لبنان میں گذشتہ رات سے شدید جھڑپوں اور اسرائیلی حملوں میں کم از کم 47 افراد کی اموات کے بعد اسرائیل اور نے لبنان میں جمعے کو سیز فائر پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔
روئٹرز کو ایک امریکی عہدے دار نے بتایا کہ سیز فائر کا آغاز جمعے کو مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے سے ہونا تھا۔
ایک سینیئر اسرائیلی عہدے دار اور حزب اللہ کے دو ذرائع نے بھی سیز فائر کی تصدیق کی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ عبوری معاہدے کو شدید آزمائش سے دوچار کر دیا تھا۔
امریکی عہدے دار نے بتایا کہ سیز فائر کے لیے مذاکرات امریکہ اور قطر کے نمائندوں نے ایران کی معاونت سے مکمل کیے۔
ان کے بقول ’حزب اللہ اور اسرائیل سیز فائر پر متفق ہو گئے ہیں۔ آج فائرنگ کے تبادلے کے بعد اب دونوں فریق جنگ بندی کی حالت میں ہیں۔‘
اسرائیلی عہدے دار نے کہا کہ ’اگر حزب اللہ ہم پر حملہ نہیں کرتی تو ہمارے لیے یہ جنگ کا وقت نہیں ہے۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھیں گی۔
سیز فائر کے اعلان کے باوجود روئٹرز کے ایک صحافی نے بتایا کہ سیز فائر نافذ ہونے کے تقریباً ایک گھنٹے بعد بھی شمالی اسرائیل سے لبنان کے اندر اسرائیلی حملے ہوتے دیکھے گئے جبکہ سرحدی علاقے میں دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔
لبنان کی وزارتِ صحت کے مطابق گذشتہ نصف شب کے بعد سے اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم 47 افراد جان سے گئے۔
دوسری جانب اسرائیل نے کہا ہے کہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے ایک حملے میں اس کے چار فوجیوں کی موت ہوئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے حالیہ معاہدے کے تحت امریکہ، ایران اور ان کے اتحادیوں کو لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں فوری اور مستقل طور پر روکنا تھیں۔ تاہم معاہدے کے ابتدائی اعلان کے بعد وقتی کمی آنے کے باوجود گذشتہ ہفتے کے دوران تشدد میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس سے قبل حزب اللہ کے رکن پارلیمان حسن فضل اللہ نے کہا تھا کہ ایران نے تنظیم کو آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات اس وقت تک آگے نہیں بڑھ سکتے جب تک ایک جامع جنگ بندی نہ ہو۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں شہری مارے گئے، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا اور زمینی کارروائیاں بھی جاری رہیں۔
لبنانی سکیورٹی ذرائع نے بتایا گذشتہ رات دریائے لیطانی کے شمال میں واقع علی الطاہر پہاڑی کے علاقے پر اسرائیلی حملے ہوئے، جو حزب اللہ کے لیے ایک اہم عسکری مقام سمجھا جاتا ہے۔ حزب اللہ نے کہا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے اس علاقے میں پیش قدمی کرنے والی اسرائیلی فورس پر گھات لگا کر حملہ کیا، تین میرکاوا ٹینک تباہ کیے اور راکٹوں و توپ خانے سے اسرائیلی فوج کو نشانہ بنایا۔
لبنان کی وزارت صحت کے مطابق دو مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں لبنان میں 3,912 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں 746 طبی کارکن، خواتین اور بچے شامل ہیں۔