چین میں روبوٹس کا پہلا سکول

سکول میں آئندہ دو سے تین برسوں کے دوران تقریباً 200 سے 300 روبوٹس کو تربیت دی جائے گی۔

چین کے مشرقی صوبے ژی جیانگ کے شہر ہانگژو میں روبوٹس کا پہلا سکول قائم کیا گیا ہے، جہاں ابتدائی مرحلے میں 30 روبوٹس کو صنعتی، سروس، سکیورٹی اور تفریحی شعبوں کے لیے تربیت دی جا رہی ہے۔

سکول میں روبوٹس کو عملی زندگی اور مختلف شعبوں میں کام کرنے کے لیے باقاعدہ تربیت دی جا رہی ہے۔

تربیتی پروگرام میں روبوٹس کی جسمانی صلاحیتوں کا جائزہ، مختلف شعبوں میں خصوصی کورسز اور آخر میں مہارت کی سند شامل ہے۔

روبوٹ سکول کے انجینیئر ژو تیانلے کے مطابق ایک روبوٹ کی ابتدائی تربیت کا مقصد یہ تھا کہ وہ اپنے گرِپر کے ذریعے اشیا اٹھائے، انہیں ترتیب سے ایک دوسرے کے اوپر رکھے اور پھر اسمبلی لائن تک منتقل کرے۔

ژو تیانلے کے مطابق مذکورہ روبوٹ تقریباً ایک ماہ سے تربیت حاصل کر رہا ہے، بنیادی کورس مکمل کر چکا ہے اور اب اسے انتہائی درست الائنمنٹ جیسی خصوصی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے آج کی نئی اور مفید تکنیک اگلے سال پرانی ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی وجہ سے روبوٹس کو دوبارہ تربیتی کورسز میں لایا جائے گا تاکہ انہیں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ اور ان کے عملی استعمال کے لیے زیادہ موزوں رکھا جا سکے۔

ژی جیانگ یونیورسٹی کے روبوٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے انسٹی ٹیوٹ آف ایمبوڈیڈ اے آئی اینڈ سین انٹیلی جنس کے ڈپٹی ڈائریکٹر ژاؤ ہان نے بتایا کہ بعض روبوٹس کے ہارڈویئر اور پرزے پہلے ہی انتہائی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن انہیں حقیقی دنیا کے عملی حالات کے مطابق ڈھلنے میں اب بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

ان کے مطابق روبوٹ سکول کا بنیادی مقصد روبوٹس کے دماغ کو بااختیار بنانا اور انہیں کامیابی سے افرادی قوت کا حصہ بننے کے قابل بنانا ہے۔

ژاؤ ہان نے بتایا کہ سکول میں طلبہ کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہوگی۔ اندازہ ہے کہ آئندہ دو سے تین برسوں کے دوران تقریباً 200 سے 300 روبوٹس کو تربیت دی جائے گی۔

انہوں نے روبوٹس کی تربیت کے ایک اہم فائدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ جب ایک روبوٹ کو مکمل تربیت دے دی جائے تو اسی ہارڈویئر کی بنیاد رکھنے والا کوئی بھی دوسرا روبوٹ وہی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے، کیونکہ روبوٹس کے لیے سافٹ ویئر ایپلی کیشنز مکمل طور پر نقل کی جا سکتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی