پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے جمعرات کو یمن کے حوثیوں کے خلاف پاکستان ایئر فورس کے طیاروں کے استعمال سے متعلق نیویارک ٹائمز کی خبر کو ’جعلی اور من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔
امریکی اخبار نے ایک سینیئر پاکستانی فوجی عہدیدار کے حوالے سے خبر شائع کی جس میں انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بدھ کو دعویٰ کیا تھا کہ ’پاکستان ایئر فورس کے جنگی طیارے حوثیوں کے خلاف حملوں میں استعمال کیے جا رہے ہیں۔‘
NYT above referred story attributing employment of PAF aircraft against Houthis is fake and fabricated. International Media houses are again asked to avoid speculative reporting with regards to employment of Pakistan's Military Forces under Makkah Joint Defence Agreement. Details of any employment, if necessary will be given by concerned authorities.
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 8, 2026
نیویارک ٹائمز نے اپنی خبر میں پاکستان میں امریکی فوج کے سابق اتاشی اور امریکی ڈیفنس انٹیلی جنس ایجنسی کے سابق اعلیٰ تجزیہ کار کرنل ڈیوڈ او اسمتھ کا حوالہ دیتے ہوئے بھی رپورٹ کیا کہ ’اگرچہ انہیں خفیہ اعداد و شمار تک رسائی حاصل نہیں، تاہم تجزیہ کاروں میں اس بات پر اتفاق رائے ہے کہ تقریباً 8 ہزار پاکستانی فوجی سعودی عرب میں تعینات کیے گئے ہیں۔‘
تاہم پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’جھوٹ اور من گھڑت‘ قرار دیا ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وزارت اطلاعات نے جمعرات کو ایکس پر جاری اپنے فیکٹ چیک بیان میں کہا کہ نیویارک ٹائمز کی خبر میں حوثیوں کے خلاف پاکستانی فضائیہ کے طیاروں کے استعمال کا دعویٰ بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔
بیان میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سے ایک بار پھر کہا گیا ہے کہ ’وہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت پاکستان کی مسلح افواج کے ممکنہ استعمال سے متعلق قیاس آرائیوں پر مبنی رپورٹنگ سے گریز کریں۔‘
وزارت اطلاعات نے واضح کیا کہ ’اگر پاکستانی مسلح افواج کو کسی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی ضرورت پیش آئی تو اس کی تفصیلات متعلقہ حکام فراہم کریں گے۔‘
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے 6 اکتوبر 2026 کو ریاض میں مکہ دفاعی اتحاد کی سٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ مملکت میں فوری طور پر مشترکہ فوجی دستے اور ضروری فوجی صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔
اس حوالے سے پاکستانی فوج نے بدھ کو مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب میں اپنی افواج کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستانی فوجی کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
پاکستانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو انٹرویو میں کہا کہ ’ہم، پاکستان کی افواج، پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ یہ بات میں آپ کے ساتھ شیئر کر سکتا ہوں۔‘