پاک افغان تجارت کے لیے بھولا بسرا راستہ کھل گیا

پاک افغان سرحد شاہ سلیم کے قریب تجارتی راستہ درہ پاس کھولنے کا نوٹیفکیشن جاری، درہ پاس کھلنے سے علاقے کی قسمت بدل جائے گی۔

پاک افغان سرحدی علاقے شاہ سلیم کے قریب درہ پاس کو تجارت کے لیے کھولنے کا باقاعدہ نوٹیفکیکشن جاری کر دیا گیا ہے۔

اس حوالے سے شاہ سلیم کے مقام پر ایک سادہ مگر پُروقار تقریب منعقد ہوئی جس کی صدارت چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سرتاج احمد خان نے کی جبکہ تقریب کے مہمان خصوصی خیبر پحتونخوا کے کسٹم کلیکٹر احسان علی شاہ تھے۔

انہوں نے فیتہ کاٹ کر راہ داری کا افتتاح کیا، جس کے بعد ثقافتی شو کا بھی اہتمام ہوا۔

اس موقعے پر احسان شاہ اور دیگر عملے نے گھوڑوں پر بیٹھ کر برف پوش راستے پر درہ پاس کا معائنہ کیا اور وہاں کسٹم کا متوقع دفتر کھولنے اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کا جائزہ لیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

احسان شاہ نے بتایا کہ شاہ سلیم اور گرم چشمہ کے لوگوں کی خواہش تھی کہ درہ پاس کا راستہ تجارت کے لیے کھل جائے۔

انہوں نے کہا اس راہ داری کے کُھلنے سے علاقے میں تجارت فروغ پائے گی، مقامی لوگوں کو فائدہ ہوگا اور یہ ایک تجارتی حب کے طور پر ابھرے گا۔

سرتاج احمد خان نے کہا وفاقی حکومت نے درہ پاس  کھولنے کا باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے اور اس طرح ارندو کا راستہ کھولنے کی بھی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا اس راستے سے قیمتی پتھر لاجبر، قالین، اون، اعلیٰ نسل کی بھیڑ، دنبے، گرم کپڑے، زیرہ، جڑی بوٹیوں اور دیگر کئی چیزوں کی باہمی تجارت سے علاقے کا نقشہ بدلے گا۔

انہوں نے کہا اس راستے سے ماضی میں اربوں روپے کی تجارت ہوتی تھی مگر بدقسمتی سے یہ راستہ کئی سالوں سے بند پڑا ہے۔

سرتاج خان کا کہنا ہے کہ یہ تاجکستان جانے کا نزدیک ترین راستہ ہے اور اس کے ذریعے ہم چین تک بھی رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔

علاقے کے لوگوں نے بھی اس قدم پر نہایت خوشی کا اظہار کیا اور اسے ترقی کا پہلا قدم گردانا۔

واضح رہے شاہ سلیم کا راستہ ماضی میں کافی مصروف راستہ تھا اور افغان جنگ کے دوران اسی راستے سے افغان مہاجرین اور امدادی سامان کا آنا جانا ہوتا تھا۔

اسی راستے پر گاڑیاں گزرتی تھی مگر کئی سالوں سے پتھر گرنے کی وجہ سے راستہ بند پڑا ہے۔

اس علاقے میں برف پوش پہاڑوں کی چوٹیوں پر آئی بکس، مارخور اور دیگر جنگلی جانور بھی ہیں۔ مقامی لوگوں نے محکمہ جنگلی حیات سے ان قیمتی جانوروں کی تحفظ کے لیے قدم اٹھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان