پاکستان سپر لیگ کے گیارہویں ایڈیشن کا آغاز آج (جعمرات) سے ہو رہا ہے۔ پاک افغان اور ایران جنگوں کی وجہ سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ شاید غیرملکی کھلاڑی نہ آئیں لیکن یہ سچ ثابت نہیں ہوئے۔ پی ایس ایل کے موجودہ ایڈیشن میں کچھ ایسے نام شامل ہیں جو پہلی دفعہ شرکت کر رہے ہیں۔
اگرچہ وہ اب ٹی ٹوئنٹی کرکٹ نہیں کھیلتے لیکن اپنی قومی ٹیسٹ ٹیم کے مستقل رکن ہیں اور طویل عرصہ سے کرکٹ کے میدانوں میں ان کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔ حالانکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کھلاڑیوں کا وقت اب ختم ہوچکا ہے لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ وہ آج بھی نمایاں کارکردگی دکھا سکتے ہیں۔
ان کے علاوہ بہت سے ایسے کھلاڑی ہیں جو گذشتہ کئی سالوں سے پی ایس ایل کا حصہ ہیں اور متعدد بار اپنے جوہر دکھا چکے ہیں۔
نیا سیزن کچھ تبدیلیاں لے کر آیا ہے۔ دس سال تک پی ایس ایل میں دس ٹیمیں شامل تھی لیکن گیارہویں سال مزید دو ٹیموں کا اضافہ ہوا ہے۔
راولپنڈی اور حیدرآباد وہ دو نئی ٹیمیں ہیں جو اس سیزن میدان میں اتریں گی۔ لیکن ایک ٹیم ملتان سلطانز پھر نیا جنم لے کر سامنا آ رہی ہے۔ نئی انتظامیہ کے ساتھ اس ٹیم کو اپنا پرانا نام واپس مل گیا۔ ملتان کی پرانی انتظامیہ کے پیچھے ہٹ جانے کے بعد پی سی بی نے اسے نیلام کر دیا تھا اور سیالکوٹ کے نام سے رجسٹر ہوئی لیکن خریدنے والوں میں نااتفاقی اور عدم اعتمادی کے باعث ٹیم ایک بزنس گروپ کو فروخت کردی گئی۔
ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سیالکوٹ کی ٹیم بھاری قیمت پر خریدی گئی جبکہ اس کی ادائیگی کے لیے مالکان کے پاس رقم نہیں تھی۔ اب نئے مالک نے اسے ان سائیڈ ٹریڈنگ کے ذریعہ خرید کر دوبارہ ملتان کا نام دے دیا ہے۔
کیا کچھ نیا ہوگا؟
موجودہ عالمی حالات اور ایران امریکہ جنگ کے باعث پی ایس ایل کے تمام 44 میچ لاہور اور کراچی میں کرانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا اور اس سے لیگ کی ساکھ پر سوال لگ سکتے ہیں لیکن پی سی بی کاموقف ہے کہ موجودہ حالات میں چار مقامات پر ٹیموں کو سنبھالنا مشکل کام ہے۔
سب سے زیادہ نانصافی خیبرپختونخوا کے کرکٹ شائیقن کے ساتھ ہوئی جنہیں عرصہ بعد پہلا پی ایس ایل میچ پشاور میں دیکھنے کا موقعہ پھر نہ مل سکا۔
سب سے اہم بات یہ کہ میچز تماشائیوں کے بغیر خالی سٹیڈیم میں ہوں گے۔ تہ تجربہ اس سے قبل کرونا وبا کے زمانے میں کیا جا چکا ہے۔ لیکن سچی پات ہے تماشائیوں کے بغیر میچز میں جان ہوتی ہے اور نہ توجہ ۔۔ کرکٹ بلکہ کسی کھیل کا اصل مزا یہی ہے کہ سٹیڈیم میں تماشائی ہی تماشائی ہوں۔ شور شرابا اور گرما گرمی سے کھلاڑیوں کو بھی تقویت ملتی ہے۔
غیر ملکی کھلاڑیوں میں بڑے نام: سٹیو سمتھ
پی ایس ایل 11 میں سب سے اہم شمولیت دور حاضر کے مستند بلے باز اور آسٹریلیا کے سابق کپتان سٹیون سمتھ کی ہے۔ وہ پہلی دفعہ پی ایس ایل میں اپنے جوہر دکھائیں گے۔ ملتان سلطانز نے انہیں ڈائریکٹ سائنگ میں لیا ہے۔ انہوں نے گیارہ سال آئی پی ایل کھیلی ہے اور کپتانی بھی کی ہے۔
سو سے زائد میچ کھیل کر دو ہزار سے زیادہ رنز بنانے والے سمتھ کے لیے گذشتہ آئی پی ایل میں کوئی خریدار نہیں تھا۔ جس کے بعد انہوں نے پی ایس ایل کا معاہدہ کیا۔ وہ بگ بیش کے حالیہ ایڈیشن میں اپنی ٹیم کو فائنل تک لے گئے تھے اور اچھی فارم میں ہیں۔ ملتان کو ان سے بڑی توقعات ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
مارنوس لابوشین
ٹیسٹ کرکٹ کے شان دار بلے باز مارنوس لابوشین حیدر آباد کنگزمین کے کپتان مقرر کیے گئے ہیں۔ ان کا ٹی ٹوئنٹی ریکارڈ بہت معمولی ہے جس وجہ سے حیدر آباد کو زیادہ فائدہ ہونے کی امید نہیں ہے۔
پیٹر سڈل
آسٹریلیاکے سابق ٹیسٹ فاسٹ بولر 41 سالہ پیٹر سڈل کی ملتان سلطانز میں شمولیت حیرت انگیز ہے۔ وہ اگرچہ بگ بیش لیگ ابھی تک کھیل رہے ہیں لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ سات سال پہلے چھوڑ چکے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ کب پی ایس ایل میں شمولیت اختیار کریں گے۔
گلین میکسویل
آسٹریلیا کے گلین میکسویل ٹی ٹوئنٹی کے زبردست کھلاڑی ہیں۔ حیدرآباد میں ان کی شمولیت بہت معنی رکھتی ہے لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ وہ کب پاکستان پہنچیں گے۔
مارک چیپمین
نیوزی لینڈ کے مارک چیپمین بھی معروف ٹی ٹوئنٹی کھلاڑی ہیں جو جارحانہ بلے بازی کے ساتھ ایک شان دار فیلڈر بھی ہیں اور بوقت ضرورت بولنگ بھی کرسکتے ہیں۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے وہ کارگر ثابت ہو سکتے ہیں
ڈیوڈ وارنر
کراچی کنگز کے کپتان اس سیزن میں بھی ڈیوڈ وارنر ہی ہیں۔ وارنر اپنے وقت کے زبردست جارحانہ بلے باز تھے تاہم ریٹائر ہونے کے بعد ان کی کارکردگی میں بہت فرق آچکا ہے۔ گذشتہ سیزن میں بھی وہ بجھے بجھے سے تھے تاہم وہ کسی وقت بھی اپنا جادو جگاسکتے ہیں۔
معین علی
انگلینڈ کے سابق کھلاڑی معین علی اگرچہ انٹرنیشنل کرکٹ چھوڑ چکے ہیں لیکن پی ایس ایل میں کراچی کنگز کی نمائندگی کررہے ہیں
ایڈن زمپا
کراچی کنگز میں ایک اور بڑا نام آسٹریلیا کے سپنر ایڈن زمپا کا ہے۔ وہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ہر لیگ کی اولین پسند ہوتے ہیں۔ ان کی بولنگ کراچی کنگز کے لیے بہت اہم ہوگی۔
سکندر رضا
موجودہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں جس کھلاڑی نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی ہے وہ زمبابوے کے سکندر رضا ہیں۔ ایک زبردست آل راؤنڈر ہیں اور لاہور قلندرز کی طرف سے اس سال ان کی کارکردگی قابل توجہ ہوگی۔ انہوں نے حالیہ ورلڈ کپ میں اپنی ٹیم کو غیرمعمولی فتوحات دلوائیں۔ اب قلندرز کو ان سے بڑی توقعات ہیں۔
مائیکل بریسویل
نیوزی لینڈ کے سپنر مائیکل بریسویل پشاور زلمی کا حصہ ہیں۔ اپنی نپی تلی بولنگ کے لیے وہ مشہور ہیں اور جارحانہ بیٹنگ بھی کرتے ہیں۔ وہ بھی لیگ میں ایک خطرناک کھلاڑی ثابت ہوسکتے ہیں۔
کوشال مینڈس
سری لنکا کے کوشال مینڈس ٹی ٹوئنٹی کے ماہر بلے باز ہیں اگرچہ گذشتہ ایک سال سے ان کی کارکردگی تنزل پذیر ہے لیکن وہ کسی بھی وقت کچھ کرسکتے ہیں۔ پشاور زلمی نے ان کے تجربہ کو دیکھتے ہوئے انہیں شاید شامل کیا ہے۔
ریلی روسو
ریلی روسو اور پی ایس ایل اب لازم و ملزوم بن چکے ہیں۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے مستقل کھلاڑی ہیں۔ ماضی میں لاتعداد شان دار اننگز کھیل چکے ہیں۔ ان کی بیٹنگ اب کچھ بجھی بجھی سی ہے لیکن ان کے طاقتور شاٹ کسی بھی وقت کچھ کرسکتے ہیں۔
ڈیرل مچل
راولپنڈی کے لیے نیوزی لینڈ کے مڈل آرڈر بلے باز ڈیرل مچل کی کارکردگی بھی قابل دید ہوگی۔ وہ ایک اچھے فیلڈر اور میڈیم پیسر بالر بھی ہیں۔ ڈیرل مچل کسی بھی وقت میچ کا نقشہ بدل سکتے ہیں۔
ان کھلاڑیوں کے علاوہ بہت سے ایسے نام ہیں جو ٹی ٹوئنٹی کے سپیشلسٹ ہیں اور اپنی بیٹنگ بولنگ سے میچ کا نتیجہ بدل سکتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگا کہ پی ایس ایل میں زیادہ تر غیر ملکی کھلاڑی وہ ہیں جو یا تو عمر رسیدہ اور ریٹائر ہوچکے ہیں یا پھر جنھیں آئی پی ایل میں کسی ٹیم نے نہیں خریدا اور خریدار نہ ملنے کے سبب پی ایس ایل چلے آئے۔
ان سب حقائق کے باوجود یقین ہے کہ پی ایس ایل کی کشش اور دلچسپی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔
