پاکستان کے سرکاری محکموں میں معلومات تک رسائی (آر ٹی آئی) سے متعلق شکایات کے باوجود پاکستان انفارمیشن کمیشن کے سربراہ کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج (28 ستمبر) کو معلومات تک رسائی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے اور اس موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف نے ایک پیغام بھی جاری کیا ہے۔
بیان کے مطابق ڈیجیٹل دور میں معلومات تک رسائی کا حق مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے اور مستند اور قابل اعتماد معلومات کی بروقت فراہمی، زیادہ شفافیت، مؤثر حقائق کی جانچ پڑتال اور ذمہ دارانہ ابلاغ، معلوماتی انتشار کے تدارک میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان کے آئین کا آرٹیکل 19-A ہر شہری کو عوامی اہمیت کے تمام معاملات میں معلومات تک رسائی کا حق دیتا ہے۔
’اس آئینی ضمانت کو قانون سازی اور ادارہ جاتی انتظامات کے ذریعے شہریوں کی معلومات تک رسائی کے ایک باقاعدہ نظام میں تبدیل کیا گیا ہے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے یقین ظاہر کیا کہ حکومت، میڈیا، سول سوسائٹی، تعلیمی ادارے، ٹیکنالوجی کے ماہرین اور شہری، معلومات کی سالمیت کے تحفظ اور ایک باخبر، ذمہ دار اور شفاف معاشرے کے قیام میں اپنے اپنے کردار ادا کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
پاکستان میں آر ٹی آئی کے متعلقہ قوانین کے تحت کوئی بھی شہری بغیر کسی وکیل اور فیس کے سادہ کاغذ یا ای میل کے ذریعے آر ٹی آئی کی درخواست دے سکتا ہے۔
تاہم عملی طور پر شہریوں کو معلومات کے حصول میں تاخیر، درخواستوں کا جواب نہ ملنا اور بعض سرکاری اداروں کی جانب سے معلومات فراہم نہ کرنا اس حق کے استعمال میں رکاوٹ بنتا نظر آتا ہے۔
وفاقی سطح پر دو ہفتوں میں معلومات فراہم کرنا قانوناً لازمی ہے بصورت دیگر 30 دنوں میں پاکستان انفارمیشن کمیشن کو اپیل کی جا سکتی ہے۔
کمیشن کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق 2018 میں کمیشن کے قیام سے رواں سال اگست تک اسے آٹھ ہزار 21 اپیلیں موصول ہوئیں، جن میں سے 872 اپیلیں زیر کارروائی ہیں اور سات ہزار 149 نمٹا دی گئیں۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ نمٹانے سے ان کی کیا مراد ہے۔
صحافی اور محقق انعم لودھی گذشتہ آٹھ برس میں 400 سے زائد معلومات تک رسائی کی درخواستیں جمع کروا چکی ہیں، لیکن ان میں سے انہیں تقریباً 25 کے ہی جواب موصول ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ اب کافی عرصے سے معلومات تک رسائی کی درخواست جمع کروانے کے باوجود متعلقہ اداروں کی جانب سے تفصیلات موصول نہیں ہوتیں۔
انعم بتاتی ہیں کہ اگر مطلوبہ معلومات مل بھی جائیں تو وہ اکثر ادھوری ہوتی ہیں۔
’کئی مرتبہ متعلقہ ادارے تفصیلات انڈر دی ٹیبل دیتے ہیں، لیکن یہ تفصیلات نہ سرکاری ہوتی ہیں اور نہ ہی قابل تصدیق ہوتی ہیں۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آر ٹی آئی رضاکار رضا علی کہتے ہیں سرکاری افسران کی نوآبادیاتی سوچ معلومات کی فراہمی میں رکاوٹ بنتی ہے، حالانکہ سرکاری معلومات کے اصل مالکان شہری ہیں اور سرکاری ادارے یا افسران صرف اس کے محافظ ہیں۔
رضا سمجھتے ہیں کہ انفارمیشن کمشین کو بجٹ اور عملے کی شدید کمی کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے شکایات کے ازالے اور نوٹسز کے اجرا میں تاخیر ہوتی ہے۔
رضا کہتے ہیں ’تمام آر ٹی آئی قوانین میں اداروں کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے بجٹ، اخراجات اور عملے کی تفصیلات از خود ویب سائٹ پر شائع کریں۔
’اس سے نہ صرف کمیشن پر درخواستوں کا بوجھ کم ہوتا ہے بلکہ فیک نیوز، جعلی نوٹیفیکیشنز اور افواہوں کو روکنے میں بھی مدد ملتی ہے۔‘
پاکستان انفارمیشن کمیشن کے چیف انفارمیشن کمشنر شعیب صدیقی کہا کہنا ہے کہ ملک میں معلومات تک رسائی کا قانون کچھ عرصے میں پختہ ہوا ہے۔
’سرکاری اداروں کی طرف سے جوابات کی تعداد بڑھ گئی ہے، ادارے زیادہ مثبت ردعمل دے رہے ہیں اور قانونی تعمیل میں اضافہ ہوا ہے۔‘
کمیشن کی جانب سے لیے گئے اقدامات سے متعلق انہوں نے کہا کہ جہاں ضروری ہوا، وہاں سخت اقدامات کے ذریعے ان سرکاری اداروں اور افسران کی اصلاح کی گئی تاکہ قانون کے تحت شہریوں کا جو جائز حق بنتا ہے، وہ انہیں فراہم کیا جائے۔
’ہم نے کافی طویل فاصلہ طے کیا ہے اور حالات مسلسل بہتر ہو رہے ہیں۔ اپیلوں کے دائر ہونے سے معاملات کو نمٹانے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور ہم لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں۔‘
ان کا ماننا ہے ’کوئی بھی چیز سو فیصد مکمل نہیں ہوتی اور انسان کو اپنے کام کا تنقیدی جائزہ لینا پڑتا ہے، لیکن ہم اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق شہریوں کو یہ حق فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘