پی ٹی آئی لانگ مارچ: پنجاب اور دیگر صوبوں سے قافلے کیوں نہ جا سکے؟

سب سے زیادہ آبادی کے صوبے پنجاب اور دیگر صوبوں سے مختلف وجوہات کے باعث قافلے روانہ نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے پہلے 27ستمبر پھر چار اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔

عمران خان کے حامیوں کا پانچ نومبر 2022 کو لاہور میں احتجاج (اے ایف پی)

پاکستان کی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف بانی چیئرمین عمران خان کے علاج اور رہائی کا مطالبہ لے کر لانگ مارچ کر رہی ہے۔ لیکن یہ صرف وہیں ہو رہا ہے جہاں کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے۔

سب سے زیادہ آبادی کے صوبے پنجاب اور دیگر صوبوں سے مختلف وجوہات کے باعث قافلے روانہ نہیں ہوسکے۔ تحریک انصاف کی قیادت نے پہلے 27ستمبر پھر چار اکتوبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلان ملک بھر کے لیے تھا۔

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے لاہور میں لانگ مارچ کے لیے کارکنوں کو متحرک کرنے کی غرض سے دورہ بھی کیا۔

پنجاب میں 27ستمبر سے پہلے ہی عمران خان کی بہنوں اور کئی رہنماؤں کو تین ایم پی او کے تحت جیل میں نظر بند کیا جا چکا ہے اور پنجاب حکومت نے 15 اکتوبر تک صوبے میں دفعہ 144نافذ کر دی ہے۔ 

تحریک انصاف اور حکومت کے درمیان مذاکرات کا ایک مرحلہ ناکام ہوچکا ہے۔ تاہم دوبارہ کوششیں جاری ہیں۔

پنجاب سے لانگ مارچ کی کتنی تیاری؟

پی ٹی آئی کی پنجاب سے لانگ مارچ کے لیے تشکیل کمیٹی کے کنوینئر ملک ظہیر عباس کھوکھر نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پنجاب میں حکومت نے ہماری قیادت کی گرفتاریاں کر رکھی ہیں۔ مختلف شہروں میں کریک ڈاؤن جاری ہے۔ دفعہ 144نافذ کر دی گئی ہے اور دھمکیاں لگائی جارہی ہیں۔

’پنجاب یا دوسرے صوبوں سے کارکن اس لیت لانگ میں مارچ میں شرکت کے لیے روانہ نہیں ہوئے کیونکہ قیادت نے ابھی تک آنے کی ہدایت نہیں دی۔ جیسے ہی ہمیں کال دی جائے گی ہم تمام روکاوٹیں عبور کر کے اسلام آباد یا کے پی کے پہنچیں گے۔ البتہ ہمارے کئی رہنما اور کارکن اپنے طور پر کے پی میں لانگ مارچ کے ساتھ ہیں۔‘

تجزیہ کار محمل سرفراز نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’متعدد بار پی ٹی آئی کی کال پر پنجاب میں احتجاج اور ریلیوں کی کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ سہیل آفریدی کے دورہ لاہور کے دوران بھی کارکنوں کی حوصلہ افزا تعداد باہر نہیں نکلی۔ سیاست میں کارکن اور رہنما فائدے کے لیے باہر نکلتے ہیں۔ لیکن بار بار احتجاجی سیاست اور حکومتی کارروائیوں کے باعث اب پنجاب کے رہنما اور کارکن مشکلات کا سامنا کرنے سے گریز کر رہے ہیں۔‘

محمل کے بقول،’تحریک تحفظ آئین پاکستان نے بھی پی ٹی آئی کو سمجھایا ہے کہ ملک کے دوسرے صوبوں سے لانگ میں شرکت کے لیے کارکنوں کو بلا کر ٹکراؤ پیدا نہ کیا جائے۔ حکومت کا ردعمل بھی اس بار پہلے سے زیادہ سخت ہوگا جس سے مزاکرات کا ماحول پہلے ہی خراب ہوجائے گا۔ لہذا کے پی کے میں ہی رکھیں وہاں سے اسلام آباد کی طرف فوری بڑھنے کی بجائے مطالبات منوانے کی کوشش کی جائے۔ لہذا تحریک انصاف بھی اب ایک حد تک دباؤ چاہتی ہے تاکہ نو مئی جیسے حالات پیدا نہ ہوں۔‘

پنجاب میں تنظیم کتنی متحرک؟

تجزیہ کار سلمان غنی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’احتجاجی اور مزاحمتی بیانیہ ہمیشہ سے پی ٹی آئی کی پہچان رہا ہے۔  ماضی میں وہ اسے بروئے کار لا کرحکومتوں کو دفاعی محاذ پر لاتی رہی ہے۔ اس کے پیچھے بہت سے عوامل تھے مگر پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمہ کے بعد پی ٹی آئی کی احتجاجی لائحہ عمل اور ریاست مخالف بیانیہ نے ان کے لیے مشکلات کھڑی کیں۔ ریاست اور حکومت نے اس باردباو میں آنے اور سرنڈر کرنے سے انکار کر دیا۔ خود پی ٹی آئی کی سیاست کے آگے بہت سے سوالات کھڑے ہوگئے۔‘

بقول سلمان ’پر تشدد مزاحمتی سیاست سے پنجاب میں پی ٹی آئی کی قیادت یا تو جیلوں میں قید ہوگئی اور باقی کنارہ کشی کر گئی۔ یہی وجہ ہے کہ اب ماضی کی طرح پنجاب میں حکومت رہنے کے باوجود سٹریٹ پاور اتنی متحرک نہیں رہی۔ پھر پنجاب کے لوگ احتجاجی سیاست سے تنگ بھی آچکے ہیں اس لیے ہر کال پر لبیک نہیں ہورہا۔‘

سلمان غنی کے بقول، ’نو مئی کے واقعات نے تو حکومت اور ریاست کے لیے ایسی خطرے کی  گھنٹی بجائی کہ پھر پی ٹی آئی کے احتجاج ،دھرنوں اور لانگ مارچز عملی نتیجہ خیز نہ ہوسکے۔  ان کی سیاسی طاقت میں کمی آئی اور خصوصا بانی پی ٹی آئی کے بیانات اور اعلانات نے بہت سے سوالات کھڑے کر دیے۔

’اس وقت دیکھنے میں آ رہاہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاجی لانگ مارچ صرف پختونخواہ تک محدود نظر آ رہا ہے۔  اس لیے کہ ان کی وہاں ان کی حکومت ہے۔ خود حکومت پر اپنے عوام کو جوابدہی کی بجائے احتجاجی بخار میں مبتلا  نظر آ رہی ہے۔‘

غنی نے کہا کہ ’دوسرے صوبوں خصوصا پنجاب میں سانپ سونگھا نظر آ رہا ہے بلا شبہ یہاں انکی لیڈر شپ جیل میں ہے اور حکومت کی انتظامی گرپ بھی مضبوط ہے ۔مگر پنجاب سے بڑی تعداد میں ووٹ بنک رکھنے کے باوجود پنجاب میں تحریک موجود نھی۔

اسے عدم دلچسپی میں بدلنے  کی بڑی وجہ بانی پی ٹی آئی کی غیر سیاسی پالیسی رہی۔  ہمدری کے باوجود ریاست اور اداروں کے حوالہ سے تحفظات نے عوام کو سوچنے پر مجبور کیاہے کہ یہ ایجنڈا سیاسی نہیں۔ لہذا ان کے اپنے لوگ اور ووٹرز خاموش ہوگئے  یہی کیفیت سندھ اور بلوچستان میں نظر آ رہی ہے۔‘

سلمان غنی کے بقول: ’پی ٹی آئی نے خود اپنی سیاست اور احتجاج کو اپنے صوبہ تک محدود کر لیا ہے اور پنجاب کو کسی خاطر میں لانے کو تیار نہیں تو پھر پنجاب کے اراکین اسمبلی اور ذمہ داران بھی کوئی بڑا کردار ادا کرنے کے موڈ میں نہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

’جب احتجاج کا عمل آتا ہے وہ منظر سے غائب ہو جاتے ہیں ۔ ویسے بھی اراکین اسمبلی میں مایوسی کی ایک بڑی وجہ پارلیمنٹ کی سطح پر اپنی جماعت کے اپوزیشن لیڈر نہ ہونا ہیں۔ اراکین اسمبلی سمجھتے ہیں کہ جب پارٹی لیڈر کو ہم پر اعتماد نہیں  تو وہ ان اپوزیشن لیڈرز سے نتائج بھی لے لیں ۔ ویسے بھی پنجاب کے محاذ پر سلمان اکرم راجہ کا تعلق لاہور سے ہونے کے باوجود ان کی سرگرمیوں کا مرکز لاہور نہیں رہا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر یہ کہا جائے کہ پنجاب میں بڑا ووٹ بینک رکھنے کے باوجود سیاسی محاذ پر خاموشی کے عمل نے خود پی ٹی آئی کی احتجاجی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

 سلمان کے خیال میں پختونخواہ کا احتجاجی عمل اس لیے نتیجہ خیز اور موثر نہیں سمجھا جاتا کیونکہ  وہاں  ان کی اپنی حکومت اوروسائل ہیں۔  لیکن اسلام آباد میں سیاسی تبدیلی کا راستہ ہمیشہ لاہور سے یا پنجاب سے ہوکر جاتا ہے۔ ماضی میں پنجاب سے چلنے والی ہر تحریک کامیاب ہوئی اس لیے جب تک پنجاب متحرک نہیں ہوگا پی ٹی آئی کی بھی کوئی تحریک کامیاب نہیں ہوسکتی۔"

زیادہ پڑھی جانے والی سیاست