پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعرات کو پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے دو مختلف واقعات میں سب انسپکٹر سمیت دو اہلکار جان سے گئے جبکہ تین پولیس اہلکار اور دو راہ گیر زخمی ہو گئے۔
پنجاب پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ پہلے واقعے میں بادامی باغ کے علاقے میں مسلح ملزمان نے موٹرسائیکل پر سوار پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسد جان سے گئے۔
اس واقعے کے کچھ ہی دیر بعد نواں کوٹ میں ایک کالعدم تنظیم کے دفتر کے قریب فائرنگ کے نتیجے میں تین پولیس اہلکار اور دو راہ گیر زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دونوں واقعات میں ملوث ملزمان فائرنگ کے بعد موقعے سے فرار ہوگئے۔
موقعے سے اکھٹی ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو بھاری اسلحے سے فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہوتے دیکھا جا سکتا ہے۔
لاہور پولیس کے ایک افسر نے بتایا کہ بادامی باغ میں پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کرنے والے تین ملزمان میں ریحان بٹ بھی شامل ہے جبکہ دیگر ملزمان کی شناخت کی جا رہی ہے۔
افسر کے مطابق ریحان بٹ کے بھائی فیضان بٹ بھی پولیس اہلکاروں پر حملوں میں ملوث رہے ہیں اور 2024 میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے تھے۔
ان کے بقول ’بھائی کے مارے جانے کے بعد ریحان بٹ نے آج کے حملے میں جان سے جانے والے سب انسپکٹر عدیل عاشق کو قتل کرنے کی دھمکیاں دی تھیں، جس پر 2024 میں تھانہ شفیق آباد میں مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔‘
— Lahore Police Official (@Lahorepoliceops) August 13, 2026
فرض کی ادائیگی کے دوران جان کا نذرانہ پیش کرنے والے تھانہ لاری اڈا کے سب انسپکٹر عدیل اور ہیڈ کانسٹیبل اسد کو پوری قوم کا سلام!
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران پولیس کی بھاری نفری کے ہمراہ موقع پر موجود… pic.twitter.com/GRM0oxfQ4b
پولیس افسر نے بتایا ’فیضان بٹ کالعدم تنظیم سے وابستہ تھے اور انہیں ایک سب انسپکٹر اور ایک پولیس اہلکار کے قتل کے مقدمے میں تین مئی، 2024 کو لاہور کے علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا تھا۔‘
انہوں نے بتایا ’13 مئی، 2024 کو فیضان بٹ اپنے دو ساتھیوں سمیت ایک مبینہ پولیس مقابلے میں مارے گئے۔
’پولیس کو شبہ ہے کہ ریحان بٹ نے اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لینے کے لیے آج پولیس پر دونوں حملے کیے۔‘
ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق ریحان بٹ کا تعلق کالعدم تحریک طالبان پاکستان سے ہے جبکہ ان کا بھائی فیضان بٹ کچھ عرصہ قبل سی سی ڈی کے ساتھ ایک مبینہ مقابلے میں مارے گئے تھے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ریحان بٹ کی گھر میں موجودگی کی اطلاع پر سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسد نے وہاں چھاپہ مارا تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان کے مطابق ملزمان نے پولیس ٹیم کو دیکھتے ہی فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں سب انسپکٹر عدیل عاشق اور ہیڈ کانسٹیبل محمد اسد جان سے گئے جبکہ ملزمان رکشے میں سوار ہو کر فرار ہو گئے۔
پولیس حکام نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے کر شہر کے مختلف مقامات پر ناکہ بندی کر دی ہے۔
پولیس کے مطابق دونوں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے دیگر ملزمان کی شناخت کی کوشش بھی جاری ہے۔
گذشتہ ایک ماہ کے دوران لاہور میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ تیسرا واقعہ ہے۔
اس سے قبل ایک صحافی کے بیٹے کو عدالت جاتے ہوئے دن دہاڑے مبینہ طور پر پرانی دشمنی کی بنا پر قتل کر دیا گیا تھا۔
اسی طرح 29 جولائی کو پاکستان تحریک انصاف (PTI) اوکاڑہ کے رہنما عبداللہ طاہر کو لاہور کے علاقے گلبرگ میں ایک کلینک کے اندر مسلح افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔