ایک تجربہ کار فزیوتھراپسٹ کا کہنا ہے کہ پوسچر اور کمر درد کے درمیان کوئی تعلق نہیں، اصل مسئلہ زیادہ دیر تک ایک ہی حالت میں بیٹھے رہنا ہے۔
پوسچر کا ذکر ہی بہت سے ڈیسک ورکرز کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی دوڑا دیتا ہے اور وہ فوراً اپنے کندھے پیچھے کر کے اور سینہ آگے نکال کر بیٹھنے لگتے ہیں۔
لیکن کمپیوٹر کے سامنے جھک کر بیٹھنا بذات خود کوئی بری چیز نہیں۔
موو فزیوتھراپی کے بانی الیکس موریل کہتے ہیں ’پوسچر اور درد کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔‘
’زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ کمر کے مسائل اور درد خراب پوسچر، خاص طور پر جھک کر بیٹھنے سے جڑے ہوتے ہیں، لیکن اس کی حمایت میں کوئی سائنسی تحقیق موجود نہیں۔‘
اس کی بجائے وہ کہتے ہیں کہ ’بہترین پوسچر اگلا پوسچر ہے‘۔
جسم حرکت کے لیے بنا ہے اس لیے وقفے وقفے سے پوزیشن بدلنا مضبوط اور لچکدار ریڑھ کی ہڈی کے لیے ضروری ہے ، اور دیگر جوڑوں اور عضلات کے لیے بھی۔ مگر یہ پیغام اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
حالیہ برسوں میں ریڑھ کی ہڈی کو ایک کمزور چیز سمجھا جانے لگا ہے۔ اسی وجہ سے اسے حد سے زیادہ محفوظ رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک ’نیوٹرل‘ پوزیشن میں رکھا جاتا ہے۔
تاہم موریل کے مطابق یہ اتنی نازک نہیں جتنی عام طور پر سمجھی جاتی ہے اور یہ سوچ طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب جسم کے پاس مضبوط رہنے کی کوئی ضرورت نہیں رہتی تو ریڑھ کی ہڈی کے اردگرد کے غیر استعمال شدہ ٹشو وقت کے ساتھ کمزور ہو جاتے ہیں، جس سے چوٹ لگنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
موریل وضاحت کرتے ہیں کہ کیوں ’سر اوپر، کندھے پیچھے‘ کو پوسچر کا مثالی معیار سمجھنا درست نہیں، اور اس کی بجائے کیا کرنا چاہیے۔
پوسچر کا تضاد
اگر کوئی اپنا پوسچر بہتر بنانا چاہتا ہے تو سیدھا چلنے اور بیٹھنے میں کچھ فائدہ ضرور ہے۔
موریل کہتے ہیں ’مسئلہ تب ہوتا ہے جب ’کندھے پیچھے، سینہ باہر‘ والی پوزیشن آپ کی واحد پوزیشن بن جائے کیونکہ اس صورت میں لوگ ریڑھ کی ہڈی کو پیچھے کی طرف موڑنے لگتے ہیں۔‘
لمبے عرصے تک اسی پوزیشن کو برقرار رکھنے سے انسان اس مخصوص حالت میں تو مضبوط ہو جاتا ہے مگر جب اسے جھکنے یا مڑنے جیسی دوسری حرکات کرنی پڑیں تو وہ کمزور ہوتا ہے۔
اسی لیے مختلف انداز میں ریڑھ کی ہڈی کو حرکت دینا ضروری ہے تاکہ روزمرہ زندگی کے تقاضوں کے لیے جسم تیار رہے۔
موریل کے مطابق سیدھے پوسچر کے کچھ دیگر فوائد بھی ہیں۔
’انسانی رویہ بھی پوسچر سے متاثر ہوتا ہے۔ آپ کسی کے پوسچر سے اس کے موڈ کا اندازہ لگا سکتے ہیں، اسی لیے لوگ اسے اہمیت دیتے ہیں۔‘
اسی لیے کسی کاروباری میٹنگ میں پراعتماد انداز میں داخل ہونا مفید ہو سکتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ آپ ہر وقت اسی انداز میں رہیں۔
پوسچر سے منافع کمانا
ان مصنوعات سے ہوشیار رہیں جو پوسچر کو ایک ’مسئلہ‘ بنا کر پیش کرتی ہیں اور پھر اس کا حل بیچنے کی کوشش کرتی ہیں۔
موریل کہتے ہیں ’اس میں مختلف طریقوں کی تھراپی بھی شامل ہو سکتی ہے اور ایسے آلات بھی، جو دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کا پوسچر بہتر بنا سکتے ہیں۔‘
’آج کل ایسی بہت سی چیزیں ہیں — جیسے وہ آلات جو کندھوں کے گرد لگائے جاتے ہیں اور انہیں پیچھے کھینچتے ہیں۔‘
’لیکن بطور انسان آپ کا جسم دنیا کے سب سے زیادہ لچکدار ڈھانچوں میں سے ایک ہے اور آپ کو حرکت کے مختلف آپشنز درکار ہوتے ہیں تاکہ آپ کی ریڑھ کی ہڈی وہ تمام بنیادی حرکات کر سکے، جیسے جھکنا، سیدھا ہونا، پہلو کی طرف مڑنا، گھومنا اور ان کا کوئی بھی مجموعہ۔‘
’اور یہ صرف اسی صورت ممکن ہے جب آپ خود کو آہستہ آہستہ ان مختلف حرکات سے روشناس کرائیں اور انہیں محفوظ اور مؤثر انداز میں کرنے کی صلاحیت حاصل کریں۔‘
حل؟ پوسچر چھوڑیں، حرکت شروع کریں
موریل مشورہ دیتے ہیں ’اپنی زندگی میں آہستہ آہستہ مختلف حرکات شامل کریں۔‘
’لوگ بہت جلد گھبرا جاتے ہیں: ’جب میں اس پوزیشن میں بیٹھتا ہوں تو اکڑن اور درد محسوس ہوتا ہے‘۔ لیکن اگر کوئی بھی شخص تین گھنٹے تک ایک ہی حالت میں بیٹھا رہے تو وہ بھی یہی محسوس کرے گا۔‘
’مسئلہ اس پوزیشن میں بیٹھنا نہیں — مسئلہ یہ ہے کہ گھنٹوں تک بغیر حرکت کے اسی حالت میں بیٹھے رہنا۔‘
زیادہ تر لوگ سب سے زیادہ وقت اپنی ڈیسک پر ایک ہی حالت میں گزارتے ہیں۔ اس کا آسان حل باقاعدہ حرکت ہے، جسے اپنی روزمرہ روٹین میں شامل کرنا چاہیے، مثلاً الارم لگا کر خود کو حرکت کی یاد دہانی کروانا۔
تاہم موریل ایک سادہ حل دیتے ہیں ’اگر آپ کو اکڑن محسوس ہو تو اپنی پوزیشن بدل لیں۔‘
وہ کہتے ہیں ’اگر آپ جھک کر بیٹھے ہیں تو کچھ دیر سیدھا بیٹھ جائیں اور اگر سیدھا بیٹھے ہیں تو تھوڑا جھک جائیں،‘
’اگر آپ کے پاس سٹینڈنگ ڈیسک ہے اور بیٹھنے سے درد ہو رہا ہے تو کھڑے ہو جائیں یا ٹانگیں سیدھی کریں — واش روم جائیں یا کافی بنا لیں۔‘
’یہ سب سادہ چیزیں ہیں جنہیں سادہ طریقے سے کرنا چاہیے، بجائے اس کے کہ ڈیسک پر بیٹھنے کے اثرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے۔‘
ہوائی جہاز بنیں، ہیلی کاپٹر نہیں
نئی اور مستقل حرکات کو آہستگی سے شامل کریں اور وقت کے ساتھ ان میں اضافہ کریں تاکہ آپ کی حرکت کی حد اور برداشت دونوں بہتر ہوں۔
سپورٹس تھراپسٹ جورڈن ساہوٹا کے مطابق ’ہمیں ہوائی جہاز کی طرح اڑان بھرنی ہے، ہیلی کاپٹر کی طرح نہیں‘ — یعنی آہستہ آہستہ ترقی کریں نہ کہ ایک دم اوپر پہنچنے کی کوشش کریں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انسانی جسم اس سے کہیں زیادہ برداشت کر سکتا ہے جتنا ہم سمجھتے ہیں، مگر اسے وقت دینا ضروری ہے، جیسا کہ موومنٹ سپیشلسٹ ایش گروس مین کہتے ہیں۔
’ٹشو ٹالرنس سے مراد وہ مقدار ہے جتنا دباؤ یا بوجھ جسم کا کوئی حصہ برداشت کر سکتا ہے۔ اگر جسم کا کوئی حصہ متاثر ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس پر اس کی برداشت سے زیادہ دباؤ ڈالا گیا۔‘
’ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے جسم کی برداشت ان تقاضوں سے زیادہ ہو جو ہم اس پر ڈالتے ہیں۔‘
’اگر آپ کو معلوم ہو کہ آپ کو کس قسم کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا تو آپ آہستہ آہستہ اس کے مطابق خود کو تیار کر سکتے ہیں، جس سے جسم مضبوط اور زیادہ پائیدار ٹشوز بناتا ہے۔
’پھر مستقبل میں وہ ان دباؤ کو بہتر طریقے سے برداشت کر سکتا ہے۔‘
اگر آپ صرف روزمرہ حرکت کے لیے تیار ہونا چاہتے ہیں تو ایسے جسمانی ورزشیں کافی ہیں جن میں ریڑھ کی ہڈی کو ہر سمت میں حرکت دی جائے — جیسے جھکنا، سیدھا ہونا، مڑنا اور گھومنا۔
اور اگر آپ کو زیادہ جسمانی مشقت کا سامنا ہے، جیسے کھیل یا بھاری وزن اٹھانا تو طاقت بڑھانے والی ورزشیں ایک مضبوط جسم بنانے میں مدد دیتی ہیں۔