بحرین: خلیجی تعاون کونسل اور امریکہ کا مشترکہ اجلاس، سعودی وزیر خارجہ کی شرکت

اجلاس میں شرکا نے زور دیا کہ مذاکرات کے بعد کسی بھی معاہدے میں خلیجی ممالک کے مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھا جائے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جو خطے میں پائیدار امن، خودمختاری کے احترام اور حسنِ ہمسائیگی کو مدنظر رکھیں۔

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں سعودی وزیر خارجہ 25 جون 2026 کو خلیجی تعاون کونسل کے اجلاس کے موقعے پر اپنے امریکی ہم منصب سے ملاقات کر رہے ہیں (ایس پی اے)

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے خلیجی تعاون کونسل اور امریکہ کے مشترکہ وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس میں خطے کی صورت حال، ایران کے ساتھ جاری مذاکرات، سمندری گزرگاہوں کے تحفظ اور باہمی تعاون کے فروغ پر تبادلۂ خیال کیا گیا، شرکا میں خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وفود کے سربراہان، کونسل کے سیکریٹری جنرل جاسم البديوي اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو شامل تھے۔

شرکا نے خلیجی ممالک اور امریکہ کے درمیان تزویراتی تعلقات کا جائزہ لیتے ہوئے مختلف شعبوں میں تعاون اور شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے طریقوں پر غور کیا۔

اجلاس میں خطے کو درپیش چیلنجز، امن و استحکام کے قیام اور خلیج عرب و مشرقِ وسطیٰ میں مشترکہ رابطوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اجلاس کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات پر خصوصی گفتگو ہوئی۔ شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ ان مذاکرات کے نتیجے میں سامنے آنے والے کسی بھی معاہدے یا انتظام میں خلیجی ممالک کے مفادات اور سلامتی کو مدنظر رکھا جائے اور ایسے اقدامات خطے میں پائیدار امن، خودمختاری کے احترام، حسنِ ہمسائیگی اور ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے اصولوں کو مضبوط بنائیں۔

شرکا نے سمندری راستوں کے تحفظ اور تجارتی نقل و حرکت کی آزادی کی اہمیت پر بھی زور دیا، خصوصاً آبنائے ہرمز کو علاقائی اور عالمی معیشت کے لیے ایک اہم آبی گزرگاہ قرار دیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک اور امریکہ نے مشترکہ دلچسپی کے امور پر مسلسل مشاورت جاری رکھنے اور خطے میں جامع سیاسی حل کی کوششوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا