دو پاکستانی پائلٹس کی خلا میں جانے کے لیے چین میں تربیت

پاکستان کے دو پائلٹ ان دنوں چین میں مینڈارن زبان سیکھنے، سینٹری فیوج مشقوں میں تیزی سے گھومنے اور خلا میں بے وزن حالت کے دوران کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کرنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

ذیشان علی اور خرم داؤد کئی ماہ سے بیجنگ میں چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں (پاکستان سٹریٹجک فورم/ایکس)

پاکستان کے دو پائلٹ ان دنوں چین میں مینڈارن زبان سیکھنے، سینٹری فیوج مشقوں میں تیزی سے گھومنے اور خلا میں بے وزن حالت کے دوران کھانے، سونے اور آلات کی مرمت کرنے کی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

ان دنوں پائلٹس میں سے کون چین کے خلائی سٹیشن ’تیان گونگ‘ پر جانے والا پہلا غیر ملکی خلاباز بنے گا، یہ فیصلہ جلد متوقع ہے۔

یہ سفر پاکستان کے لیے خلا میں جانے کا پہلا موقع ہو گا۔ یہ چین کے ساتھ وسیع تر تعاون کا حصہ ہے، جس میں بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ بھی شامل ہے۔

اس تعاون کے نتیجے میں چین کی مدد سے پاکستانی سیٹلائٹس خلا میں بھیجے جا چکے ہیں، مشترکہ سیٹلائٹ نیویگیشن نظام تیار کیا گیا ہے اور پاکستان کا تیار کردہ ایک روور بھی شامل ہے، جسے تقریباً 2028 میں چین کے ’چانگ ای 8‘ چاند کے مشن پر بھیجا جانا ہے۔

پاکستان کی خلائی ایجنسی سپارکو میں انسانی خلائی پرواز کے تعاون کی نگرانی کرنے والے عامر گیلانی نے بتایا کہ پائلٹ ذیشان علی اور خرم داؤد گذشتہ کئی ماہ سے بیجنگ میں چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

اس مشن کا تصور دونوں ممالک نے 2019 میں پیش کیا تھا۔ چین نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ دونوں میں سے کون خلا میں جائے گا یا مشن کب روانہ ہوگا۔

تاہم گیلانی کے مطابق حتمی خلاباز کے انتخاب کا فیصلہ اکتوبر کے وسط سے آخر تک متوقع ہے۔

گیلانی نے روئٹرز کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ جس پائلٹ کا انتخاب ہوگا، وہ روانگی تک پاکستان واپس نہیں آئے گا بلکہ چین میں تربیت مکمل کرنے کے بعد وہیں سے براہِ راست خلا کے لیے روانہ ہوگا اور زمین پر واپسی کے بعد بحالی کے مرحلے کی تکمیل کے بعد وطن واپس آئے گا۔

انہوں نے بتایا کہ تربیت میں چینی زبان کی بھرپور تعلیم، خلائی جہاز کے نظام کو سمجھنا اور مدار میں کم کششِ ثقل کے ماحول کے ساتھ ساتھ خلا میں روانگی کے وقت پیدا ہونے والی شدید جی فورس کا عادی ہونا شامل ہے۔

دونوں پائلٹوں نے تقریباً 20 حتمی امیدواروں کو پیچھے چھوڑتے ہوئے جگہ بنائی، جنہیں ابتدائی طور پر پاکستان سے پائلٹوں اور سائنس دانوں کے ایک بڑے گروپ میں سے منتخب کیا گیا تھا۔

امیدواروں کی فٹنس، نفسیاتی دباؤ برداشت کرنے کی صلاحیت اور جی فورس برداشت کرنے کی اہلیت جانچی گئی۔

سپارکو کے ڈائریکٹر برائے مصنوعی ذہانت عزیر انصاری کے مطابق بہت کم سائنس دانوں میں شدید جی فورس برداشت کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہا ’آپ کو ایسے سائنس دان آسانی سے نہیں مل سکتے جو سفر کرنے اور شدید جی فورس کا سامنا کرنے کے عادی ہوں۔‘

ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ تیز رفتار طیارے اڑانے کا تجربہ رکھنے والے دونوں افراد کو منتخب کیا گیا۔

گیلانی اور انصاری کی فراہم کردہ معلومات سپارکو کی طرف سے پائلٹوں کے انتخاب اور انہیں چین بھیجے جانے کے بعد غیر ملکی میڈیا کو دی جانے والی پہلی تفصیلات ہیں۔

چین کی خلائی ایجنسی نے انتخاب کے عمل سے متعلق تبصرے کے لیے بھیجی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

محدود سائنسی سامان

خلا میں پہنچنے کے بعد منتخب پائلٹ ’پے لوڈ سپیشلسٹ‘ کا عہدہ سنبھالے گا۔ انصاری کے مطابق خلائی اصطلاح میں اس سے مراد ایسا خلاباز ہے جس کی ذمہ داری خلائی جہاز اڑانے کی بجائے مدار میں پاکستان کے سائنسی تجربات کو انجام دینا ہو۔

گیلانی نے بتایا کہ کراچی، لاہور اور اسلام آباد کی جامعات سے ایک سال تک تجاویز طلب کرنے کی مہم کے دوران سپارکو کو 300 سے زیادہ تجاویز موصول ہوئیں، جن میں سے چینی اداروں نے اس پرواز کے لیے چار تجربات منتخب کیے۔

یہ تجربات حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق ہیں اور ان کا مقصد غذائی عدم تحفظ اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں مدد دینا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ہر تجربہ سپارکو کی اپنی تجربہ گاہوں میں تیار اور ابتدائی طور پر آزمایا جاتا ہے، جس کے بعد چینی انجینیئرز اسے حتمی منظوری دیتے ہیں۔

انصاری کے مطابق یہ ایک نایاب مثال ہے کہ پاکستانی ٹیکنالوجی کو بین الاقوامی سطح پر باقاعدہ جانچ اور توثیق حاصل ہو رہی ہے۔

انصاری نے کہا کہ سائنسی سامان کی مقدار اس خلائی سٹیشن کے مقابلے میں محدود ہے، جہاں اب تک 180 سے زیادہ تجربات کیے جا چکے ہیں اور 500 سے زیادہ تحقیقی مقالے اور 150 پیٹنٹس سامنے آ چکے ہیں۔

گیلانی کے مطابق تیان گونگ کے تین ماڈیولز ’تیان ہہ‘، ’وین تیان‘ اور ’مینگ تیان‘ کا مجموعی وزن تقریباً 77 میٹرک ٹن ہے۔

ان میں تقریباً 14 تجرباتی ریک موجود ہیں، جہاں حیاتیاتی علوم، مواد، سیالوں کی طبیعیات، احتراق اور تابکاری کے اثرات سمیت مختلف شعبوں میں تجربات کیے جاتے ہیں۔

ان میں سے بعض آلات سٹیشن کے بیرونی حصے پر نصب ہیں جہاں وہ براہِ راست خلا کے ماحول میں رہتے ہیں اور مواد اور حیاتیاتی ٹیکنالوجی سے متعلق تجربات کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

بیجنگ پر انحصار

پاکستانی خلاباز چینی ساختہ خلائی جہاز کے ذریعے خلا میں جائے گا، جسے چین کے ایک خلائی مرکز سے لانچ کیا جائے گا۔ اس کی تربیت چینی ماہرین دیں گے اور مدار میں رابطے کے لیے مینڈارن زبان استعمال ہوگی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

پاکستان کے پاس اپنا آزاد خلائی لانچ وہیکل یا انسان بردار خلائی جہاز نہیں۔ اس مشن کے دوران پاکستانی خلاباز تقریباً ایک ہفتہ خلا میں رہے گا، جو چین کے مستقل خلابازوں کی تقریباً چھ ماہ کی معمول کی تعیناتی کے مقابلے میں بہت کم مدت ہے۔

پاکستانی خلاباز چین کے ان دو خلابازوں کے ساتھ زمین پر واپس آئے گا جو مئی میں خلائی سٹیشن پہنچے تھے کیونکہ ان کے تیسرے ساتھی کے ایک سال تک وہاں رہنے کی توقع ہے تاکہ خلا میں طویل مدت تک انسانی جسم پر پڑنے والے اثرات کا مطالعہ کیا جا سکے۔

1961 میں یوری گاگارین کی پہلی خلائی پرواز کے بعد سے تقریباً 50 ممالک کے شہری خلا میں جا چکے ہیں لیکن اب تک صرف تین ممالک، روس، امریکہ اور چین، اپنے انسان بردار خلائی جہاز خود خلا میں بھیج چکے ہیں۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چین کسی غیر ملکی خلاباز کو اپنے خلائی مشن کے ذریعے خلا میں لے جائے گا۔

جب گیلانی سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے اسی شراکت داری کے تحت کسی پاکستانی خلاباز کو چاند پر بھیجنے کی یقین دہانی حاصل کی ہے تو انہوں نے کہا ’اس معاملے پر کوئی سرکاری عہد یا بات چیت نہیں ہوئی۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ پیش رفت کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ ’ہمارا پہلا مشن‘ کس طرح مکمل ہوتا ہے۔

چین کے ’چانگ ای 8‘ چاند کے مشن پر تقریباً 2028 میں بھیجا جانے والا پاکستان کا تیار کردہ روور اس تعاون کی ایک الگ کڑی ہے۔

انصاری کے مطابق یہ روور مصنوعی ذہانت پر مبنی سٹیریو امیجنگ استعمال کرے گا تاکہ راستے میں موجود رکاوٹوں کی نشاندہی، گہرائی کا اندازہ اور چاند کی سطح پر اپنا راستہ خود طے کر سکے کیونکہ زمین سے موجود کنٹرولرز حقیقی وقت میں اسے براہِ راست رہنمائی نہیں دے سکتے۔

تاہم انصاری نے واضح طور پر کہا کہ یہ مشن پاکستانی سائنس دانوں کے لیے ’زندگی میں ایک بار ملنے والا موقع‘ ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی سائنس