے کی سرسبز لہلہاتی فصل سے مزین ہمارے کھیت بھی سرور سکھیرا کے خوبصورت اور وسیع دل کا منظر پیش کرتے تھے، جہاں دور تک اتنی مچانیں نصب ہوتی تھیں کہ کسی مہاجر بستی کا گماں گزرتا تھا۔           

ستمبر کے وسط سے شروع ہو کر اکتوبر کے وسط تک رہنے والے اسوج کے دل آویز مہینے میں موسم کروٹ لیتا ہے اور سورج کی تمازت کی سا نسیں روز بروز اکھڑتی چلی جاتی ہیں۔ جان لیوا حبس جاں بلب ہوتا ہے اور راتوں کی فرحت بخش ٹھنڈک بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔ تب دور نیلگوں آسمان زمین پر جھک کر تا حدِ نظر پھیلی باجرے کی خوبرو بالیوں سے بڑے رومانوی انداز میں گلے ملتا ہے۔

ہمارے ماضی کے کتنے ہی اسوج مچان پر چڑھ کر اپنے باجرے کی حفاظت کرتے گزرے ہیں۔ ہم نے اس شاعرانہ ماحول میں کھیت کنارے ٹاہلی کی گھنی چھاؤں میں بیٹھ کر گھر کے مکھن سے چپڑی تندور کی روٹی کا لنچ بھی کیا ہے اور پھر کچی مٹی پر لیٹ کر سستاتے’باجرے دا سِٹہ اَساں تلی تے مروڑیا، رُٹھڑا جاندا ماہیا اَساں گلی وِچوں موڑیا‘ بھی گنگنایا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اب تو گردشِ دوراں نے کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کارِ جہاں اور فکر معاش کے جھمیلوں میں ہم اِدھر کے رہے نہ اُدھر کے، مگر جی چاہتا ہے کہ فضائی اور زمینی آلودگی سے پاک وہی اسوج لوٹ آئیں، جہاں پرندوں کے نغموں کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔ پریشر ہارن غارت ہو جائیں اور ان لاؤڈ سپیکروں میں کیڑے پڑ جائیں۔

ہم اہل دیہات کے انہی غیر ترقی پسندانہ جذبات کی بنا پر ہی تو اہل تہذیب ہمیں پینڈو اور ہمارے اس نوع کے ’شاعرانہ ماحول‘ کو احمقانہ ماحول کہتے ہیں، جس میں گرل فرینڈ کے ساتھ کسی ایئر کنڈیشنڈ ریستوران میں دبیز صوفے میں دھنس کر کافی پینے کی بجائے ڈھول جانی کے ساتھ کیکر کی چھاؤں میں گھاس پر بیٹھ کر گڑ کی چائے نوش کی جاتی ہے۔

 وقت کا تقاضا ہے کہ ہم قومی دھارے میں اپنی شمولیت یقینی بنانے کی خاطر ایسی غیر ترقی پسند خواہشات پر قابو پا لیں مگر کیا کیا جائے کہ آج بھی کہیں باجرے کی قد آدم لہلہاتی فصل دیکھ کر اپنے تاریک دور کی دلگداز یادیں سیلابی پانی کی منہ زور لہروں کی صورت اختیار کر لیتی ہیں اور اسوج کا رومانس غالب آ جاتا ہے۔

ہمارے دلوں کے علاوہ پرانی موسیقی اور لوک گیتوں میں بھی اس دلفریب رُت کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ موسمی تغیرات کا مزاجوں پر اثر مسلمہ ہے۔ ایسے میں موسم کے اعتبار سے ذہن کے نہاں خانوں میں چھپا کوئی بھولا بسرا نغمہ سنائی دے تو نفسا نفسی کے اس عالم میں بھی جلتی روح جیسے کسی ٹھنڈی آبشار تلے آ جاتی ہے اور طبیعت خود بخود غیر ترقی پسند خیالات پر مائل ہو جاتی ہے۔

جیسے آج ہی ہم نے یو ٹیوب پر ماسٹر عبداللہ کے کیف آفریں سُروں میں پروئے طالب جالندھری کے دلنشیں الفاظ ملکہ ترنم کی لافانی آواز میں سنے تو ان کی پھوار براہِ راست اپنے قلب پر محسوس کی:

تیرے باجرے دی راکھی، ماہیا میں نہ بہندی وے
جے میں سیٹی مار اڈاواں، میری سرخی لہندی وے
جے میں تاڑی مار اڈاواں، میری مہندی لہندی وے
جے میں اڈی مار اڈواں، جھانجھر ڈِگ ڈِگ پیندی وے

اسوج کو ہم مونگ پھلی کا موسم کہتے تھے، جوار کے دن اور باجرے کی رُت کہتے تھے۔ تھوڑا بہت جوار، باجرہ اور مونگ پھلی تو ہم اب بھی کاشت کرتے ہیں مگر آج ہم اسے ستمبر، اکتوبر کے مہینے کہتے ہیں۔ ہم نے کافی ترقی کرلی ہے۔ برق رفتار زندگی کی گوناگوں مصروفیات کی بنا پر اپنے باجرے کی راکھی کے لیے ہمارے پاس وقت نہیں۔ ہم تو اب شوگر کے ڈر سے چائے میں چینی بھی نہیں ڈالتے۔ کولیسٹرول بڑھ جانے کے خوف سے مکھن کے پیڑوں، لسی اور باجرے کی روٹی سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ گڑ تو ہم نے کب کا ترک کر دیا کہ جراثیموں سے لبریز ہوتا ہے۔ تاہم دور دراز اور نسبتاً پسماندہ دیہی علاقوں میں آج بھی وہی چلن ہے، جو کبھی یہاں ہوا کرتا تھا۔

باجرے کے ہر کھیت میں مضبوط اور لمبی لکڑیاں ٹھونک کر ان کے اوپر ڈنڈوں اور گھاس پھوس کا چھت ڈالا جاتا اور فصل کی حفاظت کرنے والے مرد و زن علی الصبح اس مچان پر سوار ہو جاتے۔ باجرے کے خوشوں پر بیٹھ کر اپنی چونچوں سے دانے چگنے والے پرندوں کو اڑانے کے لیے ٹین ڈبے کھڑکائے جاتے، بارود کے پٹاخے چلائے جاتے اور ’کھبانی‘ (رسی سے بنی بندوق) سے پتھر پھینکنے جاتے۔ ساتھ ساتھ پرندوں کو للکارنے کی ’ہو ڈاری ہو‘ کی صدائیں بھی جاری رہتیں۔

حتیٰ کہ دن تمام ہوتا اور شام ڈھلے پنچھی اور پہرے دار اپنے اپنے گھروں کو لوٹتے۔ جن گھروں میں فصل کی راکھی کرنے کے لیے کوئی فرد میسر نہیں ہوتا تھا، وہ ٹھیکے پر کسی غریب آدمی کا بندوبست کر لیتے تھے، جو چند کلوگرام باجرے کے عوض یہ فریضہ انجام دیتا تھا۔ رات کو مونگ پھلی کی فصل کو بھی جنگلی جانوروں سے خطرہ ہوتا تھا۔ ایسے میں کھیت کے درمیان صلیب کی شکل میں دو ڈنڈے گاڑ کر اور انہیں پرانی قمیص پہنا کر ’ڈراوا‘ تیار کیا جاتا تاکہ رات کو جانور اسے آدمی سمجھ کر نزدیک نہ آئیں۔

قوموں کے مفادات بھی ہم جاٹوں کی فصلوں جیسے ہوتے ہیں، جن کی حفاظت سے پہلوتہی کی جائے تو حال ہمارے جیسا ہوتا ہے کہ اِدھر کے رہے، نہ اُدھر کے۔

کشمیر پر حالیہ پاک بھارت کشیدگی کی بنیاد بھی مفادات کی حفاظت کی جنگ ہے، جس میں ہماری سفارتی غفلت نے ہمیں دنیا میں تنہا کر دیا ہے۔ رومانس اپنے موسموں، فصلوں اور مفادات ہی سے زیبا ہے۔ جو قومیں اپنے مفادات کی بجائے دوسروں کے مفادات کی حفاظت کے لیے مچانوں پر چڑھ بیٹھتی ہیں، وہ تاریخ کے پچھواڑے رینگتے اپنے مصائب پر نوحہ کناں رہتی ہیں۔ ان کی حیثیت ایسے غریبوں جیسی ہوتی ہے، جو دوچار کلو باجرے کی خاطر ہمارے باجرے کی راکھی کرتے تھے اور ہمیشہ محتاج ہی رہے۔

ہم نے ’چند من باجرے‘ کی خاطر اپنی فصلوں کو چھوڑ کر افغانستان میں امریکی باجرے کی حفاظت کی اور اپنی فصل کو بھی برباد کرلیا۔ سوچنا چاہیے کہ آخر دنیا کے لیے ہماری حیثیت باجرے کے سٹے جتنی کیوں رہی ہے کہ جب چاہا اسے ہتھیلی پر مروڑ لیا؟

ہمارے وزیراعظم نے اقوام متحدہ میں اپنے مشہور زمانہ خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان نے تمام انتہا پسند گروپ ختم کر دیے، اقوام متحدہ اپنا مشن بھیج کر چیک کرالے۔ بلین ڈالر کا سوال مگر یہ ہے کہ عمران خان کے اس دعوے کے باوجود دنیا ہماری بات پر یقین کرنے کو کیوں تیار نہیں؟

کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ ہم اپنے کھیتوں میں جعلی ڈراوے نصب کرنے کی بجائے خود وہاں پوری استقامت کے ساتھ کھڑے ہو جائیں؟

آج ’اسوج‘ کے اس رومانوی موسم میں جب حکومت اور فوج نیلگوں آسمان اور باجرے کے خوشوں کی طرح گلے مل رہے ہیں تو کیا یہ آئیڈیل وقت نہیں کہ ہم مچان سنبھال کر اپنے مفادات کی فصل اجاڑنے والے ہر چرند پرند اور جانور کو یہاں سے بھگاتے ہوئے جہادی کلچر کا خاتمہ کر دیں اور پھر امریکہ کے ڈو مور کے مطالبے پر اسے کورا جواب دیں، ’تیرے باجرے دی راکھی، ماہیا میں نہ بہندی وے۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی بلاگ