کراچی: ’اماں یا نانا کے برابر دفن ہونے کی ضد نہ کریں‘

دو کروڑ سے زائد آبادی والے شہر میں گذشتہ 30 سالوں میں سرکاری سطح پر ایک بھی نیا قبرستان نہیں بنایا گیا۔

کراچی کے ضلع وسطی میں واقع سخی حسن قبرستان میں ایک ہی خاندان کے چار افراد کی قبریں جو بھابھی، چچا، منجلن اور اماں کے نام سے موجود ہیں، دراصل چار الگ الگ قبریں نہیں ہیں بلکہ ایک ہی قبر میں موجود چار افراد ہیں۔ کراچی کے قبرستانوں میں نئی قبروں کے لیے جگہ کی قلت کے باعث ایک ہی قبر میں ایک خاندان کے کئی افراد کو دفنایا جا رہا ہے۔

ہم نہیں جانتے تھے کہ بہادر شاہ ظفر کا شعر ’کتنا ہے بد نصیب ظفر دفن کے لیے دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں‘ دراصل کراچی کے قبرستانوں کی صورتِ حال پر لکھا گیا تھا۔

دو کروڑ سے زائد آبادی والے اس شہر میں گذشتہ 30 سالوں میں سرکاری سطح پر ایک بھی نیا قبرستان نہیں بنایا گیا، بلکہ آخری بار کراچی میں قبرستان کے لیے 20 ایکڑ زمین 1989 میں مواچھ گوٹھ میں مختص کی گئی تھی۔ یہاں تک کہ کراچی کے ضلع جنوب میں آج تک ایک بھی قبرستان نہیں بنایا گیا۔

 سرکاری نرخ نو ہزار روپے ہونے کے باوجود بھی ایک قبر کے لیے 14 سے 15 ہزار روپے لیے جاتے ہیں کیوں کہ عوام کی اکثریت کو سرکاری نرخ کے حوالے سے علم ہی نہیں ہوتا۔ ایک وقت تھا جب کراچی کے قبرستانوں میں متوفی کے اہل خانہ پر مزید رقم کے لیے یہ کہہ کر دباؤ ڈالا جاتا تھا کہ قبر کے لیے جگہ کم ہے لیکن اب واقعی جگہ کی کمی کے باعث قبرستانوں میں سرگرم مافیا کا دھندا بھی ٹھنڈا پڑ گیا ہے بلکہ اب تو متوفی کے اہل خانہ کو ڈسکاؤنٹ آفرز دی جاتی ہیں کہ اگر پہلے سے کسی رشتےدار کی قبر موجود ہے تو اس ہی قبر کے سائڈ میں تھوڑی جگہ نکال کر کم پیسوں میں تدفین کی جا سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

کراچی کے سخی حسن قبرستان میں دو دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے اظہر بلوچ نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’اب سخی حسن قبرستان میں نئی قبروں کی جگہ نہیں ہے، اس ہی وجہ سے یہ قبرستان کافی عرصے سے بند ہے۔‘

اظہر بلوچ کے مطابق یہ قبرستان 1971 سے یہاں موجود ہے اور ان کے خاندان والے کئی دہائیوں سے اس کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ پہلے اس قبرستان کا رقبہ 50 ایکڑ کے قریب تھا لیکن بعد میں اس قبرستان کے چار حصے ہوگئے جن میں سخی حسن، بوہری کمیونٹی، اسماعیلی کمیونٹی اور قلندریہ چشتی قبرستان شامل ہیں۔ اس کے بعد اس سخی حسن قبرستان کا رقبہ صرف 30 سے 35 ایکڑ رہ گیا۔

اظہر بلوچ کا کہنا تھا کہ ’اس پورے قبرستان میں ہر کمیونٹی اور مذہب کے لوگ دفن ہیں اور 1971 سے یہ قبرستان چل رہا ہے، تو کیا یہ بھرے گا نہیں؟ نئی قبروں کے لیے یہاں جگہ نہیں ہے لیکن اگر کسی کے رشتہ دار کی قبر یہاں پہلے سے موجود ہے اور اس قبر کے ساتھ ایک یا ڈیڑہ فٹ کی جگہ نکال رہی ہے تو خاندان والوں کی اجازت سے ان کے لواحقین کی تدفین بھی اس ہی قبر میں ہو جاتی ہے اور سخی حسن قبرستان کئی سالوں سے اس ہی طرح چل رہا ہے۔‘

پانچ ماہ قبل میئر کراچی وسیم اختر نے اس سنگین مسئلے پر توجہ دلانے کے لیے کہا تھا کہ شہر قائد کے قبرستان تین بار بھر چکے ہیں اور تقریباً 95 فیصد قبرستانوں میں جگہ پُر ہو چکی ہے۔ سندھ حکومت کو ذمہ دار ٹھراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس سالوں کے دوران شہر کے قبرستانوں کے لیے ایک روپیہ بھی مختص نہیں کیا گیا ہے۔ ’پیپلزپارٹی حکومت زندہ لوگوں کے لیے کچھ کرنے کو تیار نہیں تو کوئی کیسے توقع کرسکتا ہے کہ وہ مرنے والوں کے لیے کچھ کرے گی۔‘

اس مسئلے پر بروقت کارروائی نہ ہونے کے باعث کراچی کے قبرستانوں میں اب ایک قبر میں کئی افراد دفن ہیں۔ اس ہی حوالے سے چند روز قبل چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ کی زیر صدارت اجلاس کیا گیا جس میں کراچی کی بڑھتی ہوئی آبادی اور قبرستانوں کی زمین میں کمی کو مدِنظر رکھتے ہوئے شہر میں قبرستانوں کے لیے مزید زمین مختص کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

اس اجلاس کے حوالے سے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے میڑوپولیٹن کمشنر سیف الرحمٰن کا کہنا تھا کہ ’کراچی شہر میں اس وقت 203 قبرستان ہیں جو کہ ایم سی کے زیرِ انتظام ہیں۔ ان میں سے 184 مسلمانوں کے، 12 مسیحیوں کے، پانچ ہندوؤں، جبکہ ایک پارسی اور ایک یہودیوں کا قبرستان ہے۔

کمشنر سیف الرحمٰن کے مطابق چیف سیکریڑی سندھ نے قبرستان کی زمین کی کمی کے سنگین مسئلے کو سمجھتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت جاری کی ہے کہ گڈاپ میں 300 ایکڑ اور بن قاسم میں 200 ایکڑ زمین مختص کی جائے اور ساتھ ہی ضلع ویسٹ میں 200 ایکڑ اور ضلع ایسٹ میں 100 ایکڑ زمین قبرستان کے لیے تجویز کی جائے۔ زمین مختص کرنے کی سمری منظوری کے لیے سندھ کابینہ میں پیش کی جائے گی۔

خیال رہے کہ کراچی میں 28 سال بعد اس مسئلے کی جانب توجہ دی جا رہی ہے۔ اس شدید تعطل کے باعث کراچی کے ہر قبرستان میں مختلف مافیا سرگرم ہیں جن کے کارندے من مانی قیمتوں پر قبریں فروخت کرتے ہیں اور ایک قبر کے 15 سے 14 ہزار روپے وصول کرتے ہیں۔

ایسے ہی ایک مافیا سے متاثرہ شہری سید معظم علی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’میرے والد اور والدہ کی قبریں اب مجھے ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتیں۔ میرے والد کا انتقال 1992 اور والدہ کا انتقال 1997 میں ہوا تھا، ہم نے سخی حسن قبرستان میں ان کی تدفین کی تھی، لیکن 2017 میں شبِ برات کے موقع پر جب میں ان کی قبروں پر فاتحہ پڑھنے گیا تو وہ وہاں موجود نہیں تھیں۔ مسلسل دو سالوں سے یہی ہو رہا ہے۔‘

معظم کے مطابق ان کے والدین کی قبروں پر کسی اور نام سے نئی قبریں موجود تھیں اور قبرستان انتظامیہ میں سے کوئی بھی اس حوالے سے جواب دینے کو تیار نہیں تھا۔

کراچی کے ہر ضلع میں کتنے قبرستان ہیں؟

ضلع کا نام قبرستان کی تعداد

ضلع مغرب

123

ضلع مشرق

05

ضلع وسطی

15

ضلع ملیر

31

ضلع جنوب

00
ضلع کورنگی 29


کے ایم سی کے زیر انتظام قبرستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر سرور علم کے مطابق کراچی کے چھ اضلاع میں کُل 203 قبرستان ہیں جن میں سے سب سے ذیادہ یعنی 123 قبرستان ضلع مغرب میں ہیں، جو کہ رقبعے کے لحاظ سے کراچی کا سب سے بڑا ضلع ہے لیکن تعجب کی بات ہے کہ آبادی کے لحاظ سے سب بڑے ضلعے یعنی ضلع وسطی میں صرف 15 قبرستان موجود ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ ضلع جنوب میں تو ایک بھی قبرستان نہیں۔

جب ڈپٹی ڈائریکٹر سے پوچھا گیا کہ یہاں کے لوگوں کو کہاں دفنایا جاتا ہے تو ان کا کہنا تھا دیگر اضلاع میں جہاں بھی جگہ میسر ہو۔ اس ہی طرح ضلع مشرق میں پانچ، ضلع ملیر میں 31 اور ضلع کورنگی میں 29 قبرستان ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان