پاکستانیوں کی اکثریت نئے سال سے زیادہ پرامید: گیلپ سروے

گیلپ کے ایک سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ معاشی بحالی سے متعلق 53 فیصد پاکستانیوں نے امید کا اظہار کیا جبکہ انڈیا میں اسی طرح کی امید صرف 39 فیصد رہی۔

یکم جنوری 2026 کو لاہور میں لوگ نئے سال کی تقریبات کے دوران آتش بازی دیکھ رہے ہیں (عارف علی / اے ایف پی)

گیلپ انٹرنیشنل کے ایک سروے میں پاکستانیوں کی اکثریت نے نئے سال (2026) کے لیے مایوسی کے بجائے کئی زیادہ امید کا اظہار کیا ہے اور ان کے خیال میں نیا سال ملک میں زیادہ معاشی خوشحالی اور دنیا کے لیے امن لائے گا۔

گیلپ انٹرنیشنل کی ویب سائٹ پر موجود سروے کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی شہری 2026 کے دوران معیشت کی بحالی اور دنیا میں امن کے قیام سے متعلق انڈیا کے لوگوں سے کئی زیادہ پرامید رہے۔

نتائج سے مزید معلوم ہوتا ہے کہ معاشی بحالی سے متعلق 53 فیصد پاکستانیوں نے امید کا اظہار کیا جبکہ انڈیا میں یہی نمبر 39 فیصد رہا۔ اسی طرح دنیا میں امن کے لیے 52 فیصد پاکستانیوں نے پرامید تھے، جبکہ اس کے مقابلے میں صرف 26 فیصد انڈینز ایک پرامن کرہ ارض کی امید رکھتے ہیں۔ 

گیلپ انٹرنیشنل کے ایک بیان کے مطابق آنے والے سال کے بارے میں پاکستانیوں کا اتنا زیادہ پرامید ہونا ان کے مثبت آؤٹ لک کی نشاندہی کرتا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان مجموعی امید، معاشی امید اور امن کی امید کے حوالے سے انڈیا سے دو جبکہ باقی دنیا سے تینوں امیدوں میں آگے رہا۔

سروے کے نتائج کے مطابق پاکستانی شہریوں کی 2026 سے متعلق امید کی سطح گیلپ کے 1994 کے بعد سے ریکارڈ کیے گئے زیادہ تر سالوں کے مقابلے میں زیادہ رہی ہے۔ پاکستانیوں کی امید کی یہ سطح 90 کی دہائی کے آخر اور 2010 کی دہائی کے وسط میں سب سے زیادہ رہی تھی۔

گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن نے 2025 کے اختتام کے قریب پاکستان سمیت دنیا کے 60 مختلف ملکوں میں ایک سروے کیا، جس میں میں مجموعی طور پر 59636 افراد سے سوالات کیے گئے۔ یہ سالانہ سروے ایسوسی ایشن کی روایت ہے، جو 1978 سے مسلسل کیا جاتا ہے اور یہ اپنی نوعیت کے سب سے بڑے عالمی مطالعے کی نمائندگی کرتا ہے جو آزاد پولنگ تنظیموں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان میں یہ سروے گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کی مقامی تنظیم گیلپ پاکستان کی جانب سے 1994 سے نافذ کیا جا رہا ہے، جو وقت کے ساتھ ساتھ عوامی رائے کے رجحانات کے تسلسل اور موازنہ کو یقینی بناتا ہے۔

1947 میں گیلپ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن کے نام سے قائم ہونے والی یہ کمپنی سروے ریسرچ اور کنسلٹنسی فرم ہے، جو تیسرے فریق کی آزادانہ تشخیص اور درجہ بندی کی مہارت رکھتی ہے۔ گیلپ پاکستان اس بین الاقوامی کمپنی کا حصہ ہے، جسے پاکستان میں پولنگ کی سائنس کا بانی قرار دیا جاتا ہے اور اس کے پاس پاکستان میں رائے شماری کے انعقاد اور تجزیہ کرنے کا 40 سال سے زیادہ کا تجربہ ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق پاکستان میں محض 20 فیصد جواب دہندگان نے 2026 سے متعلق ناامیدی کا اظہار کیا، جبکہ 51 فیصد پاکستانی شہری پر امید رہے۔  

پاکستانیوں کی ایک بڑی اکثریت (53 فیصد) کے خیال میں 2026 ان کے ملک کے لیے معاشی خوشحالی کا سال ہو گا، جبکہ تقریباً ہر دو میں سے ایک (یعنی 52 فیصد) پاکستانی نے نئے شروع ہونے والے سال (2026) کے دوران دنیا میں زیادہ امن کی امید کا اظہار کیا۔  

گیلپ پاکستان نے 1994 میں ٹریکنگ شروع کرنے کے بعد سے آنے والے سال کے بارے میں امید سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے، جو تقریباً تین دہائیوں کے دوران صرف پانچ سالوں میں بڑھ گئی ہے۔


 

 

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی